ہندوستانی مسلمانوں کی مثالی سماجی خدمات

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 03-11-2026
ہندوستانی مسلمانوں کی مثالی سماجی خدمات
ہندوستانی مسلمانوں کی مثالی سماجی خدمات

 



 

 

صبیحہ فاطمہ، بنگلورو

ہندوستان میں ایک ایسا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے جس میں مسلم ادارے اپنے آس پاس کے سماجی مسائل کا عملی حل تلاش کرنے کے لیے آگے آرہے ہیں۔ صحت، تعلیم، خاندانی فلاح و بہبود اور مذہبی شمولیت جیسے شعبوں میں کمیونٹی کی سطح پر کی جانے والی یہ کوششیں بتاتی ہیں کہ روایت اور سماجی خدمت مل کر آج کے دور کی ضرورتیں پوری کرسکتی ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں جاری ان مثالی کوششوں کو اگر دوسرے علاقوں میں بھی اپنایا جائے تو اس سے پوری کمیونٹی کی زندگی میں مثبت تبدیلی آسکتی ہے۔ اس کی شروعات ایک تشویش ناک انکشاف سے ہوئی۔ حیدرآباد کے راجندر نگر علاقے میں واقع وادیِ محمود کے ایک سماجی سروے سے معلوم ہوا کہ آس پاس کی کچی آبادیوں میں رہنے والی خواتین بڑی تعداد میں طرزِ زندگی سے جڑی بیماریوں کا شکار ہیں۔

سروے کے مطابق نصف سے زیادہ خواتین میں دل اور میٹابولزم سے متعلق بیماریوں کا خطرہ تھا، جبکہ بہت سی خواتین موٹاپے، پی سی او ڈی، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور تھائیرائڈ کی بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ ان نتائج سے واضح ہوگیا کہ صرف علاج کافی نہیں، بلکہ خواتین کے لیے ایسی جگہ کی ضرورت ہے جہاں وہ باقاعدگی سے ورزش کرسکیں، صحت مند طرزِ زندگی اپنا سکیں اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ضروری رہنمائی حاصل کرسکیں۔ عام طور پر کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ خواتین کے لیے جم کسی مسجد کے اندر قائم ہوگا۔ لیکن 2021 میں مسجدِ مصطفیٰ نے تلنگانہ میں مسجد کے اندر خواتین کے لیے پہلا فلاح و بہبود کا مرکز اور جم قائم کرکے اس تصور کو حقیقت میں بدل دیا۔

awaz

یہاں پیشہ ور ٹرینر کے علاوہ صحت کے مشیر اور ڈاکٹر بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔ اس طرح عبادت کی جگہ کو خواتین کے لیے صحت کی دیکھ بھال کے ایک قابلِ اعتماد مرکز میں تبدیل کردیا گیا، جہاں ورزش، صحت کی جانچ اور طرزِ زندگی سے متعلق مشورے ایسے ماحول میں فراہم کیے جاتے ہیں جو مقامی ثقافت اور سماجی حالات سے ہم آہنگ ہے۔ یہ کوئی اکیلی مثال نہیں ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں کمیونٹی کی سطح پر اسی طرح کے تخلیقی اور عملی اقدامات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ممبئی کی دھاراوی کچی آبادی میں نوجوان مسلم کاروباری افراد نے پلاسٹک کے کچرے کو جمع کرنے اور اس کی ری سائیکلنگ کے لیے کمیونٹی کی بنیاد پر کوآپریٹیو قائم کیے۔

ان کوششوں سے نہ صرف کچرے کو زمین میں دفن کرنے کا بوجھ کم ہوا بلکہ لوگوں کے لیے روزگار کے چھوٹے کاروبار بھی پیدا ہوئے۔ اسی طرح ساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کی مقامی برادریوں نے ماحول کے تحفظ اور آمدنی کے ذرائع کو محفوظ بنانے کے لیے مینگروو کے جنگلات کی بحالی کے کام میں حصہ لیا ہے۔ جنوبی ایشیا کے بیشتر علاقوں میں کئی نسلوں سے چلی آرہی سماجی روایات نے خواتین کی مسجدوں میں شرکت کو محدود رکھا ہے، حالانکہ تاریخی روایات میں اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں خواتین مسجد میں نماز ادا کرتی تھیں اور اجتماعی زندگی میں بھی حصہ لیتی تھیں۔

اسی تاریخی روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کے مقصد سے کولکاتا میں قائم مسلم ویمنز اسٹڈی سرکل نے 2020 میں ملک گیر سطح پر ’مسلم ویمن اِن مسجد‘ تحریک شروع کی۔ اس تحریک کی بانی ثانیہ مریم نے اس کے پیچھے کارفرما سوچ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا، ’’ہمارا خیال تھا کہ ہمیں تاریخ کی طرف واپس جانا چاہیے۔‘‘ ان کا اشارہ مدینہ منورہ کی مسجد نبوی میں خواتین کی فعال شرکت کی طرف تھا۔ اس تحریک کے تحت اب تک تقریباً 150 ایسی مسجدوں کی نشاندہی اور دستاویز بندی کی جاچکی ہے جہاں خواتین کے لیے مناسب انتظامات موجود ہیں۔

تحریک نے تاریخی ورثے سے واقفیت کے لیے خصوصی دورے کیے، ملک گیر سطح پر اجتماعی نمازوں کا اہتمام کیا اور مسجدوں کے ذمہ داروں سے رابطہ کرکے خواتین کے لیے مخصوص جگہیں بنانے کی کوشش کی۔ سماجی کارکن اسرا نعمانی نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا، ’’آج مسجدوں میں نماز پڑھنا ایک ممنوعہ عمل سمجھا جانے لگا ہے، کیونکہ اسلام کی ساتویں صدی میں خواتین کو جو حقوق دیے گئے تھے، ان پر رجعت پسندانہ تشریحات غالب آگئی ہیں۔‘‘ اس تحریک سے وابستہ بہت سی خواتین کے لیے اس کے اثرات ذاتی اور جذباتی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔

ان میں سے بعض خواتین پہلی بار مسجد میں داخل ہوتی ہیں اور وہاں انہیں صرف عبادت کی جگہ ہی نہیں بلکہ اپنائیت اور تعلق کا احساس بھی ملتا ہے۔ تحریک سے وابستہ افراد ان تجربات کو آن لائن بھی شیئر کرتے ہیں، جس سے مسجدوں تک خواتین کی رسائی میں حائل رکاوٹوں کو چیلنج کیا جارہا ہے اور مختلف سماجی و مسلکی پس منظر رکھنے والی خواتین کی موجودگی اور خود اعتمادی کو فروغ مل رہا ہے۔ ہر زخم کا نشان دکھائی نہیں دیتا۔ مسجدیں جب عبادت اور جسمانی صحت سے آگے بڑھ کر کمیونٹی کی فلاح و بہبود میں کردار ادا کررہی ہیں تو وہ ایک ایسے مسئلے پر بھی توجہ دے رہی ہیں جسے طویل عرصے تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

یہ مسئلہ ازدواجی زندگی اور خاندانوں میں پیدا ہونے والی ذہنی و جذباتی پریشانیاں ہیں۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اب کئی مسجدیں، مقامی ائمہ اور سماجی تنظیمیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مشاورت، ثالثی اور خاندانی رہنمائی کی خدمات فراہم کررہی ہیں۔ ان خدمات کا مقصد میاں بیوی کو باہمی اختلافات حل کرنے، ایک دوسرے سے بہتر انداز میں بات چیت کرنے اور اپنے مشترکہ حقوق و ذمہ داریوں کو سمجھنے میں مدد دینا ہے۔ ان کوششوں میں صلح صفائی اور خاندانی رشتوں کو بچانے پر زور دیا جاتا ہے۔

کم خرچ اور مقامی سماجی و ثقافتی ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے یہ خدمات عام لوگوں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی ہیں۔ ان کے ساتھ وسیع تر سماجی منصوبے بھی کام کررہے ہیں۔ مثلاً ’خوشتر‘ جیسے پروگرام صحت کی سہولتوں اور بیداری کے ذریعے ذہنی اور جسمانی تندرستی کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ ’ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن‘ (ایچ ایچ ایف) مالی مشکلات سے دوچار خاندانوں کو عملی مدد کے ساتھ مشاورت کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔

کسی بھی کمیونٹی کی مشکلات سے نکلنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت کا انحصار تعلیم کے مواقع پر بھی ہوتا ہے۔ ہندوستان میں تعلیم سماجی تبدیلی کا ایک اہم ذریعہ بن کر سامنے آئی ہے۔ مثال کے طور پر کیرالہ میں مپلا مسلم کمیونٹی نے اصلاح شدہ مدارس کے ذریعے دینی تعلیم کو جدید تعلیم کے ساتھ جوڑا ہے۔ اس کوشش سے شرح خواندگی 90 فیصد سے زیادہ کرنے میں مدد ملی ہے اور خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں میں شرکت کے مواقع بھی بڑھے ہیں۔ دوسری طرف رحمانی 30 جیسے اداروں نے بھی تعلیمی مواقع کو وسعت دی ہے۔ یہ ادارہ محروم اور کم آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کو انجینئرنگ، میڈیکل اور سول سروسز کے امتحانات کی تیاری کے لیے مفت رہائشی کوچنگ فراہم کرتا ہے۔

awaz

اس طرح ان طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں آگے بڑھنے کے نئے راستے کھل رہے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر نئی سوچ اور اختراعی کوششیں بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ حیدرآباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں نوجوان مسلم رضاکاروں نے ذہنی صحت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور مدد فراہم کرنے والے گروپ قائم کیے ہیں۔ ان کا مقصد محلوں اور بستیوں میں ذہنی صحت سے متعلق بدنامی اور غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔ کولکاتا کی راجابازار اور پارک سرکس کچی آبادیوں میں مقامی نوجوانوں، جن میں مسلم رضاکار بھی شامل تھے، نے سائیکل رکشہ پر چلنے والی موبائل لائبریریاں شروع کیں۔

ان لائبریریوں میں سیکڑوں کتابیں رکھی گئیں اور انہیں بچوں تک پہنچایا گیا۔ ان کے ذریعے بچوں کے لیے مطالعے کی نشستوں اور بنیادی تعلیمی مواد کا انتظام کیا گیا۔ یہ ایک کم خرچ اور منفرد طریقہ تھا، جس کے ذریعے ان بچوں کی دہلیز تک کتابیں پہنچائی گئیں جہاں کوئی باقاعدہ لائبریری موجود نہیں تھی۔ یہ جذبہ صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں ہے۔ وِرسا اور آئی ایم آر سی جیسی تنظیمیں وظائف، یتیم بچوں کی دیکھ بھال اور ہنر مندی کے پروگرام چلاتی ہیں۔ ان کی کوششیں اکثر سرکاری منصوبوں کی تکمیل میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کی پرانی روایت کے ساتھ یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلم کمیونٹی نہ صرف فوری ضرورتوں کو پورا کرنے بلکہ طویل مدت میں لوگوں کے سماجی اور معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے بھی سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اگرچہ ان کوششوں کی جڑیں مقامی حالات میں پیوست ہیں، لیکن ان کی اہمیت ان کمیونٹیز سے کہیں زیادہ وسیع ہے جن کے لیے یہ کام کیا جارہا ہے۔

ذرائع ابلاغ، تحقیق اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے ان اقدامات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا نہ صرف ان حقیقتوں کو سامنے لاتا ہے جنہیں اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے بلکہ دوسرے علاقوں کے لیے بھی قابلِ عمل نمونے فراہم کرتا ہے۔ مسلمان ایسے شعبوں میں بھی نئی سوچ اور اختراعی کام کررہے ہیں جن کا تعلق عام طور پر ان کی روایتی سرگرمیوں سے نہیں جوڑا جاتا۔ فرانس میں جے آر نامی فنکار نے بڑے پیمانے پر تصویری تنصیبات کے ذریعے عوامی مقامات کو مکالمے اور تبادلے کے مراکز میں تبدیل کیا ہے۔ حسن منہاج نے اپنے ایمی اور پیباڈی ایوارڈ یافتہ شو ’پیٹریاٹ ایکٹ‘ کے ذریعے عوامی پالیسی، عالمی امور اور سماجی مسائل پر گفتگو کو عام ناظرین تک پہنچایا۔

انہوں نے طنز و مزاح کو ذریعہ بناکر لاکھوں لوگوں کو ان موضوعات پر سوچنے اور بحث کرنے کی طرف راغب کیا۔ اسی طرح مو فرح نے اولمپک کھیلوں میں کامیابی کے بعد فلاحی اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ کاروباری دنیا میں ملائیشیا کے صنعت کار ٹونی فرنانڈس نے ’ایئر ایشیا‘ کے ذریعے جنوب مشرقی ایشیا میں کم خرچ فضائی سفر کو فروغ دیا اور لاکھوں لوگوں کے لیے ہوائی سفر کو سستا اور آسان بنایا۔ یہ تمام کوششیں اپنے اپنے علاقوں کے حالات کے مطابق ہیں اور ان کے سامنے کئی چیلنج بھی موجود ہیں، لیکن حیدرآباد کی مسجد میں خواتین کے لیے قائم کیا گیا منفرد جم، کولکاتا کی کچی آبادی میں سائیکل پر چلنے والی لائبریری، دھاراوی میں کچرے کی ری سائیکلنگ کے لیے قائم کوآپریٹیو یا عالمی سطح پر عوامی مباحث کو نئی سمت دینے والی شخصیات، سب ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

awaz

یہ کوششیں بتاتی ہیں کہ جب ایمان صرف عقیدے اور عبادت تک محدود رہنے کے بجائے عملی زندگی میں خدمت کی شکل اختیار کرتا ہے تو وہ تخلیقی صلاحیت، ہمدردی اور انسانی ترقی کی ایک طاقتور قوت بن جاتا ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں سے لے کر عالمی سطح کے بڑے میدانوں تک عام مسلمان اپنی کمیونٹی، باہمی تعاون اور سماجی خدمت کے تصورات کو نئے انداز میں پیش کررہے ہیں۔ ان کی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ حقیقی تبدیلی ہمیشہ بڑے بڑے دعووں سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ اکثر دوسروں کی خدمت کے لیے اٹھائے گئے چھوٹے مگر حوصلہ مندانہ قدم ہی اس کی بنیاد بنتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ صرف بدلتے وقت کے تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ نہیں کررہے بلکہ سب کے لیے زیادہ جامع، بہتر اور امید افزا مستقبل کی تشکیل میں بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

ذرائع اور حوالہ جات:

حیدرآباد کی مسجد میں خواتین کے لیے صحت مرکز اور جم کی تفصیلات اور بیانات: نیو ایج اسلام، 2021، جس کی معلومات کو ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ سے بھی ملایا گیا ہے۔

مسلم ویمن اِن مسجد تحریک: ویمنز میڈیا سینٹر، 5 اگست 2022۔

خاندانی مشاورت اور ثالثی سے متعلق معلومات: ہندوستانی مسلم معاشرے میں ازدواجی ہم آہنگی پر شائع ہونے والے تحقیقی جائزے، مثلاً آئی جے ایل آر اے کی اشاعتیں۔

کیرالہ میں تعلیم اور باہمی تعاون: مپلا کمیونٹی کی تعلیمی کوششوں اور ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں سے متعلق رپورٹس، مثلاً ویجنگ نان وائلنس، 2020۔ دیگر معلومات: وِرسا اور آئی ایم آر سی کی تنظیمی ویب سائٹس اور مسجدوں میں صحت کی سہولتوں سے متعلق پی ایم سی کے تحقیقی جائزے۔

دھاراوی میں کچرے کی ری سائیکلنگ کے لیے کوآپریٹیو: دی ہندو، انڈین ایکسپریس اور دی بیٹر انڈیا سمیت مختلف ذرائع ابلاغ کی رپورٹس۔

کولکاتا کے راجابازار میں سائیکل رکشہ پر چلنے والی لائبریری: ٹائمز آف انڈیا، 2023۔ ذہنی صحت سے متعلق بیداری کی مہمات: حیدرآباد میں کمیونٹی کی سطح پر ہونے والی کوششوں اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں کی رپورٹس۔