عرشیہ پروین: جے پور کی گلیوں سے قومی تھیٹر کے اسٹیج تک

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-09-2026
عرشیہ پروین: جے پور کی گلیوں سے قومی تھیٹر کے اسٹیج تک
عرشیہ پروین: جے پور کی گلیوں سے قومی تھیٹر کے اسٹیج تک

 



 فرحان اسرالی / جے پور

جے پور کے رام گنج بازار کی تنگ گلیوں میں پرورش پانے والی پروین کی کہانی جدوجہد اور عزم کی ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔ ایک روایتی مسلم خاندان میں پیدا ہونے والی عرشیہ نے سماجی طنز، قدامت پسند سوچ اور مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ہندوستانی تھیٹر میں اپنی ایک مضبوط شناخت قائم کی۔ گزشتہ 15 برس سے زائد عرصے سے وہ تھیٹر کے تقریباً ہر شعبے سے وابستہ رہی ہیں، جن میں ہدایت کاری، اداکاری، ملبوسات کی ڈیزائننگ، روشنیوں کی ترتیب اور اسکرپٹ رائٹنگ شامل ہیں۔

عرشیہ کے والدین رضا حسین اور رائسہ بانو جے پور کے تاریخی فصیل بند شہر میں رہتے ہیں۔ تین بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر آنے والی عرشیہ کے نام کا مطلب ’’آسمان کی بلندیوں پر رہنے والی‘‘ ہے، لیکن ان کی ابتدائی زندگی مشکلات اور مالی پریشانیوں سے بھری ہوئی تھی۔

خاندان کا گزر بسر محنت مزدوری سے ہوتا تھا۔ مالی مشکلات کے باعث عرشیہ نے دسویں جماعت سے ہی اپنی والدہ کا ہاتھ بٹانے کے لیے سلائی اور کڑھائی کا کام شروع کردیا تھا۔ اس دور میں ان کے علاقے میں اکثر لڑکیوں کو ساتویں یا آٹھویں جماعت سے آگے تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی، لیکن عرشیہ نے اپنی غیر تعلیم یافتہ والدہ کی حمایت سے گریجویشن مکمل کیا۔

2008 میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد عرشیہ نے جے پور کے ایک نجی اسکول میں کمپیوٹر ٹیچر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ جب وہ برقع پہن کر اسکول جانے لگیں تو محلے کے لوگوں نے ان کے فیصلے پر سوال اٹھانا شروع کردیا۔

کئی لوگوں نے ان کی والدہ کو مشورہ دیا کہ وہ بیٹی کو گھر پر رکھیں اور اسے سلائی سکھائیں۔ مسلسل طنز اور طعنوں سے تنگ آکر عرشیہ نے برقع پہننا ترک کرنے کا مشکل فیصلہ کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ حیا کا تعلق صرف لباس سے نہیں بلکہ نگاہ اور نیت سے بھی ہے۔ ان کے اس فیصلے کی مخالفت خاندان اور معاشرے دونوں جانب سے ہوئی، لیکن ان کی والدہ خاموشی کے ساتھ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہیں۔

2009 میں اسکول میں ملازمت کے دوران عرشیہ کی ملاقات تھیٹر کی معروف شخصیت ہیم چندر (راجو) تامنکر سے ہوئی، جنہیں وہ احترام سے ’’دادا‘‘ کہتی تھیں۔ راجو تامنکر مراٹھی اور ہندی تھیٹر کی ایک معروف شخصیت تھے۔

انہوں نے بالی ووڈ کے معروف اداکاروں عرفان خان اور ملند سومن سمیت کئی اہم فنکاروں کے ساتھ کام کیا تھا۔ اسی دوران عرشیہ کی والدہ فالج کے حملے کا شکار ہوگئیں۔ والدہ کی بیماری کے بعد گھر کی پوری ذمہ داری عرشیہ کے کندھوں پر آگئی۔ اس مشکل دور میں راجو تامنکر ان کے خاندان کے سرپرست اور رہنما بن گئے۔

والدہ کے انتقال کے بعد عرشیہ ڈپریشن میں چلی گئیں۔ اسی دوران ان کے گرو دادا نے انہیں اس مشکل مرحلے سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے تھیٹر کی دنیا سے متعارف کرایا۔ ابتدا میں عرشیہ نے اداکاری سے انکار کردیا اور پردے کے پیچھے کام کرنے کو ترجیح دی۔ 2010 میں انہوں نے ملبوسات کی ڈیزائننگ سے تھیٹر کا سفر شروع کیا۔ 2011 میں ڈراما ’’بھارت ماتا‘‘ کے لیے انہیں بہترین ملبوسات کا ایوارڈ ملا۔ رفتہ رفتہ انہوں نے موسیقی اور لائٹنگ ڈیزائن میں بھی مہارت حاصل کرلی۔

2014 میں آگرہ میں منعقدہ ایک قومی مقابلے کے دوران ایک ڈرامے کی مرکزی اداکارہ شرکت نہیں کرسکیں۔ عرشیہ کو مجبوری میں مرکزی کردار ادا کرنا پڑا اور انہوں نے قومی سطح پر تیسری پوزیشن حاصل کی۔

اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 2015 ان کے کیریئر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں انہوں نے ڈاکٹر شنکر شیش کے معروف ڈرامے ’’رت بیج‘‘ میں دوہرا کردار ادا کیا۔ یہ ڈراما ملک بھر میں 26 مرتبہ پیش کیا جاچکا ہے اور اسے 12 سے زائد قومی ایوارڈ مل چکے ہیں۔

اسی سال عرشیہ نے پہلی مرتبہ دادا کے تحریر کردہ ڈرامے ’’پراہری‘‘ کی ہدایت کاری کی۔ ہندوستان-پاکستان سرحد پر تعینات فوجیوں کی نفسیاتی کیفیت پر مبنی اس ڈرامے کو ملک کی مختلف ریاستوں میں 40 سے زائد قومی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ اب تک اس ڈرامے کے 36 شوز ہوچکے ہیں۔

عرشیہ کے تھیٹر سفر میں ایک دلچسپ اتفاق بھی رہا۔ 2009 میں انہوں نے رویندر منچ میں بطور ناظر دادا کا ڈراما ’’انتردوند‘‘ دیکھا تھا۔ ٹھیک 10 برس بعد، 2019 میں انہیں اسی ڈرامے میں مرکزی اداکارہ کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ 2026 میں انہوں نے خود اس ڈرامے کی ہدایت کاری بھی کی۔ سروگیسی جیسے سنجیدہ موضوع پر مبنی یہ ڈراما اب ممبئی سمیت بڑے شہروں میں پیش کیا جارہا ہے۔

تھیٹر کے سفر کے دوران عرشیہ کو مسلسل سماجی قدامت پسندی کا سامنا کرنا پڑا۔ معاشرے کے بعض حلقوں کو یہ بات ناگوار گزرتی تھی کہ ایک مسلم خاتون رات گئے اپنے ساتھی فنکاروں کے ساتھ ریہرسل کرتی ہے اور ڈراموں کی پیش کش کے لیے دوسرے شہروں کا سفر کرتی ہے۔

ابتدا میں عرشیہ اپنے ہی شہر جے پور میں پرفارم کرنے سے ہچکچاتی تھیں۔ تاہم اپنی محنت اور صلاحیت کے ذریعے انہوں نے اپنے ناقدین کو خاموش کردیا۔ آج وہ کسی سرکاری گرانٹ کے بغیر تامنکر تھیٹر اکیڈمی کے ذریعے راجستھان میں غیر تجارتی تھیٹر کو زندہ رکھنے کے لیے کام کررہی ہیں۔

تھیٹر کے ساتھ ساتھ عرشیہ نے تحریر اور سماجی خدمت میں بھی دلچسپی پیدا کی۔ انہوں نے راجستھان ٹورزم کے لیے بانسواڑہ اور ڈونگرپور کے قبائلی علاقوں پر تحقیق پر مبنی فیچر تحریر کیے ہیں۔ وہ دہلی کے ایک میڈیا ادارے کے لیے باقاعدگی سے ایک کالم بھی لکھتی ہیں۔

2013 سے عرشیہ جے پور کی سماجی تنظیم ’’رے ز‘‘ (RAYS) سے وابستہ ہیں۔ یہ تنظیم ایچ آئی وی سے متاثرہ اور لاوارث بچوں کی بازآبادکاری کے لیے کام کرتی ہے۔ عرشیہ یہاں بچوں کی کونسلر اور تھیٹر ٹیچر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتی ہیں۔

اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے عرشیہ نے یونیورسٹی آف راجستھان سے پوسٹ گریجویشن مکمل کیا اور بعد ازاں چنئی کے بھارت سیوک سماج سے فلم اور تھیٹر اداکاری میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ وہ ملک کی 18 سے زائد ریاستوں میں اپنی تھیٹر صلاحیتوں کا مظاہرہ کرچکی ہیں۔

 

انہیں گوا، آسام، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ اور اترپردیش میں منعقد ہونے والے مختلف قومی تھیٹر فیسٹیولز میں اعزاز سے نوازا جاچکا ہے۔ حال ہی میں انہیں آل انڈیا کلچر فاؤنڈیشن کی قومی سکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔

31 جنوری 2025 کو ان کے سرپرست راجو تامنکر کا انتقال ہوگیا۔ اپنے گرو کے انتقال کے باوجود عرشیہ نے ان کے مشن کو رکنے نہیں دیا۔ انہوں نے ’’ہیم چندر راجو تامنکر اسمرتی نٹیہ سماروہ‘‘ کا انعقاد کیا، جس میں سولو ڈراما ’’ویاتھا انگ راج کرن کی‘‘ کامیابی کے ساتھ پیش کیا گیا۔ وہ اس وقت تامنکر تھیٹر اکیڈمی کی جنرل سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔

عرشیہ پروین کا حتمی مقصد ان محروم لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کرنا ہے جو سماجی دباؤ کے باعث اسکول چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ وہ تھیٹر کو مالی طور پر مضبوط بنانا اور ابھرتے ہوئے فنکاروں کے لیے ایک بہتر پلیٹ فارم بھی تیار کرنا چاہتی ہیں۔

جے پور کی تنگ گلیوں سے قومی تھیٹر کے اسٹیج تک عرشیہ پروین کا سفر ہر اس خاتون کے لیے حوصلہ افزا داستان ہے جو اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔