
محمد فہد
’’لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔‘‘ — ایک مشہور حدیثِ نبویؐ ہے۔
اسلامی زندگی میں خیرات و سخاوت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ زکوٰۃ، صدقہ، وقف اور خاموشی سے کی جانے والی بے شمار مالی عطیات اسی جذبے کا حصہ ہیں۔ اس کے باوجود ہندوستانی مسلمان تقریباً تمام سماجی اور معاشی پیمانوں پر پیچھے نظر آتے ہیں۔ تعلیم، صحت، باقاعدہ روزگار، کاروبار، خواتین کی ملازمت اور اعلیٰ تعلیم میں نمائندگی جیسے شعبوں میں ان کی صورت حال اب بھی تشویش ناک ہے۔
_(1).gif)
ہر رمضان میں ہندوستان بھر میں خیرات اور عطیات کی مد میں ہزاروں کروڑ روپے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ مساجد میں چندہ جمع کرنا مشکل نہیں، مذہبی مقاصد کے لیے اپیل کی جائے تو لوگ فوراً آگے آتے ہیں اور جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو مسلمان امداد کرنے والوں میں پیش پیش رہتے ہیں۔لیکن اس تضاد پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ مسلمان کم خیرات کرتے ہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ان کی فلاحی سرگرمیوں کے تحت خرچ ہونے والی ایک بڑی رقم معاشرے کی تعمیر و ترقی کے بجائے مذہبی سرگرمیوں اور رسومات پر صرف ہو رہی ہے۔
آج صورت حال یہ ہے کہ بار بار عمرہ کرنے، ایسی جگہوں پر نئی مذہبی عمارتیں تعمیر کرنے جہاں پہلے ہی مناسب تعداد میں ادارے موجود ہیں، بڑے بڑے مذہبی اجتماعات اور تقریبات پر بے دریغ خرچ کیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں، تحقیقی اداروں، وظائف، ہنر مندی کے مراکز اور معاشی خود کفالت کے منصوبوں پر اتنی توجہ نہیں دی جا رہی جتنی دی جانی چاہیے۔ یہ بات اسلام یا مذہبی اداروں کے خلاف نہیں کہی جا رہی ہے۔ نہ ہی ان لوگوں پر تنقید مقصود ہے جو خلوص کے ساتھ عمرہ کرتے ہیں یا مساجد اور مدارس کے لیے عطیات دیتے ہیں۔ اصل مقصد اسلام کی اس قدیم روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی اپیل کرنا ہے جس میں تعلیم، صحت، سائنسی تحقیق اور عوامی فلاح کو بھی عبادت ہی کی طرح اہم سمجھا جاتا تھا۔

خیرات میں فراخ دل، اداروں کے معاملے میں کمزور معاشرہ
سچرکمیٹی رپورٹ جو2006 میں پیش کی گئی نے ہندوستان میں مسلمانوں کی سماجی اور معاشی حالت کی ایک تشویش ناک تصویر پیش کی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اعلیٰ تعلیم، سرکاری ملازمتوں، بینکنگ کی سہولتوں اور منظم شعبے کے روزگار میں مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے کم ہے۔ اس کے بعد قومی نمونہ جاتی سروے اور پیریاڈک لیبر فورس سروے کے اعداد و شمار سے بعض شعبوں میں بہتری کے آثار ضرور سامنے آئے ہیں، لیکن تعلیمی اور معاشی میدان میں مسلمانوں اور قومی اوسط کے درمیان فرق اب بھی نمایاں ہے۔
شمالی ہند کے بہت سے مسلم محلوں کا جائزہ لیجیے۔ تھوڑی تھوڑی دوری پر کئی مساجد نظر آئیں گی، ایک ہی علاقے میں متعدد مدارس ہوں گے اور نئے مذہبی اداروں کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہمات بھی اکثر چلتی رہتی ہیں۔ لیکن اسی محلے میں شاید کوئی معیاری انگریزی میڈیم اسکول، عوامی کتب خانہ، مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کوچنگ سینٹر، فنی تعلیم کا ادارہ یا مناسب سہولتوں والا صحت مرکز موجود نہ ہو۔ اس عدم توازن کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات درست کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں؟
بار بار عمرہ کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان
گزشتہ دو دہائیوں میں آمدنی میں اضافے اور بین الاقوامی سفر کی سہولتیں آسان ہونے کے باعث متوسط اور خوش حال طبقے کے مسلمانوں کے لیے عمرہ کرنا پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ جس شخص نے کبھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت نہ کی ہو، اس کی عمرہ کرنے کی خواہش پوری طرح قابل فہم ہے۔ یہ روحانی اعتبار سے ایک نہایت اثر انگیز تجربہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا رجحان بھی خاموشی سے فروغ پا رہا ہے۔ اب بہت سے خوش حال مسلمان بار بار عمرہ کرنے لگے ہیں۔ کوئی ہر رمضان میں جاتا ہے، کوئی ہر چند سال بعد اور بعض لوگ تو ایک ہی سال میں کئی مرتبہ عمرہ کر لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو بڑھاوا دیا ہے، جہاں مکہ اور مدینہ کی تصویریں بعض اوقات مذہبی وجاہت اور سماجی مرتبے کی علامت بن جاتی ہیں۔
آج ہندوستان سے عمرہ کے ایک عام پیکیج پر فی کس کئی لاکھ روپے خرچ ہو سکتے ہیں۔ چار افراد کے ایک خاندان کا مجموعی خرچ آسانی سے تقریباً 10 لاکھ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ایسے سفر کرنے والوں کے اخلاص پر سوال اٹھانا درست نہیں، لیکن ایک دوسرا سوال ضرور کیا جا سکتا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ اس شخص سے کم راضی ہوگا جو اپنا چوتھا یا پانچواں نفلی عمرہ ملتوی کرکے 5 مستحق طلبہ کی یونیورسٹی کی تعلیم کا خرچ اٹھا لے؟ کیا اس فیصلے کے اخلاقی اور سماجی اثرات عطیہ دینے والے کی زندگی سے کہیں آگے تک نہیں پہنچیں گے؟
اسلام فرض اور نفل عبادات میں فرق کرتا ہے۔ جب لازمی فرائض ادا ہو جائیں تو اسلامی تعلیمات بار بار اس بات کی ترغیب دیتی ہیں کہ انسان یہ دیکھے کہ اس کے ذریعے معاشرے کو سب سے زیادہ فائدہ کس طرح پہنچ سکتا ہے۔ متعدد معاصر علماء نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ جہاں سماجی ضرورتیں شدید ہوں، وہاں تعلیم، صحت اور ضرورت مندوں کی مدد پر خرچ کرنا بار بار نفلی عمرہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ وسیع عوامی فائدے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

مزید مدارس یا بہتر اسکول؟
شاید تعلیم کا شعبہ ہماری غلط ترجیحات کو سب سے زیادہ واضح کرتا ہے۔ مدارس نے تاریخی طور پر اسلامی علوم کی حفاظت اور ترویج میں اہم کردار ادا کیا ہے اور آج بھی وہ مذہبی تعلیم کے حوالے سے ایک اہم ضرورت پوری کر رہے ہیں۔ وہ ہزاروں بچوں کو تعلیم دیتے ہیں، خصوصاً ان بچوں کو جو معاشی طور پر کمزور خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہت سے مدارس نے وقت کے ساتھ اپنے نصاب میں دوسرے مضامین بھی شامل کیے ہیں۔ اعتراض مدارس کے وجود پر نہیں ہے۔ مسئلہ اس سوچ کا ہے کہ ایک اور مدرسہ تعمیر کرنا ہی ہمیشہ تعلیم کے میدان میں سب سے زیادہ ضروری کام ہے۔ بہت سے اضلاع میں نئے دینی مدارس کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہمات کامیابی سے چلتی ہیں، جب کہ ان کے آس پاس سرکاری اسکول بنیادی سہولتوں کی کمی، اساتذہ کی قلت اور سائنس کی محدود تعلیم جیسے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے کہ اگر ان عطیات کا ایک حصہ بھی سائنس کی تجربہ گاہوں، ڈیجیٹل کلاس رومز، سول سروسز کی تیاری کے مراکز، نرسنگ کالجوں، ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس، مصنوعی ذہانت اور کوڈنگ کے مراکز، تحقیقی وظائف اور دیگر تعلیمی منصوبوں پر خرچ کیا جائے تو ایک ہی نسل میں مسلم معاشرے کا تعلیمی منظرنامہ بدل سکتا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی کا پہلا لفظ ’’اقرأ‘‘ تھا، جس کا مطلب ہے پڑھو۔ یہ محض خواندگی کی دعوت نہیں تھی بلکہ کائنات اور زندگی کو سمجھنے، علم حاصل کرنے اور غور و فکر کرنے کی دعوت بھی تھی۔
مسلم تہذیب نے ایک زمانے میں ریاضی دان، ماہرین فلکیات، طبیب، فلسفی، انجینئر، فقہا، ماہرین لسانیات اور مؤرخ پیدا کیے۔ یہ کامیابیاں اس لیے ممکن ہوئیں کہ مسلمانوں کی مالی سرپرستی اور عطیات علم کے فروغ پر خرچ ہوتے تھے۔ اس میں صرف مذہبی علوم ہی نہیں بلکہ انسانی تحقیق و جستجو کے تمام شعبے شامل تھے۔
وقف کا فراموش شدہ ادارہ
ہندوستان دنیا میں وقف املاک کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک رکھتا ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق وقف بورڈز ملک بھر میں پھیلی ہوئی لاکھوں املاک کا انتظام کرتے ہیں۔ کاغذوں پر یہ اثاثے بے پناہ معاشی امکانات رکھتے ہیں، لیکن ان میں سے بہت سی املاک کا مناسب استعمال نہیں ہو رہا، کئی کا انتظام ناقص ہے اور متعدد قانونی مقدمات میں الجھی ہوئی ہیں۔ذرا تصور کیجیے کہ اگر وقف کے ادارے مستقل بنیادوں پر آمدنی پیدا کرنے لگیں اور اس آمدنی کو جدید یونیورسٹیوں، اسپتالوں، سستے مکانات، یتیم بچوں کی کفالت اور معذور افراد کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے تو کتنی بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس کے لیے اسلام کی تہذیبی تاریخ کی ایک عظیم ایجاد، یعنی عوامی فلاح کے لیے وقف کیے گئے خیراتی اثاثوں کے نظام کو اس کی اصل روح کے ساتھ دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلم دنیا میں وقف کے ذریعے اسپتال، کتب خانے، یونیورسٹیاں، مسافر خانے، یتیم خانے، عوامی فوارے اور لنگر خانے قائم کیے گئے۔ یہ ادارے صدیوں تک عوام کی خدمت کرتے رہے۔سوال یہ نہیں کہ یہ نظام کارآمد ہے یا نہیں۔ تاریخ پہلے ہی اس کی افادیت ثابت کر چکی ہے۔
.jpeg)
سرسید احمد خان سے سبق
شاید ہندوستانی مسلمانوں میں سرسید احمد خان سے بہتر اس حقیقت کو کسی نے نہیں سمجھا۔ 1857 کی بغاوت کے بعد جب مسلم اشرافیہ کا ایک بڑا طبقہ جدید تعلیم کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار تھا، اس وقت سرسید نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ سائنسی علوم، انگریزی تعلیم اور ادارہ جاتی ترقی کے بغیر مسلم معاشرہ سیاسی اور معاشی طور پر پسماندہ ہی رہے گا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج قائم ہوا، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔ سرسید کو جن مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا، ان کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔ بہت سے لوگ مغربی تعلیم کو خطرناک سمجھتے تھے، جب کہ بعض کا خیال تھا کہ صرف دینی تعلیم ہی کافی ہے۔ لیکن تاریخ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ علی گڑھ نے منتظمین، وکلا، سائنس دانوں، اساتذہ، ادیبوں، سفارت کاروں اور دانش وروں کی کئی نسلیں تیار کیں، جنہوں نے جدید ہندوستان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
شادی بیاہ اور مذہبی وجاہت کا مظاہرہ
یہ بحث صرف ادارہ جاتی فلاح و بہبود تک محدود نہیں ہے۔ مسلم معاشرے کے بہت سے طبقوں میں شادی بیاہ بھی ایک مہنگا تماشا بن چکا ہے۔ خاندان شادی کی تقریبات پر لاکھوں اور بعض اوقات کروڑوں روپے تک خرچ کر دیتے ہیں۔ بینکوئٹ ہال، قیمتی ملبوسات، شاندار سجاوٹ، پرتکلف کھانے، فوٹو گرافی، زیورات اور سماجی دکھاوے پر بے دریغ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات شادی میں سادگی اختیار کرنے کی مسلسل ترغیب دیتی ہیں۔
شادی کے اخراجات اور غیر ضروری توقعات نے نوجوانوں کے لیے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا مشکل بنا دیا ہے۔ والدین ایک شام کی تقریب پر اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔ ذرا سوچیے، اگر ان اخراجات میں سے صرف 20 فیصد رقم بھی اعلیٰ تعلیم یا نئے شادی شدہ جوڑے کے کاروبار کے لیے مختص کر دی جائے تو یہ سرمایہ کاری شادی کی اصل روح اور ایک نئے خاندان کے مستقبل دونوں کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔اسلامی تہذیب کا ابتدائی دور اس لیے عظمت کی بلندیوں تک نہیں پہنچا تھا کہ اس نے سب سے زیادہ مذہبی عمارتیں تعمیر کی تھیں، بلکہ اس کی اصل طاقت ایسے علمی اداروں کی تشکیل میں تھی جنہوں نے پوری دنیا کو علم کی روشنی عطا کی۔
سنگین چیلنجز کے باوجود بے پناہ امکانات
ہندوستانی مسلمانوں کو سنگین مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن ان کے پاس فلاحی اور تعمیری کاموں کے لیے بے پناہ امکانات بھی موجود ہیں۔ زکوٰۃ، صدقات، وقف کی آمدنی اور نجی عطیات کی سالانہ رقم معاشرے کا ایک ایسا سرمایہ ہے جسے ابھی پوری طرح بروئے کار نہیں لایا جا سکا ہے۔ اگر اس دولت کا ایک معمولی حصہ بھی تعلیم، صحت، سائنسی تحقیق، خواتین کو بااختیار بنانے اور معاشی مواقع پیدا کرنے پر خرچ کیا جائے تو ایک نسل کے اندر مسلم معاشرے کا مستقبل تبدیل ہو سکتا ہے۔
شاید ہر عطیہ دینے والے کو اگلا چندہ دیتے وقت صرف یہ سوال نہیں کرنا چاہیے کہ ’’کیا اس سے مجھے ثواب ملے گا؟‘‘ بلکہ اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ’’کیا اس سے کسی کی زندگی بدل سکتی ہے؟‘‘
اگر جواب ہاں میں ہے تو اس خیرات میں نہ صرف روحانی اجر پوشیدہ ہے بلکہ اس میں پورے معاشرے کی تقدیر بدلنے کی طاقت بھی موجود ہے۔یہ بھی عبادت ہی کی ایک صورت ہے۔
(مضمون نگار جے پور میں مقیم سینئر صحافی ہیں۔)