آفریں کا عزم۔ دو سمندری راستے فتح کرنے کے بعد سات سمندروں کا خواب

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 22-09-2026
آفریں  کا عزم۔ دو سمندری راستے فتح کرنے کے بعد سات سمندروں کا خواب
آفریں کا عزم۔ دو سمندری راستے فتح کرنے کے بعد سات سمندروں کا خواب

 



شانتی پریا رے چودھری

صرف 21 سال کی عمر میں مغربی مدناپور کی آفرین جابی طویل فاصلے کی تیراکی میں اپنی شناخت بنا چکی ہیں۔ انگلش چینل اور پالک اسٹریٹ عبور کرنے کے بعد اب وہ کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب واقع کیٹالینا چینل کو عبور کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔آفرین جابی مغربی مدناپور کے مدناپور شہر کی رہائشی ہیں اور مدناپور سوئمنگ کلب کی رکن ہیں۔ تاہم ان کا آبائی گھر مغربی مدناپور کے کھڑگ پور 2 بلاک کے چوپینا گاؤں میں ہے۔آج آفرین صرف مدناپور یا بنگال کی طویل فاصلے کی تیراکی کی ایک ابھرتی ہوئی اسٹار نہیں ہیں بلکہ وہ ہندوستان کی امید افزا اوپن واٹر تیراکوں میں بھی شامل ہیں۔مغربی مدناپور کی اس نوجوان تیراک نے انگلش چینل اور ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان واقع پالک اسٹریٹ کو عبور کرکے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ اب وہ کیلیفورنیا میں کیٹالینا چینل کو عبور کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہ چیلنج وہ رواں سال 22 ستمبر کو انجام دینے والی ہیں۔اس سے قبل آفرین نے 29 جولائی 2025 کو کامیابی کے ساتھ انگلش چینل عبور کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے رواں سال 9 مئی کو ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان پالک اسٹریٹ بھی عبور کی۔

ریاستی اور قومی سطح سے شروع ہوا سفر

بین الاقوامی سطح پر طویل فاصلے کی تیراکی کا سفر شروع کرنے سے پہلے ہی آفرین ریاستی اور قومی سطح پر کئی کامیابیاں حاصل کرچکی تھیں۔ان کی نمایاں کامیابیوں میں مغربی بنگال کے عمر کے مختلف گروپوں کے تیراکی مقابلوں میں حاصل کیے گئے کئی تمغے شامل ہیں۔ انہوں نے ریاستی سطح کی عمر گروپ سوئمنگ چیمپئن شپ میں متعدد تمغے جیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکول سطح کے تیراکی مقابلوں میں بھی ان کی کارکردگی نمایاں رہی ہے۔ان شاندار کارکردگیوں کی بنیاد پر انہیں دو مرتبہ قومی آبی کھیل چیمپئن شپ میں بنگال کی نمائندگی کا موقع ملا۔ یونیورسٹی سطح پر انہوں نے ودیاساگر یونیورسٹی کی جانب سے آل انڈیا انٹر یونیورسٹی آبی کھیل چیمپئن شپ میں تین مرتبہ حصہ لیا۔آفرین نے نیشنل اسکول گیمز فیڈریشن اور باوقار کھیلو انڈیا پروگرام کے زیر اہتمام مقابلوں میں بھی حصہ لیا اور تمغے جیتنے کے ساتھ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔بین الاقوامی طویل فاصلے کی تیراکی کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے آفرین نے قومی سطح پر بھی اپنی صلاحیت ثابت کی۔ انہوں نے گنگا میں منعقد ہونے والے دنیا کے سب سے طویل 81 کلومیٹر کے میراتھن سوئمنگ مقابلے میں خواتین کے زمرے میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ وہ 13 کلومیٹر 21 کلومیٹر اور 24 کلومیٹر کے اوپن واٹر تیراکی مقابلے بھی کامیابی کے ساتھ مکمل کرچکی ہیں۔

تعلیم اور تیراکی ساتھ ساتھ

آفرین نے تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فزیکل ایجوکیشن کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ اس سے قبل وہ مدناپور کالج کے شعبہ سماجیات کی طالبہ تھیں اور مختلف تیراکی مقابلوں میں ودیاساگر یونیورسٹی کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔انگلش چینل اور پالک اسٹریٹ کو عبور کرنے کے باوجود یہ باصلاحیت تیراک اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی بین الاقوامی تیراکی کے چیلنجز کے لیے سخت تربیت بھی لے رہی ہیں۔

مالی مشکلات کا مقابلہ

آفرین کا کھیل اور تعلیم میں کامیابی کا سفر آسان نہیں رہا۔ انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ مشکلات اب بھی برقرار ہیں۔ایک متوسط طبقے کے خاندان سے تعلق رکھنے والی آفرین ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ شیخ پیار علی کی بیٹی ہیں۔ بیٹی کی تعلیم اور تیراکی کی تربیت کے اخراجات پورے کرنا ان کے لیے دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ہر بین الاقوامی چینل کو عبور کرنے پر کئی لاکھ روپے خرچ ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں رقم کا انتظام خاندان کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں شامل ہوگیا ہے۔

پیئر علی کہتے ہیں کہ ایک طرف انہیں اپنی بیٹی کی باقاعدہ تربیت جاری رکھنے کو یقینی بنانا ہے اور دوسری طرف اس کے لیے رقم کا انتظام کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے کاروبار سے اتنے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مختلف ذرائع سے ملنے والی مالی مدد بھی کافی نہیں ہے۔انہوں نے حکومت سے بھی کچھ مدد کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی صاحب استطاعت لوگوں سے آگے آنے کی درخواست کی ہے تاکہ ان کی بیٹی مدناپور جیسے شہر میں رہتے ہوئے بھی ’’سات سمندروں‘‘ کو فتح کرنے کی اپنی مہم جاری رکھ سکے۔

آفرین کے والد شیخ پیار علی اور والدہ صابرہ پروین نے ہر ممکن طریقے سے ان کے تیراکی کے سفر میں ان کا ساتھ دیا ہے۔آفرین کہتی ہیں کہ فلم کونی کے کردار کھدہ کی طرح ان کے والد پیار علی بھی ان کی رہنمائی کرنے والی طاقت ہیں۔ جب وہ طاقتور سمندری لہروں کا سامنا کرتی ہیں تو ان کے والد مسلسل ان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’فائٹ جابی فائٹ‘‘

سات سمندروں کو فتح کرنے کا خواب

آفرین جابی بنگال اور ہندوستان کے لیے فخر کا باعث بن چکی ہیں۔ انہیں مغربی مدناپور کی ’’الیکشن آئیکون‘‘ کے طور پر بھی شناخت ملی ہے۔ انگلش چینل اور پالک اسٹریٹ کو عبور کرنے کے بعد اب کیٹالینا چینل کو عبور کرنا ان کا اگلا بڑا ہدف ہے۔تاہم ان کا حتمی خواب اس سے کہیں بڑا ہے۔آفرین کہتی ہیں کہ ان کی زندگی کا آخری مقصد دنیا کے سات مشکل ترین چینلز یا آبنائے کو عبور کرنا اور ’’سات سمندروں‘‘ کو فتح کرکے عالمی ریکارڈ قائم کرنا ہے۔فی الحال یہ نوجوان اوپن واٹر تیراک اپنے اگلے بڑے چیلنج کی تیاری کر رہی ہیں اور اس سفر کے لیے سب کی دعاؤں اور نیک خواہشات کی منتظر ہیں۔