امت اور وطن سے وفاداری کے درمیان توازن

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 06-10-2026
امت اور وطن سے وفاداری کے درمیان توازن
امت اور وطن سے وفاداری کے درمیان توازن

 



 

 

عامر سہیل وانی

ایران کے نئے روحانی رہنما سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے اس وقت ایک نہایت دلچسپ بیان دیا، جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جا رہے تھے۔ ایرانی عوام سے اپنے خطاب میں انہوں نے لفظ ’قوم‘ کا چار مرتبہ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مفاہمتی یادداشت سے اتفاق صرف ایرانی قوم کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے، اگرچہ اس معاملے پر ان کی اپنی رائے مختلف تھی۔

لفظ ’قوم‘ پر ان کا زور ان کے عملی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے اس حقیقت کا وسیع تر ادراک سامنے آتا ہے کہ عملی دنیا میں قوم کے مفادات کو دوسری تمام چیزوں پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔

یہ پیغام مسلمانوں کے سیاسی شعور کے جدید تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً اس بحث میں کہ مسلمانوں کی وفاداری مسلم امت کے ساتھ پہلے ہونی چاہیے یا اس ملک کے ساتھ جس کے وہ شہری ہیں۔ یہ سوال خاص طور پر ہندوستان جیسے متنوع جمہوری ملک میں رہنے والے مسلمانوں کے درمیان زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ بعض اوقات یہ تصور سامنے آتا ہے کہ مسلمانوں کی پہلی وفاداری امت کے ساتھ ہونی چاہیے اور اس کے بعد ان کے اپنے ملک کا نمبر آتا ہے۔

awaz

ایک اسلامی ملک کے روحانی رہنما سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا یہ بیان اس بات پر غور کرنے کا ایک دلچسپ موقع فراہم کرتا ہے کہ عملی دنیا میں مسلمانوں کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں ۔تاریخی طور پر امت کا تصور اسلام کے ابتدائی دور میں ساتویں صدی عیسوی کے عرب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی قیادت میں ابھرا۔ مدینہ کی ابتدائی مسلم برادری محض ایک مذہبی جماعت نہیں تھی بلکہ ایک سماجی اور سیاسی برادری بھی تھی، جو مشترکہ عقیدے اور باہمی ذمہ داریوں کی بنیاد پر منظم تھی۔

اسلامی روایت میں امت کا کلاسیکی تصور ایک ایسی عالمگیر برادری کا تھا جس کے افراد علاقے یا سرحد کے بجائے ایمان کے رشتے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ اس تصور کی تاریخی معنویت اس دور میں تھی جب سیاسی اقتدار اور مذہبی شناخت ایک دوسرے سے گہری طرح جڑے ہوئے تھے۔میثاقِ مدینہ اس حوالے سے ایک اہم مثال ہے۔ اس نے ایک ایسی برادری کی بنیاد رکھی جس کی تشکیل میں عقیدہ، معاہدہ اور شہری ذمہ داری، تینوں شامل تھے۔ اس دستاویز میں مسلمانوں اور مدینہ کے یہودی قبائل کو ایک سیاسی برادری کا حصہ قرار دیا گیا، جبکہ ہر گروہ کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی حاصل تھی۔ اس کی ایک شق میں کہا گیا: ’’بنو عوف کے یہودی اہل ایمان کے ساتھ ایک امت ہیں؛ یہودیوں کے لیے ان کا دین اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین ہے۔‘‘

awaz

یہ ابتدائی انتظام ظاہر کرتا ہے کہ امت کے تصور میں ابتدا ہی سے اخلاقی اور شہری، دونوں پہلو موجود تھے۔ اگر یہ تصور اس زمانے اور اس ماحول میں قابل عمل تھا تو ہندوستان کے موجودہ حالات میں بھی اس سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں بھی مختلف مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگوں، جن میں عیسائی، یہودی اور ہندو شامل تھے، نے یونانی فلسفے کو عربی اور فارسی میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تاکہ مسلم علماء اس علمی ورثے سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مختلف مذہبی برادریوں کے افراد نے مسلم فکری شعور کی تشکیل اور ارتقا میں اپنا حصہ لیا۔ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ابتدائی دور میں، جب پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کے صحابہؓ اس برادری کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کر رہے تھے، امت کا تصور عملی سیاسی معنی بھی رکھتا تھا، کیونکہ مذہبی شناخت اور سیاسی اقتدار ایک دوسرے سے گہرائی سے وابستہ تھے۔ بعد کی صدیوں میں جب اسلامی سلطنتیں وسیع علاقوں تک پھیلیں تو عالمگیر مسلم برادری کا تصور ایک طاقتور اخلاقی اور روحانی علامت کے طور پر برقرار رہا، حالانکہ سیاسی اقتدار مختلف خاندانوں اور ریاستوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم سیاسی قوت اپنے عروج پر اس وقت تھی جب مسلم دنیا سیاسی طور پر منقسم تھی، نہ کہ اس وقت جب وہ متحد تھی۔

قرون وسطیٰ میں مسلم سیاسی اتحاد زیادہ تر ایک خواہش تھا، حقیقت کم۔ سلطنت عثمانیہ، فارس کی صفوی ریاست اور جنوبی ایشیا کی مغلیہ سلطنت جیسے بڑے سیاسی نظام مسلم دنیا کے مختلف علاقوں پر الگ الگ حکومت کرتے تھے اور کئی مواقع پر ایک دوسرے سے فوجی اور نظریاتی مقابلہ بھی کرتے تھے۔ اس تقسیم کے باوجود وسیع تر اسلامی برادری کا تصور برقرار رہا، کیونکہ اس زمانے کا سیاسی نظام جدید قوم پرستی کی بنیاد پر قائم نہیں تھا۔ لوگوں کی وفاداری بنیادی طور پر خاندانِ حکومت، سلطنت یا مذہب سے وابستہ تھی، جدید معنوں میں قوم سے نہیں۔ مسلمان مختلف حکمرانوں کے زیر اقتدار رہتے ہوئے بھی خود کو ایک ایسی تہذیبی دنیا کا حصہ سمجھ سکتے تھے جسے حج، علم اور تجارت نے آپس میں جوڑ رکھا تھا۔

روحانی سطح پر پیغمبر اسلام ﷺ نے مسلمانوں کے باہمی تعلق کو ہمدردی اور یکجہتی سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل ایمان ’’ایک جسم کی مانند ہیں؛ جب جسم کا ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔‘‘ یہ مثال کسی مرکزی سیاسی اقتدار کے بجائے اخلاقی یکجہتی پر زور دیتی ہے۔

awaz

جدید قومی ریاست کے ظہور نے اس پورے منظرنامے کو بڑی حد تک بدل دیا۔ آج کا عالمی نظام خودمختار قومی ریاستوں اور جغرافیائی حدود کے اندر متعین شہریت کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس نے مسلمانوں کے رہنے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے طریقے کو بھی بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ آج مسلمانوں، خصوصاً ہندوستانی مسلمانوں، کے سامنے چیلنج صرف مذہبی نوعیت کا نہیں بلکہ تہذیبی بھی ہے کہ وہ ایک ایسی مذہبی شناخت کو جس کی وسعت سرحدوں سے باہر ہے، قومیت، شہریت اور آئینی وابستگی کی عملی حقیقت کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کریں۔

موجودہ عالمی سیاسی نظام کی فکری اور ادارہ جاتی بنیادوں کو بڑی حد تک ویسٹ فیلیا کے امن معاہدے سے جوڑا جاتا ہے۔ اس نظام نے یہ اصول مضبوط کیا کہ سیاسی اقتدار مخصوص جغرافیائی حدود کے اندر خودمختار ہو۔ وقت کے ساتھ یہ نظام جدید قوم پرستی میں تبدیل ہوا، جہاں شہری اپنی سیاسی شناخت کو علاقے، تاریخ، زبان اور آئینی وابستگی سے جوڑتے ہیں۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں قوم پرستی کے عروج نے نہ صرف یورپ بلکہ مسلم دنیا کو بھی بدل دیا۔ یورپ کے مسلمانوں نے اس نئی حقیقت کو قبول کیا اور زیادہ تر اپنے ممالک کے سیکولر سیاسی نظام کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا۔ سلطنتیں ختم ہوئیں، نوآبادیاتی اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں درجنوں نئی قومی ریاستیں وجود میں آئیں۔

ان نئی ریاستوں میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے شناخت کے تصور کو بھی نئے سرے سے ترتیب دینا پڑا۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں خودمختاری قومی ریاستوں کے پاس تھی، امت سیاسی وحدت کے طور پر اپنا سابق کردار ادا نہیں کر سکتی تھی۔ 1946 تک فرانس نے مسلمانوں کو شہریت دینے سے انکار کیا، جب تک وہ اسلام سے دستبردار نہ ہوں۔ یہاں تک کہ مسلم اکثریتی ممالک میں بھی قومی شناخت نے بتدریج سرحدوں سے بالاتر مذہبی یکجہتی پر فوقیت حاصل کر لی۔

ترکوں کی بنیادی شناخت ترکی، انڈونیشیائیوں کی انڈونیشیا، مصریوں کی مصر اور پاکستانیوں کی پاکستان سے وابستہ ہو گئی۔ ہر ریاست نے اپنی قومی تاریخ، سیاسی ادارے اور قومی مفادات تشکیل دیے۔ چنانچہ عملی طور پر امت کی وحدت زیادہ تر ایک علامتی تصور بن کر رہ گئی، جس کا اظہار مذہبی رسومات اور جذباتی یکجہتی میں ہوتا ہے، مشترکہ سیاسی اقتدار میں نہیں۔

ہندوستانی مسلمانوں کے لیے وفاداری کا سوال برطانوی اقتدار کے خلاف جدوجہد کے دوران خاص طور پر پیچیدہ رہا۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک نے ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر برادریوں کو آزادی کے مشترکہ مقصد کے تحت متحد کیا۔ بہت سے مسلم رہنماؤں نے اس جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا اور ایسی مشترکہ قوم پرستی کے تصور کو آگے بڑھایا جس کی بنیاد تکثیریت اور مشترکہ شہریت پر تھی۔بعد میں اسی تصور نے ہندوستان کے آئین میں جگہ پائی، جو مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور شہریت کی ضمانت دیتا ہے۔

اسلامی اخلاقیات کی روشنی میں آئینی شہریت کے ساتھ وابستگی کو معاہدوں اور عہد کی پابندی کے قرآنی اصول سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’’اے ایمان والو! عہد پورے کرو‘‘ (القرآن، 5:1)۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے: ’’اللہ کے عہد کو پورا کرو جب تم نے عہد کیا ہو‘‘ (القرآن، 16:91)۔ اس تناظر میں آئینی نظام کے تحت شہریت کو ایک سماجی عہد سمجھا جا سکتا ہے، جس کے ساتھ وفاداری اور ذمہ داری لازم ہوتی ہے۔

تاہم 1947 کی تقسیم کے صدمے نے شناخت اور وابستگی سے متعلق نئی بے چینی پیدا کی۔ مذہبی قوم پرستی کی بنیاد پر پاکستان کا قیام ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کی سیاسی نفسیات کے لیے ایک پیچیدہ صورت حال کا باعث بنا۔ اگرچہ بڑی تعداد میں مسلمانوں نے ہندوستان کو اپنا وطن منتخب کیا اور اس کے جمہوری نظام سے وابستگی اختیار کی، لیکن مذہبی یکجہتی اور قومی شہریت کے درمیان یہ نظریاتی کشمکش وقتاً فوقتاً سیاسی بحث میں دوبارہ سامنے آتی رہی۔

عالمگیریت کے موجودہ دور میں، جب میڈیا نے دنیا کے دور دراز علاقوں کو ایک دوسرے سے فوری طور پر جوڑ دیا ہے، فلسطین، شام اور دیگر تنازعات میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے بارے میں دنیا بھر کے مسلمان جذباتی وابستگی محسوس کرتے ہیں۔ انسانی بنیادوں پر ایسی ہمدردی فطری اور قابل فہم ہے، لیکن بعض اوقات اخلاقی ہمدردی اور سیاسی وفاداری کے درمیان فرق دھندلا سکتا ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ موجودہ عالمی نظام خودمختار قومی ریاستوں پر قائم ہے، جن کی قانونی حیثیت مذہبی وابستگی کے بجائے جغرافیائی حکمرانی اور شہریت سے طے ہوتی ہے۔ بین الاقوامی قانون، سفارت کاری، اقتصادی تعاون اور سلامتی کے انتظامات اسی نظام کے اندر کام کرتے ہیں۔ ایسی کوئی عالمی اسلامی سیاسی اتھارٹی موجود نہیں جو حقیقتاً امت کی سیاسی وحدت کی نمائندگی کر سکے۔ حتیٰ کہ اسلامی تعاون تنظیم جیسی تنظیمیں بھی بنیادی طور پر سفارتی فورم ہیں، کوئی ایسی سیاسی یونین نہیں جن کے فیصلے رکن ممالک پر لازمی طور پر نافذ ہوں۔

دوسری بات یہ ہے کہ مسلم دنیا کا داخلی تنوع متحدہ سیاسی امت کے تصور کو عملی طور پر مشکل بنا دیتا ہے۔ مسلمان زبان، ثقافت، سیاسی نظام اور قومی مفادات کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ انڈونیشیا، سعودی عرب، ایران، ترکی اور مراکش جیسے ممالک اپنی پالیسیاں اپنے قومی اور تزویراتی مفادات کے مطابق بناتے ہیں، نہ کہ کسی مشترکہ اسلامی سیاسی ایجنڈے کے تحت۔ مسلم اکثریتی ریاستوں کے درمیان ہونے والے تنازعات بھی اس تقسیم کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ آج امت کی وحدت بنیادی طور پر روحانی اور اخلاقی نوعیت رکھتی ہے، ادارہ جاتی یا سیاسی نوعیت نہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ جدید شہریت ایسی ذمہ داریاں عائد کرتی ہے جنہیں سرحدوں سے بالاتر شناختوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری معاشروں میں شہری ووٹ دینے، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے، عوامی مباحثے میں شریک ہونے اور آئین سے وفاداری کے ذریعے اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ ان ذمہ داریوں کے لیے اس ملک کی فلاح، استحکام اور ترقی سے وابستگی ضروری ہے جس میں انسان رہتا ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے جمہوری اداروں اور اس کی تکثیری تہذیب کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی فکری، اخلاقی اور شہری توانائیاں صرف کریں۔ قرآن خود انسانی معاشروں کے تنوع اور قوموں کے وجود کو خدائی نظام کا حصہ قرار دیتا ہے: ’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔‘‘ (القرآن، 49:13)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مختلف قوموں اور برادریوں کا وجود خدائی وحدت کے منافی نہیں بلکہ اس کے مظاہر میں سے ایک ہے۔

بہت سے اسلامی علما نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وطن سے محبت مذہبی وابستگی کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں انصاف، امانت داری، سماجی ہم آہنگی اور عہد و معاہدے کی پاسداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اور یہ اصول ذمہ دار شہری ہونے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ قرآن مومنوں کو انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہتا ہے: ’’اے ایمان والو! انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جاؤ اور اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ وہ گواہی خود تمہارے خلاف پڑے یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف۔‘‘ (قرآن 4:135) اسی طرح قرآن ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کی ترغیب دیتا ہے جو مسلمانوں سے مذہب کی بنیاد پر جنگ نہیں کرتے اور انہیں ان کے گھروں سے نہیں نکالتے: ’’اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔‘‘ (قرآن 60:8) یہ تعلیمات مختلف مذاہب اور طبقات پر مشتمل معاشروں میں پُرامن بقائے باہمی کے لیے ایک مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

awaz

اپنے وطن سے محبت انسان کے فطری احساسِ وابستگی سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ جب نبی محمد ﷺ کو ہجرت کے موقع پر مکہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تو آپ ﷺ نے اپنی جائے پیدائش سے گہری محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’خدا کی قسم! تو میرے لیے سب سے محبوب سرزمین ہے اور اگر تیرے لوگوں نے مجھے یہاں سے نہ نکالا ہوتا تو میں تجھے چھوڑ کر نہ جاتا۔‘‘ (سنن ترمذی) یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اپنے وطن سے وابستگی ایک فطری اور جائز انسانی جذبہ ہے اور یہ مذہبی وابستگی سے متصادم نہیں۔

خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے لیے قومی وفاداری کو ترجیح دینے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ امت کے روحانی تصور کو ترک کر دیں۔ امت کا تصور دنیا بھر کے مسلمانوں کو مشترکہ عبادات، خیراتی سرگرمیوں اور علمی و فکری تبادلے کے ذریعے ایک اخلاقی اور ثقافتی رشتے میں جوڑے رکھ سکتا ہے۔ البتہ اس بات پر نظرثانی ضروری ہے کہ اس تعلق کو شہری کی عملی سیاسی ذمہ داریوں پر فوقیت دی جائے۔ موجودہ دنیا میں حکومت، قانون اور سلامتی کا نظام قومی ریاستوں کی بنیاد پر قائم ہے۔ ایسے میں کسی ایسی بین الاقوامی سیاسی امت کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش، جو قومی ریاستوں سے بالاتر ہو، اتحاد پیدا کرنے کے بجائے مزید الجھن پیدا کر سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ہندوستان کا آئینی نظام مسلمانوں کو یہ دکھانے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے کہ مذہبی شناخت اور قومی وفاداری کس طرح ہم آہنگ ہو سکتی ہیں۔ ہندوستانی جمہوریہ سیکولر طرز حکمرانی، جمہوری شرکت اور ثقافتی تکثیریت کے اصولوں پر قائم ہے۔ اس شہری نظام میں فعال کردار ادا کرکے ہندوستانی مسلمان نہ صرف ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں بلکہ بقائے باہمی کی ایک ایسی مثال بھی پیش کر سکتے ہیں جو اسلام اور جدیدیت کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو چیلنج کرے۔ اسلام کی سماجی ذمہ داریوں سے متعلق تعلیمات بھی اسی رویے کی تائید کرتی ہیں۔ نبی ﷺ نے سماجی عہد و ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں۔‘‘ (سنن ابی داؤد) اس لیے آئینی نظام کے اندر ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزارنا شہری فرض اور اسلامی اخلاقیات، دونوں سے وفاداری کا اظہار ہے۔

اس طرح امت اور قومیت کے درمیان کشمکش بنیادی طور پر کوئی مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ جس دنیا میں امت کا کلاسیکی سیاسی تصور وجود میں آیا تھا، وہ بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے اور اس کی جگہ ایک ایسا عالمی نظام لے چکا ہے جس کی بنیاد قومی ریاستوں اور شہریت پر ہے۔ اس تبدیلی کو تسلیم کرنے سے اسلام کی روحانی عالمگیریت کمزور نہیں ہوتی، بلکہ مسلم شناخت کو موجودہ سیاسی زندگی کی عملی حقیقتوں کے مطابق سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے مذہبی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے قومی وابستگی اختیار کرنا کسی سمجھوتے کا نام نہیں بلکہ ایک پختہ اور متوازن امتزاج ہے، جس میں ایمان اور وطن دونوں کے ساتھ ذمہ دارانہ تعلق قائم رہتا ہے۔

حالیہ اسرائیل-غزہ جنگ اور اس کے بعد ایران اور خلیج کے بعض ممالک سے متعلق پیدا ہونے والی کشیدگی نے موجودہ دور میں امت کے سیاسی تصور کی بڑی حد تک نظری حیثیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ غزہ میں غیر معمولی تباہی، بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید جذباتی ردعمل کے باوجود مسلم اکثریتی ممالک کا ردعمل زیادہ تر سفارتی بیانات، انسانی امداد کی اپیلوں اور علامتی مذمتوں تک محدود رہا۔ اسلامی تعاون تنظیم جیسے اداروں نے اسرائیلی کاروائیوں کے خلاف سخت بیانات جاری کیے اور عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا، لیکن یہ بیانات زمینی سطح پر کسی مؤثر اجتماعی کارروائی میں بہت کم تبدیل ہو سکے۔ بار بار سیاسی اور جذباتی اتحاد کی بات کی گئی، مگر عملی صورت حال میں تقسیم، محتاط حکمت عملی اور مختلف قومی مفادات نمایاں رہے۔ بعض ممالک نے اقتصادی استحکام کو ترجیح دی، کچھ نے اپنے جغرافیائی سیاسی اتحادوں کو سامنے رکھا، جبکہ کئی ممالک نے براہ راست تصادم سے گریز کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی ریاستوں پر مبنی عالمی نظام میں بین الاقوامی مذہبی یکجہتی کی اپنی واضح حدود ہیں۔

awaz

ایران اور مسلم دنیا میں اس کے مخالفین کے درمیان ابھرتی ہوئی کشیدگی اس تضاد کو مزید گہرا کرتی ہے۔ مسلم اکثریتی ممالک کسی متحد محاذ کے طور پر سامنے آنے کے بجائے نظریاتی، مسلکی اور تزویراتی بنیادوں پر منقسم ہیں۔ کئی تنازعات اور رقابتیں اسی تہذیبی دائرے کے اندر جاری ہیں جسے امت کا تصور متحد کرنا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ مسلم آبادیوں سے متعلق بحران کے مواقع پر بھی ردعمل اجتماعی مذہبی ذمہ داری کے بجائے قومی مفاد کے ذریعے طے ہوتا ہے۔

یہ حالات ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امت آج بھی ایک طاقتور اخلاقی اور جذباتی تصور ہے، لیکن جدید بین الاقوامی نظام میں اس کے پاس نہ مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ ہے اور نہ مؤثر سیاسی قوت۔ عملی طور پر قومیت، ریاستی خودمختاری اور جغرافیائی سیاسی مفادات نے متحد مسلم برادری کے تصور کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ آج امت زیادہ تر مشترکہ ایمان کی ایک علامتی اور جذباتی شناخت بن کر رہ گئی ہے، نہ کہ ایک عملی سیاسی حقیقت۔

اس صورت حال میں مسلم سیاسی فکر کا مستقبل شاید امت اور قوم کے درمیان دوئی سے آگے بڑھنے میں ہے۔ اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات انصاف، ہمدردی اور انسانی یکجہتی کی ترغیب دیتی ہیں اور یہ اقدار قومی معاشروں کو مضبوط بنا سکتی ہیں، ان سے ٹکرانے کی ضرورت نہیں۔ جب مسلمان اپنے ملک کو محض رہائش کی جگہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ اخلاقی ذمہ داری اور اجتماعی تعمیر کا منصوبہ سمجھتے ہیں تو وطن سے محبت بھی ایک اخلاقی عہد بن جاتی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ہندوستان سے وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ روحانی تعلق برقرار رکھنا اعتماد، استحکام اور جدید دنیا میں بامعنی شرکت کا ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔

موجودہ حالات کا سنجیدہ جائزہ یہ بتاتا ہے کہ امت کا کلاسیکی سیاسی تصور جدید دنیا میں بڑی حد تک غیر متعلق ہو چکا ہے۔ دوسرے مسلمانوں کے دکھ درد کو محسوس کرنا اور ان کے ساتھ انسانی ہمدردی رکھنا، مشترکہ انسانیت کے جذبے کے طور پر، یقیناً قابلِ قدر ہے، لیکن بدلتی ہوئی دنیا کی نئی حقیقتوں میں ملک اور اس کے عوام کے مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔