
میجر محمد علی شاہ
میں ایک ایسے فوجی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جہاں کئی نسلوں سے فوج میں خدمات انجام دینے کی روایت رہی ہے۔ میرے والد لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ وہ ہندوستانی فوج کے نائب سربراہ بھی رہے اور ملک کے اعلیٰ ترین فوجی عہدوں پر فائز رہے۔ کچھ پیشے ہمیں پیسہ دیتے ہیں، کچھ سماجی مقام اور مرتبہ عطا کرتے ہیں، لیکن چند ہی ایسے پیشے ہیں جو زندگی کو ایک گہرا مقصد دیتے ہیں۔ ہندوستانی مسلح افواج میں خدمات انجام دینا بھی ایسا ہی ایک راستہ ہے۔ یہ محض ایک پیشہ نہیں، بلکہ ملک سے وفاداری کا عہد، کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کا وعدہ اور ایسا سفر ہے جو عام نوجوانوں کو ہمت، قربانی اور عزت کی علامت بنا دیتا ہے۔
_(1).gif)
مجھے فخر ہے کہ میں نے مختصر مدت کی فوجی ملازمت بھی پوری عزت اور وقار کے ساتھ مکمل کی۔ میرے چچا بھی فوج میں تھے۔ میرے بہنوئی کموڈور رضوان علی شاہ چند ماہ قبل بحریہ کے ایک اعلیٰ عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ میری ایک چچازاد کے شوہر ہندوستانی فضائیہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میں اپنے ملک کے مسلم نوجوانوں کو ایک چھوٹا سا مشورہ دینا چاہتا ہوں۔ آج ہندوستان کے نوجوانوں کے سامنے غیر یقینی صورت حال، دباؤ اور الجھنوں سے بھری دنیا ہے۔ ایسے میں مسلح افواج انہیں ایک ایسی دولت پیش کرتی ہیں جس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی، اور وہ ہے زندگی کا مقصد۔ ہندوستانی فوج، بحریہ اور فضائیہ صرف فوجی تیار نہیں کرتیں، بلکہ کردار بھی سنوارتی ہیں۔

یہ نوجوانوں کو نظم و ضبط، ثابت قدمی، خودداری اور قیادت کے اصول سکھاتی ہیں۔ انہیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ خوف پر کیسے قابو پایا جائے اور مشکل ترین حالات میں بھی مضبوطی کے ساتھ کیسے کھڑے رہا جائے۔ خصوصاً مسلم نوجوانوں کے لیے ہندوستانی مسلح افواج کی اہمیت بہت گہری ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ حب الوطنی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ جب کوئی شخص ملک کی وردی پہنتا ہے تو اس کی شناخت ہندو، مسلمان، سکھ یا عیسائی کی نہیں رہ جاتی، بلکہ اس کی ایک ہی شناخت ہوتی ہے: ہندوستانی۔ ہندوستانی فوج ہمیشہ سے تنوع میں اتحاد کی بہترین مثال رہی ہے۔
ملک کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والے نوجوان مرد اور خواتین ایک ساتھ تربیت حاصل کرتے ہیں، ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں، مل کر لڑتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ملک کے لیے اپنی جان بھی قربان کردیتے ہیں۔ سخت ترین حالات میں کسی شخص کا مذہب یا خاندانی نام اہمیت نہیں رکھتا۔ اصل اہمیت وفاداری، بہادری اور ساتھیوں کے ساتھ بھائی چارے کی ہوتی ہے۔ آج جب معاشرے میں اختلافات اور تقسیم کو اکثر نمایاں کیا جاتا ہے، مسلح افواج ہندوستان کی حقیقی روح کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ وہ ثابت کرتی ہیں کہ ہمارا ملک اس وقت سب سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے جب اس کے لوگ متحد ہوکر کھڑے ہوتے ہیں۔

مسلم نوجوانوں کے لیے مسلح افواج میں شامل ہونا صرف ایک باعزت اور مستحکم پیشہ اختیار کرنے کا موقع نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے ملک کی خدمت کرنے اور اس عظیم ہندوستان کے تصور کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی ہے، جہاں ہر شہری کو یکساں مقام حاصل ہے۔ فوج کی وردی پہننے میں ایک خاص وقار ہے۔ فوجیوں کو جو عزت دی جاتی ہے، وہ کسی دوسرے پیشے سے حاصل ہونے والی عزت سے مختلف ہوتی ہے۔ جب کوئی فوجی وردی میں چلتا ہے تو لوگ اس کی دولت یا سماجی حیثیت نہیں دیکھتے، بلکہ اس کی قربانی، نظم و ضبط اور ملک کو ذاتی آسائشوں پر ترجیح دینے کے جذبے کو دیکھتے ہیں۔ یہ عزت خریدی نہیں جاسکتی، بلکہ خدمت اور بہادری سے حاصل کی جاتی ہے۔
مسلح افواج نوجوانوں کو ایسے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں جو ان کے پورے مستقبل کو سنوار سکتے ہیں۔ ان میں مالی تحفظ، اعلیٰ معیار کی تربیت، طبی سہولتیں، تعلیم اور مہم جوئی و ترقی سے بھرپور زندگی شامل ہیں۔ کوئی نوجوان اسپیشل فورسز، تکنیکی شعبوں، تعلیمی شعبے، ہوا بازی، طب یا فوجی عدالتی نظام میں خدمات انجام دینا چاہے، فوج اسے سیکھنے، قیادت کرنے اور اعلیٰ کارکردگی دکھانے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ لیکن شاید مسلح افواج کا سب سے بڑا تحفہ وہ اندرونی طاقت ہے جو ایک انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔

آج بہت سے نوجوان خود اعتمادی کی کمی، تنہائی اور زندگی میں سمت متعین نہ کر پانے کے مسائل سے خاموشی کے ساتھ دوچار ہیں۔ کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود ان میں سے کئی نوجوان خود کو بے مقصد اور بھٹکا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ فوج اس کیفیت کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ یہ انسان کو اپنی صلاحیتوں کی ان حدود سے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے جنہیں وہ پہلے ناقابل عبور سمجھتا تھا۔ یہ اسے خود پر یقین کرنا، اپنی ذات سے بڑے مقصد کے لیے کام کرنا اور زندگی کے چیلنجوں کا بہادری سے سامنا کرنا سکھاتی ہے۔
ہندوستان کی تاریخ ایسے مسلم ہیروز کی قربانیوں سے بھی روشن ہے جنہوں نے غیر معمولی بہادری کے ساتھ ملک کی خدمت کی۔ میدان جنگ سے لے کر امن قائم کرنے کے مشنوں تک، بے شمار مسلم فوجیوں اور افسران نے عزت و وقار کے ساتھ ملک کی حفاظت کی ہے۔ ان کی داستانیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ وطن سے محبت ہر طرح کی تفریق سے بالاتر ہے۔ ان کی قربانیاں ہمیشہ کے لیے ہندوستان کی روح کا حصہ بن چکی ہیں۔
کمپنی کوارٹر ماسٹر حوالدار میر عبد الحمید، جنہیں پرم ویر چکر سے نوازا گیا، بریگیڈیئر عثمان اور ویر چکر حاصل کرنے والے لیفٹیننٹ حنیف الدین اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ایسے ہیروز کی فہرست بہت طویل ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستانی مسلح افواج میں مسلم افسران کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے، میں ان سے کہنا چاہوں گا کہ مسلح افواج ملک کے ان چند اداروں میں سے ایک ہیں جہاں سیکولر اقدار کی مضبوط روایت موجود ہے اور کسی شخص سے اس کا مذہب پوچھ کر اس کی صلاحیت یا وفاداری کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ اس کی مثال ہندوستانی فوج اور فضائیہ کے کئی ممتاز مسلم افسران کی خدمات سے ملتی ہے۔
ان میں سابق سربراہ فضائیہ ایئر چیف مارشل لطیف، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ایم اے ذکی، لیفٹیننٹ جنرل سامی خان، لیفٹیننٹ جنرل جمیل محمود، سابق نائب سربراہِ فوج اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ، اور بہار کے موجودہ گورنر لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین جیسے نام شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد افسران نے اپنی قابلیت، پیشہ ورانہ مہارت اور خدمات سے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ہندوستانی مسلح افواج محض دفاعی ادارے نہیں ہیں، بلکہ حب الوطنی، نظم و ضبط اور انسانیت کی تربیت گاہیں بھی ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ کسی قوم کی طاقت اس کی تقسیم میں نہیں، بلکہ اس کے اتحاد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

آخرکار، مسلح افواج میں شامل ہونے کا مطلب صرف کسی پیشے کا انتخاب کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک بامقصد زندگی اختیار کرنا ہے۔ یہ ایسی زندگی کا انتخاب ہے جس میں انسان ہر صبح اس احساس کے ساتھ بیدار ہوتا ہے کہ اس کا وجود ایک بڑے مقصد کی تکمیل کے لیے ہے۔ یہ خود سے بڑی کسی چیز کا حصہ بننے کا فیصلہ ہے۔ ہندوستان کے نوجوانوں، خصوصاً ان نوجوانوں کے لیے جو اپنی شناخت، عزت اور زندگی کے مقصد کی تلاش میں ہیں، ہندوستانی مسلح افواج آج بھی ایک نہایت باوقار اور قابلِ فخر راستہ ہیں۔ کیونکہ کچھ لوگ صرف اپنی ذات کے لیے جیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنی زندگی وطن کے نام کردیتے ہیں۔