
عبدالرقیب
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔‘‘ یہ ابدی اصول ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک اہم رہنما اصول ہے، جو انہیں ملک کے مستقبل میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ترقی کا راستہ طے کرنے کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کو سب سے پہلے ہندوستان کی منفرد خصوصیات کو سمجھنا ہوگا۔ دنیا کے بہت سے ممالک کے برعکس، جہاں معاشرتی یکسانیت نسبتاً زیادہ ہے، ہندوستان ایک وسیع، کثیر الثقافتی، کثیر لسانی اور کثیر مذہبی تہذیب ہے۔ یہ ریاستوں کا ایک وفاق ہے، جہاں ہر ریاست کی اپنی زبان، ثقافت، روایات اور معاشرتی طور طریقے ہیں۔
_(1).gif)
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اردو تمام ہندوستانی مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں میں تقریباً 45 فیصد لوگ تمل، تیلگو، آسامی، بنگالی، ملیالم اور دیگر زبانیں بولتے ہیں۔ اس لیے شمالی ہندوستان یا اردو کو مرکز بنا کر اختیار کیا جانے والا کوئی یکساں طریقۂ کار ملک بھر کے مسلمانوں کے مختلف حالات اور ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا نہیں کرسکتا۔
مسلم کردار کی مضمبوطی
ہندوستان کے مستقبل میں مسلمانوں کے کردار کو مضبوط بنانے کی کوئی بھی حکمت عملی تنوع کے اصول پر مبنی ہونی چاہیے۔ ہندوستان کا آئین تمام شہریوں، بشمول مسلمانوں، کے حقوق کے تحفظ اور رہنمائی کا ضامن ہے۔ مسلمانوں کو اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنا اور ادا کرنا چاہیے۔
تاریخی طور پر مسلمان یا تو مسلم اکثریتی معاشروں میں رہتے رہے ہیں یا ایسے ممالک میں اقلیت کی حیثیت سے زندگی گزارتے رہے ہیں، جہاں انہیں محدود حقوق حاصل تھے۔ لیکن ہندوستان کی صورت حال مختلف ہے۔ یہاں آئین قانون کے سامنے برابری اور تمام شہریوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ ہندوستانی مسلمان ملک کے جمہوری نظام میں برابر کے شریک ہیں۔ ہندوستان کے مستقبل میں ان کا کردار محض تماشائی کا نہیں ہوسکتا، بلکہ انہیں فعال، تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا، جس کی رہنمائی آئینی اقدار اور شریعت کے اصولوں سے ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں اس سلسلے میں کئی اہم مثالیں ملتی ہیں۔ حبشہ کے عادل حکمراں نجاشی کی پناہ میں مسلمانوں کی ہجرت، مدینہ کا وہ معاہدہ جس نے مختلف برادریوں کے درمیان بقائے باہمی اور مشترکہ نظم و نسق کی بنیاد رکھی، اور حلف الفضول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت اور اس معاہدے کی تحسین، جس کا مقصد انصاف قائم کرنا اور کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کرنا تھا، ایسے واقعات ہیں جن سے آج بھی رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

علمی شعبے میں تبدیلی
اس تناظر میں ضروری ہے کہ علمائے کرام کو روایتی اسلامی فقہ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے قانونی اور آئینی نظام کی بھی مستند اور گہری سمجھ حاصل ہو۔ اس علم کے ذریعے وہ مسلمانوں کی بہتر رہنمائی کرسکیں گے اور عصری مسائل پر زیادہ باخبر رائے دے سکیں گے۔
اس سلسلے میں کیرالہ کی ایک قابل ذکر مثال موجود ہے، جہاں مرکز گروپ نے مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ایک لا کالج قائم کیا ہے۔ یہاں سے کئی بیچوں کے طلبہ تعلیم مکمل کرکے نکل چکے ہیں اور اب کیرالہ کے قانونی اور عدالتی شعبوں میں سرگرم ہیں۔ ہندوستان بھر کے دینی مدارس میں بھی اس طرح کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
عصری علمی مباحث میں فقہ الاقلیات، یعنی مسلم اقلیتوں کے فقہی مسائل، اور مقاصد شریعت جیسے موضوعات بھی اہم رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔ ان کی مدد سے یکساں سول کوڈ اور دیگر عصری چیلنجوں پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیے قومی زندگی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے راستے بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
تعلیم کی اصلاح وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سب سے اہم کاموں میں سے ایک مذہبی اور عصری تعلیم کے درمیان موجود دوہرے نظام پر قابو پانا ہے، جس نے دینی اور دنیاوی علوم کو ایک دوسرے سے الگ کردیا ہے۔ ایسا مربوط تعلیمی نظام، جس میں اسلامی علوم اور جدید مضامین کو یکجا کیا جائے، طلبہ کو اپنے دینی عقیدے اور اقدار سے وابستہ رکھتے ہوئے موجودہ دور کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار کرسکتا ہے۔اس نظام کے ذریعے طلبہ اسلامی اقدار پر قائم رہنے کے ساتھ وہ علم، صلاحیتیں اور ہنر بھی حاصل کرسکیں گے، جو آج کی دنیا میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔
تاریخ میں مربوط تعلیم کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ مغل دور میں علما، معمار، منتظمین اور فوجی رہنماؤں کو اکثر تخصص حاصل کرنے سے پہلے ایک ہی طرح کے تعلیمی اداروں میں بنیادی تعلیم دی جاتی تھی۔ بعد میں وہ اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرتے تھے۔ اسی طرح فاطمہ الفہری نے تیونس میں جامعۃ القرویین قائم کی، جہاں اسلامی علوم کے ساتھ جغرافیہ، فلکیات، طب اور دیگر سائنسی مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے۔ ابن خلدون اور ابن رشد جیسے نامور علما اسی علمی روایت سے وابستہ رہے، جب کہ یورپ کے طلبہ نے بھی وہاں تعلیم حاصل کی اور آگے چل کر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
عربی زبان کی عالمی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس لیے اسے محض مذہبی عبادات سے متعلق زبان سمجھنے کے بجائے ایک زندہ زبان کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے۔ اس سے مسلمان قرآن، حدیث اور کلاسیکی اسلامی لٹریچر کو براہ راست سمجھنے کے قابل ہوسکیں گے۔ اس سلسلے میں مدینہ کی اسلامی یونیورسٹی کے ڈاکٹر وی عبدالرحیم کی کتاب دروس اللغۃ العربیۃ لغیر الناطقین بہا ایک کامیاب نمونے کی حیثیت رکھتی ہے۔ عربی کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی مہارت ضروری سمجھی جانی چاہیے، خواہ وہ بول چال ہو یا تحریر۔اس کے علاوہ علاقائی زبانوں کے ساتھ سنسکرت اور پالی جیسی زبانوں کا علم بھی ہندوستان کی تہذیبی میراث، مذہبی روایات اور ثقافتی تنوع کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ زبانوں کو ایسے پل کا کردار ادا کرنا چاہیے جو سماجی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے احترام کو مضبوط بنائیں۔
معیشت میں بہتری کے لئے
جدید معاشی نظام نے اکثر ایسی صورت حال پیدا کی ہے جس میں خوش حالی کے چند جزیرے تو موجود ہیں، لیکن ان کے اردگرد غربت کے وسیع سمندر پھیلے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران عالمی دولت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، لیکن غربت اور معاشی نابرابری برقرار ہیں۔ متعدد مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان اب بھی ملک کی معاشی طور پر پسماندہ برادریوں میں شامل ہیں۔ مختلف رپورٹوں میں دوسری کئی برادریوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی ملکیت میں اثاثوں کی کمی، کھپت کی کم سطح اور غربت کی بلند شرح کی نشان دہی کی گئی ہے۔
نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستانی مسلمانوں میں تقریباً 31 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں، جب کہ دیگر پسماندہ طبقات میں یہ شرح 26 فیصد بتائی گئی ہے۔ ماہرین معاشیات اور سماجی علوم کے محققین کے مطالعات، جن میں سچر کمیٹی کی رپورٹ کے نتائج بھی شامل ہیں، ماضی میں مسلمانوں کے درمیان تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں نمایاں محرومیوں کی نشان دہی کرچکے ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک جامع معاشی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
مسلم معاشروں نے گزشتہ کئی صدیوں کے دوران دولت پیدا کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ اب برادری کو ان افراد کی شناخت اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو دولت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دولت پیدا کیے بغیر اسے تقسیم نہیں کیا جاسکتا اور معاشی ترقی کے بغیر غربت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ دولت کمانا کوئی گناہ نہیں، بلکہ اگر اس کے ساتھ اخلاقی طرز عمل، سماجی ذمہ داری اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا خیال رکھا جائے تو یہ ایک ذمہ داری بھی بن جاتا ہے۔ اسلام میں کاروبار اور تجارت کی ایک بھرپور روایت موجود ہے۔ قرآن و سنت پہل کرنے، نئی راہیں تلاش کرنے، پیداواری سرگرمیوں اور ذمہ داری کے ساتھ خطرات مول لینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ مسلمان مردوں اور خواتین کو کاروبار شروع کرنے اور تجارتی قیادت سنبھالنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔
خصوصی طور پر کم اور متوسط آمدنی والے طبقوں سے تعلق رکھنے والے ہنرمند کاریگروں، دست کاروں اور چھوٹے کاروباریوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کار اور مخیر حضرات مضاربت اور مشارکت جیسے شراکتی مالیاتی طریقوں کے ذریعے ان کے کاروبار کو آگے بڑھانے میں مدد کرسکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کاروبار اور صنعت کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی اسکیموں سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔
ہندوستان کی اسٹاک مارکیٹوں میں درج تقریباً 20 فیصد کمپنیوں کو شریعت کے مطابق سرمایہ کاری کے قابل سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود مالیاتی معلومات کی کمی کے باعث بہت سے مسلمان پیداواری سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں، جب کہ بعض لوگ دھوکہ دہی پر مبنی اسکیموں اور پونزی جیسے مالیاتی فراڈ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اخلاقی اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری کے مواقع اور شریعت سے ہم آہنگ مالیاتی ذرائع کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔ دوسری برادریوں نے ایسے مواقع سے فائدہ اٹھایا ہے، مسلمانوں کو بھی اس سمت میں قدم بڑھانا چاہیے۔
شراکت داری پر مبنی، سود سے پاک مالیاتی نظام اور تکافل، یعنی اسلامی اصولوں کے مطابق باہمی تعاون پر مبنی بیمہ، متعارف کرانے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ اسی طرح کیرالہ میں قائم چیرامن فنانشیل سروسز اور آلٹرنیٹیو انویسٹمنٹس اینڈ کریڈٹ لمیٹڈ (اے آئی سی ایل) جیسے کامیاب ادارے دوسرے علاقوں کے لیے نمونہ بن سکتے ہیں۔ سہولت، جن سیوا، سنگھمام اور خدمت جیسے اداروں نے، جو ریاستی اور کثیر ریاستی کوآپریٹو نظام کے تحت کام کرنے والی کریڈٹ سوسائٹیوں میں شامل ہیں، یہ دکھایا ہے کہ برادری کی سطح پر قائم مالیاتی ادارے معاشی شمولیت اور چھوٹے پیمانے پر قرضوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایسے ادارے ملک بھر میں قائم کیے جانے چاہییں تاکہ چھوٹے کاروباروں کو مالی مدد ملے اور معاشی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت ممکن ہوسکے۔ہندوستان کی تیز رفتار معاشی ترقی نے خودمختار دولت کے فنڈز اور بیرون ملک مقیم ہندوستانی سرمایہ کاروں کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔ مسلم برادری کو ان مواقع کا بھی فعال انداز میں جائزہ لینا چاہیے اور انہیں معاشی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مسلم خواتین کا کردار
مختلف مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم خواتین کو تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی کے میدانوں میں اہم مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی پیمانوں پر مسلم برادری کے اندر صنفی فرق ملک میں سب سے زیادہ پائے جانے والے فرقوں میں شامل ہے۔ مسلم خواتین کو اکثر دوہری محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلی محرومی عورت ہونے کی وجہ سے اور دوسری سماجی و معاشی طور پر پسماندہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے کے باعث۔ اس لیے کسی بھی برادری کی ترقی کی حکمت عملی میں خواتین کو بااختیار بنانے کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے تعلیم، معاشی سرگرمیوں میں شرکت، قیادت کی صلاحیتوں کی نشوونما اور شہری و سماجی زندگی میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
اجتماعی نظامِ زکوٰۃ
زکوٰۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور سماجی انصاف کے قیام اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کے باوجود مختلف سروے بتاتے ہیں کہ بہت سے مسلمانوں کو زکوٰۃ کے اصولوں اور اس کے حساب و کتاب کے طریقوں کے بارے میں پوری معلومات نہیں ہیں۔ اگرچہ انفرادی طور پر خیرات اور صدقات دینے کا رواج عام ہے، لیکن زکوٰۃ کے انتظام کے لیے ایک منظم اور اجتماعی نظام ابھی تک پوری طرح فروغ نہیں پاسکا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ اور خلفائے راشدین کے دور میں زکوٰۃ کا انتظام اجتماعی طور پر کیا جاتا تھا۔ اس نظام نے سماجی بہبود اور غربت کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تاریخی روایات میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں جن میں ضرورت مند غیر مسلموں کو بھی زکوٰۃ کے وسائل سے فائدہ پہنچایا گیا۔
ملائیشیا، بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کی موجودہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ زکوٰۃ کے منظم ادارے معاشرے پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ کی نیشنل زکوٰۃ فاؤنڈیشن (سانزاف) نے برادری کی ترقی اور سماجی بہبود کے میدان میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان میں بھی ایسی فاؤنڈیشنیں قائم کی جانی چاہییں، جو مقامی حالات اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے مسائل کے اپنے حل تلاش کرسکیں۔

سادگی کو فروغ دینا اور انسانی وسائل کی ترقی
مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی معاشی مشکلات سے دوچار ہے، لیکن اس کے باوجود شادی بیاہ پر فضول خرچی، بار بار عمرہ کرنے اور سماجی تقریبات کو شان و شوکت کے ساتھ منعقد کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ علما اور برادری کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ سادگی، اعتدال اور ذمہ داری کے ساتھ خرچ کرنے کی عادت کو فروغ دیں۔
اسلام سادگی کے ساتھ نکاح کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور فضول خرچی سے روکتا ہے۔ اگر ضرورت سے زیادہ خرچ ہونے والی رقم کو تعلیم، صحت، ہنر کی تربیت اور غربت کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے معاشرے کو کہیں زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
اسی طرح بڑی بڑی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے انسانی وسائل کی ترقی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ صرف عمارتوں میں سرمایہ لگانے کے مقابلے میں انسانوں کی تعلیم، تربیت اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر سرمایہ کاری کے طویل مدتی نتائج کہیں زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔
ہندوستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ ملک کی تقریباً 65 فیصد آبادی کی عمر 35 سال سے کم ہے۔ مسلم نوجوان بھی اس بڑی نوجوان آبادی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اگلی نسل کے لیے معیاری تعلیم، صحت کی سہولتوں، روزگار کے مواقع، کاروبار کے فروغ اور باعزت روزگار کے انتظام کے لیے دور اندیشی کے ساتھ منصوبہ بندی کی جائے۔ ہندوستانی مسلمانوں کا مستقبل، بلکہ خود ہندوستان کا مستقبل بھی، اس بات پر منحصر ہے کہ ان مواقع کو کتنی مؤثر انداز میں پہچانا جاتا ہے اور انہیں بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔