
گریس مبشر
ہندوستان میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کا تعلق ہمیشہ صرف قانونی معاملہ نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ سیاست بھی گہرائی سے جڑی رہی ہے۔حالیہ برسوں میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ نے شدید بحث اور اختلاف کو جنم دیا ہے۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مختلف مذاہب کے الگ الگ پرسنل لاز کی موجودگی قانونی معاملات میں الجھن اور تنازع پیدا کرتی ہے، جس سے قانونی تنازعات کا حل مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف قبائلی، پسماندہ طبقات اور اقلیتی برادریوں کے رہنماؤں نے اس تصور میں کئی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں اپنے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست بن گئی جس نے 2025 میں یو سی سی کو آئینی خواہش سے آگے بڑھا کر قابلِ نفاذ قانون کی شکل دی۔
_(1).gif)
آسام اور گجرات بھی اسی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔تاہم، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی منشور میں ’’بھارت‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے ایک ملک گیر مقصد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہیں عملی طور پر پارٹی نے ریاستی سطح پر یو سی سی نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شادی، طلاق، وراثت اور خاندان سے متعلق قوانین آئین کی کنکرنٹ لسٹ میں شامل ہیں، جس کے تحت پارلیمنٹ کے ساتھ ریاستی اسمبلیاں بھی قانون سازی کر سکتی ہیں۔ لیکن آئین کی دفعہ 44 جس قانون کو ’’پورے ہندوستان کے علاقے‘‘ میں نافذ کرنے کی بات کرتی ہے، اس مقصد کے لیے ان کے مطابق قانون سازی پارلیمنٹ سے ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر ریاست میں الگ الگ قانون بنانے سے آئین کا یہ مقصد پورا نہیں ہوتا بلکہ ملک بھر میں قانونی عدم یکسانیت کی نئی صورتیں پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
حکومت پر ناقدین یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ نئے قوانین کے ذریعے ان مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو شریعت پر مبنی پرسنل لا کے تحت بعض طریقوں پر عمل کرتے ہیں، خاص طور پر تعددِ ازدواج اور طلاق کی کچھ ایسی صورتوں کو، جنہیں اب یو سی سی کے تحت ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بی جے پی کے 2024 کے انتخابی منشور میں خواتین کے حقوق پر خاص زور دیا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ یو سی سی کے ذریعے تمام خواتین کے حقوق کا تحفظ کیے بغیر صنفی مساوات حاصل نہیں کی جا سکتی۔ جیسے جیسے قانون سازی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے، کئی پرانے سوالات ایک بار پھر اہم ہو گئے ہیں۔
ہندوستان جیسے پیچیدہ آئینی ڈھانچے والے ملک میں یو سی سی کا اصل مطلب کیا ہے؟ خاص طور پر اقلیتوں، بشمول مسلمانوں، اور اس سے بھی بڑھ کر مسلم خواتین کے لیے اس کے کیا معنی ہیں، جو اس بحث کے مرکز میں ہیں اور جن کے لیے اس معاملے کو درست طور پر سمجھنا ضروری ہے؟
مسلم خواتین کی جائز شکایات اکثر دو طرفہ سیاسی اور سماجی دباؤ کے درمیان دب جاتی رہی ہیں۔ ایک طرف ریاست کی سیاسی ترجیحات ہیں تو دوسری طرف خود مسلم برادری کی قیادت میں موجود پدرشاہی سوچ ان کی آواز کو محدود کرتی رہی ہے۔ بنیادی طور پر یو سی سی کی بحث خواتین کو مساوی شہری تسلیم کرنے کے سوال سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اس میں شادی کے معاملات میں قانونی تحفظ، تعددِ ازدواج سے تحفظ، طلاق کے معاملے میں مساوی حقوق اور وراثت میں برابری جیسے مسائل شامل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ مسلم پرسنل لا ان معاملات میں آئینی مساوات کے اصولوں پر پوری طرح پورا نہیں اترتا۔
.webp)
یو سی سی اور مذہبی مزاحمت کی سیاست
یو سی سی کی متنازع تاریخ موجودہ سیاسی دور سے تقریباً سات دہائیاں پرانی ہے۔ جواہر لال نہرو نے جب قوانین میں یکسانیت کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی تو انہیں اس معاملے میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ ایک ہی مرحلے میں مکمل اصلاح کی طرف نہیں بڑھ سکے۔مورخ رومیلا تھاپر کے مطابق نہرو کو شدید مخالفت کے باعث مکمل طور پر آگے بڑھنے میں دشواری ہوئی۔ اس کے بجائے انہوں نے ہندو پرسنل لا کی تدوین اور اصلاح کا راستہ اختیار کیا، جو سیاسی اعتبار سے نسبتاً قابلِ عمل سمجھا گیا۔ لیکن یہ قدم بھی شدید ردعمل سے محفوظ نہیں رہا۔ مدراس میں آل انڈیا ہندو مہاسبھا نے ہندو کوڈ بل کو ’’خودکشی پر مبنی حماقت‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے پوری ہندو برادری کے وجود کے لیے خطرہ بتایا تھا۔
سات دہائیوں بعد بھی خدشات ختم نہیں ہوئے، البتہ ان کا رخ بدل گیا ہے۔ جس طرح اس وقت قدامت پسند ہندو حلقے ہندو کوڈ بل میں ریاستی مداخلت کی مخالفت کر رہے تھے، آج یو سی سی کے معاملے میں مسلم مذہبی قیادت کے بعض حلقے مسلم پرسنل لا میں ریاستی مداخلت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مسلم برادری کے اندر یو سی سی کی مخالفت بڑی حد تک سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ بی جے پی یو سی سی کے نام پر ایک ایسا ’’ہندو کوڈ‘‘ نافذ کرنا چاہتی ہے جو مسلمانوں سمیت مذہبی برادریوں کے اپنے قوانین کے حق کو کمزور کر دے۔ ان قوانین کا تعلق شادی، طلاق، گود لینے اور وراثت جیسے معاملات سے ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جو 1973 میں مسلم پرسنل لا کو قانون سازی کے ذریعے ہونے والی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک ادارہ جاتی تنظیم کے طور پر قائم ہوا تھا، اس مخالفت کی سب سے نمایاں آواز رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے 2017 میں فوری تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا اور اس کے بعد پارلیمنٹ نے مسلم خواتین (شادی کے حقوق کا تحفظ) ایکٹ، 2019 کے ذریعے اسے جرم قرار دیا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے دونوں اقدامات کو مسلم مذہبی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے ان کی مخالفت کی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی ہر مذہبی برادری کا اپنا پرسنل لا ہے اور یو سی سی صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ تمام مذہبی برادریوں کی مذہبی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ قانونی اور عوامی دونوں سطحوں پر یو سی سی کی مخالفت جاری رکھے گا اور مذہبی خودمختاری کے اس حق کا دفاع کرے گا جسے وہ آئین سے حاصل شدہ سمجھتا ہے۔
مسلم خواتین کے لیے یو سی سی: اصلاح یا جبر؟
ہندو پرسنل لا کے برعکس، آزادی کے بعد ہندو قوانین میں بڑے پیمانے پر قانونی اصلاح اور تدوین ہوئی، جبکہ مسلم پرسنل لا بڑی حد تک اسی طرح کے قانون سازی کے عمل سے باہر رہا۔ عدلیہ نے بھی مسلم پرسنل لا کی بعض شقوں کو آئینی بنیادوں پر چیلنج کیے جانے کے معاملات میں یکساں رویہ نہیں اپنایا۔ ایسے پس منظر میں یو سی سی ایک تاریخی تجویز کے طور پر سامنے آتا ہے، جس کے تحت مذہب کی بنیاد پر قائم پرسنل لاز کی جگہ ایک یکساں قانونی نظام لانے کی بات کی جاتی ہے۔ خود مسلم برادری بھی اس مسئلے پر یکساں رائے نہیں رکھتی۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ جیسی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شریعت پر مبنی پرسنل لا کوئی ایسا پرانا نظام نہیں جسے لازماً ختم کیا جائے، بلکہ یہ ایک مکمل فقہی نظام ہے جو اپنے اصولوں کے مطابق انصاف فراہم کر سکتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے کسی قانون کے ذریعے اس نظام کو ختم کرنا آئینی زبان میں ثقافتی محرومی مسلط کرنے کے مترادف ہوگا۔
دوسری جانب مسلم خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد حکومت کے اس مؤقف سے اتفاق کرتی ہے کہ آئینی مساوات پر مبنی سول کوڈ مسلم خواتین کے حقوق کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔لیکن مسلم خواتین کی بامعنی شرکت اور اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی حل پیش کرنا بھی آسان راستہ اختیار کرنے کے مترادف ہوگا، خاص طور پر اس تاریخی پس منظر میں جہاں مسلم پرسنل لا سے متعلق بحث پر زیادہ تر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے مردوں کا غلبہ رہا ہے۔
خواتین کے حقوق کی معروف کارکن اور بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی بانی زکیہ سمن تسلیم کرتی ہیں کہ مسلم برادری کو ہندوتوا کی سیاست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ صرف اس وجہ سے یو سی سی کی مخالفت نہیں کی جانی چاہیے کہ اسے ایک ہندو قوم پرست سیاسی جماعت آگے بڑھا رہی ہے۔ یو سی سی کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ تمام مذاہب کے لوگوں پر لاگو ہوگا۔ تاہم مسلمانوں کے لیے یہ اس لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ مسلم پرسنل لا اب بھی بڑی حد تک شریعت پر مبنی اصولوں کے تحت چلتا ہے، جبکہ کئی دیگر مذہبی برادریوں کے پرسنل لاز میں اہم قانونی اصلاحات ہو چکی ہیں۔ زکیہ سمن اور دیگر کارکنوں کے مطابق صنفی مساوات کے نقطۂ نظر سے آئینی برابری پر مبنی یو سی سی اصلاح کا ایک اہم راستہ فراہم کر سکتا ہے۔
خواتین کے حقوق کی کارکن بشریٰ طارق کا کہنا ہے کہ موجودہ شکل میں شریعت پر مبنی پرسنل لا مسلم خواتین کے لیے حقیقی مساوات حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق مسلم پرسنل لا میں جزوی اصلاحات شاید ان بنیادی تبدیلیوں کے لیے کافی نہ ہوں جو مستقل صنفی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مسلم خواتین کو ہمیشہ وہی سیکولر قانونی سہولتیں حاصل نہیں ہوتیں جو دیگر مذہبی برادریوں کی خواتین کو دستیاب ہیں۔ اس لیے کچھ مسلم خواتین، جو موجودہ پرسنل لا کے اندر اصلاح کی کوششوں سے مایوس ہو چکی ہیں، یو سی سی کو زیادہ صنفی مساوات حاصل کرنے کا ایک ممکنہ راستہ سمجھ سکتی ہیں۔ اس تناظر میں مسلم پرسنل لا کے موجودہ نظام کو ہر حال میں برقرار رکھنے کا عہد مکمل حل فراہم نہیں کر سکتا۔
.webp)
خواتین کے لیے اختیاری قانونی راستہ
ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کے حوالے سے بنیادی طور پر دو مختلف نقطۂ نظر سامنے آتے ہیں۔پہلا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یو سی سی مسلمانوں کی مخصوص ثقافتی روایات کو ختم کر سکتا ہے، لیکن اس سے لازماً صنفی انصاف حاصل نہیں ہوگا۔ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مسلم برادری میں صنفی مساوات بڑھانے کے لیے یو سی سی ضروری ہے، کیونکہ مسلم پرسنل لا کے اندر بامعنی اصلاح کے امکانات محدود ہیں۔
اس کشمکش کو امریکی قانون کی ماہر کیتھرین میک کِنن کے ’’دوہرے یا اختیاری قانونی راستے‘‘ کے تصور کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ وہ آئین کی دفعہ 44 کے تحت یو سی سی نافذ کرنے کی حمایت کرتی ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایسے قانون میں خواتین اور مردوں کے درمیان ہر اعتبار سے ظاہری طور پر بھی اور عملی طور پر بھی مکمل صنفی مساوات ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی یو سی سی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ لازماً مسلم پرسنل لا کو ختم کر دے۔ اس کے بجائے اس کا اطلاق ہر عورت کی مرضی پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ایک عورت سیکولر قانونی راستے یا پرسنل لا میں سے کسی ایک کو اختیار کر سکے گی، چاہے پرسنل لا کا راستہ آئینی مساوات کے اصولوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہ بھی ہو۔
اس ماڈل کے تحت صنفی مساوات ہر شخص پر یکساں طور پر مسلط کرنے کے بجائے فرد کے انتخاب کے ذریعے آگے بڑھ سکتی ہے۔ جو خواتین اپنی برادری کی روایات اور قوانین پر عمل کرنا چاہیں، انہیں یہ اختیار حاصل رہے گا، جبکہ وہ خواتین جو پرسنل لا کے امتیازی پہلوؤں کے خلاف آئینی تحفظ چاہتی ہیں، سیکولر قانونی راستہ اختیار کر سکیں گی۔
اس طرح ایک طرف مخصوص ثقافتی روایات کو برقرار رکھنے کی گنجائش ہوگی اور دوسری طرف مسلم خواتین کو آئینی مساوات پر مبنی قانونی تحفظ حاصل کرنے کا اختیار بھی ملے گا۔ اس طریقے میں ثقافتی غلبے کا خدشہ کم ہو سکتا ہے، کیونکہ آخری فیصلہ خود ان خواتین کے ہاتھ میں ہوگا جو اس قانون سے متاثر ہوں گی۔پروفیسر فیضان مصطفیٰ کے الفاظ میں، ’’یو سی سی ہو یا نہ ہو، ایسا قانون کہ ایک شخص بیک وقت دو بیویاں نہیں رکھ سکتا، اس کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
پرسنل لا میں اصلاح کے بعض پہلوؤں پر عوامی سطح پر بھی وسیع اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ اس لیے یو سی سی کو فوری اور مکمل تبدیلی کے بجائے مرحلہ وار اور لچکدار انداز میں نافذ کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب اچانک تبدیلی سے سماجی بے چینی اور عملی مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔ایسے طریقے سے اصلاحات بتدریج سامنے آ سکتی ہیں، بجائے اس کے کہ انہیں اچانک مسلط کیا ہوا محسوس کیا جائے۔ اس سے اکثریتی غلبے کے خدشات بھی کم ہو سکتے ہیں۔ اسپیشل میرج ایکٹ جیسے قوانین میں موجود انتخاب کے اصول کی طرز پر رضاکارانہ یو سی سی بھی آئین کی دفعہ 44 کے مقصد کو آگے بڑھانے کا ایک راستہ ہو سکتا ہے۔

دریں اثنا حکومت اتراکھنڈ، گجرات اور آسام میں یو سی سی کے نفاذ کے تجربات کا قریب سے جائزہ لے سکتی ہے۔ ان ریاستوں کے تجربات سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ ملک گیر یو سی سی کے لیے حالات کس حد تک سازگار ہیں اور اگر اسے نافذ کیا جائے تو اس کے ساتھ کون سے حفاظتی انتظامات ضروری ہوں گے۔لیکن اس کے لیے سیاسی صف بندی کے بجائے باخبر فیصلہ سازی کو ترجیح دینا ضروری ہوگا۔ کھلی بحث، بامعنی مشاورت اور مسلسل عوامی آگاہی کی کوششوں کو فروغ دینا ہوگا۔ آخرکار مقصد قانونی ہم آہنگی ہونا چاہیے، قانونی یا ثقافتی یکسانیت مسلط کرنا نہیں۔