عارف الااسلام : گوہاٹی
صلاحیت کا عمر اور جغرافیائی حدود سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ آسام کے ضلع کامروپ کے رنگیا علاقے کے گاؤں ساہن کی 15 سالہ تناج سائیکیا نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور ادبی ذوق سے اس بات کو ثابت کر دیا ہے۔ دسویں جماعت کی طالبہ تناج نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف اپنے علاقے بلکہ پورے آسام کا نام روشن کیا ہے۔تناج کی شاعری کا مجموعہ ’دی برننگ لائٹ‘ ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ اسی مجموعے کے لیے انہیں حال ہی میں قومی سطح کے باوقار ’لیگیسی آف لٹریسی‘ ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ کم عمری میں اس اعزاز کا حصول ان کی ادبی صلاحیت اور محنت کا نمایاں اعتراف ہے۔
رنگیا کے ماڈرن پبلک اسکول میں زیر تعلیم تناج نے آواز دی وائس سے گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے ایک سال قبل اپنا شعری مجموعہ شائع کیا تھا جس میں تقریباً 50 نظمیں شامل ہیں۔ انہوں نے ’لیٹریچر ٹائمز‘ کے زیر اہتمام دیے جانے والے ایوارڈ کے لیے آن لائن درخواست دی تھی۔ ان کا شعری مجموعہ نامزد ہوا اور بالآخر انہیں یہ اعزاز حاصل ہوگیا۔تناج کے مطابق انہیں ایوارڈ ملنے کی توقع نہیں تھی۔ اس کامیابی نے ان کا اعتماد بڑھایا ہے اور انہیں ادب کے میدان میں مزید کام کرنے کی ترغیب دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ شاعری لکھنے کا شوق انہیں پانچویں جماعت میں پیدا ہوا۔ ان کے بڑے بھائی بھی شاعری کرتے ہیں اور انہیں دیکھ کر ہی تناج نے لکھنا شروع کیا۔ ان کےیال میں نوجوانوں کے ذہن میں بہت سے ایسے خیالات اور احساسات ہوتے ہیں جنہیں وہ دوسروں کے سامنے بیان نہیں کر پاتے۔ انہوں نے انہی ان کہے احساسات کو شاعری کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی۔

تناج اب تک 200 سے زیادہ نظمیں لکھ چکی ہیں۔ ان میں سے 50 نظمیں کتابی شکل میں شائع ہو چکی ہیں جبکہ باقی نظموں کو بھی مستقبل میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ان کی صلاحیتیں صرف شاعری تک محدود نہیں ہیں۔ انہیں موسیقی اور فنون لطیفہ سے بھی گہری دلچسپی ہے۔ وہ انگریزی میں شاعری کرنے کے ساتھ گلوکاری اور ساز بجانے کا ہنر بھی رکھتی ہیں۔ فی الحال وہ موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کر رہی ہیں اور فارغ وقت میں گٹار اور ہارمونیم بجاتی ہیں۔تناج کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گیت خود لکھنا چاہتی ہیں اور ان کی دھنیں تیار کرنے کے ساتھ انہیں اپنی آواز میں گانا بھی چاہتی ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ مستقبل قریب میں اپنا میوزک البم ریلیز کریں۔ انہیں یقین ہے کہ مناسب تربیت اور مسلسل مشق سے وہ اپنے اس خواب کو پورا کر سکیں گی۔
ان کے مطابق شاعری اور موسیقی سے وابستگی انہیں ذہنی سکون فراہم کرتی ہے اور پڑھائی میں توجہ بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ان سرگرمیوں سے انہیں دسویں جماعت کے امتحان کی تیاری میں بھی فائدہ مل رہا ہے۔تناج کی کامیابی میں ان کے والدین کی حوصلہ افزائی اور تعاون کا اہم کردار ہے۔ گاؤں کے ایک عام سے گھرانے سے قومی سطح پر شناخت بنانے تک کا سفر آسان نہیں تھا۔ تاہم والدین نے ہر مرحلے پر ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے بھرپور تعاون کیا۔


ان کے والد ڈاکٹر عبدالسلام کا کہنا ہے کہ تناج کی کامیابی سے پورا خاندان خوش ہے۔ ابتدا میں انہیں لگتا تھا کہ ان کی بیٹی محض شوق کے طور پر شاعری کرتی ہے۔ لیکن کم عمری میں ملنے والی پذیرائی نے انہیں بھی حیران کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب وہ تناج کی نظمیں پڑھتے ہیں تو کئی مرتبہ مشکل الفاظ کے معنی بیٹی سے پوچھنے پڑتے ہیں۔ ان کی شاعری میں اس عمر کے لحاظ سے غیر معمولی گہرائی اور فکر پائی جاتی ہے۔ انہیں یقین ہے کہ تناج مستقبل میں ادب کی دنیا میں مزید آگے جائے گی۔ڈاکٹر عبدالسلام کا کہنا ہے کہ والدین کو بچوں کی سوچ اور اظہار پر غیر ضروری پابندیاں نہیں لگانی چاہئیں۔
ان کے مطابق معاشرے میں اکثر بچوں کو اپنی بات کھل کر کہنے کا موقع نہیں ملتا جس کے باعث ان کی بہت سی صلاحیتیں سامنے آنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہیں۔تناج مستقبل میں ایک کامیاب اور معروف ادیبہ بننا چاہتی ہیں۔ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے پر مثبت اثر ڈالنے اور ادب میں بامعنی کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ ان کی کامیابی کم عمری میں خواب دیکھنے اور انہیں محنت کے ذریعے حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرنے والے بچوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔
