جمہوریت میں فعال شرکت کلیدی اہمیت رکھتی ہے

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 20-10-2026
جمہوریت میں فعال شرکت کلیدی اہمیت رکھتی ہے
جمہوریت میں فعال شرکت کلیدی اہمیت رکھتی ہے

 



 

 

 گریس مبشر

مسلمانوں کی طرزِ زندگی کو آئینی اقدار سے ہم آہنگ کرنا کیوں ضروری ہے؟سیاسی اعتبار سے مسلم برادری کا بڑا حصہ عموماً سیکولر جماعتوں کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔ تاہم، حیدرآباد، کیرالہ اور آسام جیسی چند جگہوں پر شناخت کی بنیاد پر ہونے والی سیاست نسبتاً زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مسلمانوں کا انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ طویل سیاسی تعلق رہا ہے، لیکن بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور انتخابی مصلحتوں کے پیش نظر مسلم ووٹروں نے مختلف ادوار میں علاقائی جماعتوں کی حمایت بھی کی ہے۔ ہلال احمد کی کتاب سیاسی مسلمز ہمیں مسلم سیاست سے متعلق متعدد غلط فہمیوں کو سمجھنے اور انہیں چیلنج کرنے میں مدد دیتی ہے۔ حالیہ برسوں میں قانون ساز اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی مسلسل کم ہوئی ہے۔ اس کی بعض وجوہات میں ذات پات کی سیاست کی بدلتی ہوئی صورت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتخابی کامیابیاں شامل ہیں۔

یہ سیاسی صورت حال مسلم برادری کے سامنے چیلنجز بھی پیش کرتی ہے اور نئے امکانات بھی پیدا کرتی ہے۔ اس سے کمیونٹی رہنماؤں کو یہ سوچنے کی ترغیب ملنی چاہیے کہ مسلمان بھارتی جمہوریت میں اپنی شرکت کے طریقوں پر ازسرِنو غور کریں۔ میرے نزدیک، اس سلسلے میں ایک ممکنہ راستہ ’’مقصدی شراکت داری‘‘ (Instrumental Stakeholding) کا تصور ہے۔ سیاست کو اکثر انتخابات اور سیکولرازم سے متعلق بیانات تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ ہم سیاست کے اپنے تصور کو اس نمائشی جمہوریت سے آگے کیوں نہیں بڑھا سکتے، تاکہ اس میں برادری کی تعمیر، شہری شرکت اور ریاست کے ساتھ تعمیری روابط کو بھی شامل کیا جا سکے؟

مقصدی شراکت داری سے مراد سیاسی عمل میں باضابطہ اور حقوق پر مبنی طریقوں سے حصہ لینا ہے، نہ کہ محض مذہبی شناخت کی بنیاد پر ووٹ دینا۔ اس طریقۂ کار کے ذریعے برادریاں ریاست کو جواب دہ بنا سکتی ہیں اور فلاحی سہولتوں اور فوائد تک اپنی رسائی یقینی بنا سکتی ہیں۔ اس تصور میں جمہوریت کو آئینی ضمانتوں کے حصول کے لیے ایک پُرامن اور مسلسل جدوجہد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

حالیہ چند پیش رفتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مسلم برادری کے بعض طبقات جمہوریت کے حوالے سے اس طرزِ فکر کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کے بعض طبقات نے گؤکشی کی مخالفت کی ہے۔ مسلمان کسانوں کی تحریک جیسے بڑے عوامی احتجاجوں میں شریک ہوئے ہیں۔ اسی طرح شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ہونے والے پُرامن اور آئینی احتجاجوں میں بھی بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی، کیونکہ وہ اس قانون کو ناانصافی پر مبنی سمجھتے تھے۔

یہ پیش رفتیں اگرچہ پوری مسلم برادری کی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کرتیں، تاہم یہ ظاہر کرتی ہیں کہ جمہوری عمل میں شرکت کے کئی راستے موجود ہیں۔ اگرچہ میرے پاس اپنے اس استدلال کی تائید کے لیے سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں، لیکن میں نے بھارتی مسلمانوں کے رویوں میں ایک اور اہم اور مثبت تبدیلی بھی محسوس کی ہے: تعلیم میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور مدارس کو باقاعدہ تعلیمی اداروں کی شکل دینے کا رجحان۔ مجھے ہریانہ کے ضلع نوح کے مدارس سے باقاعدگی سے درخواستیں موصول ہوتی ہیں کہ بچوں کو مرکزی دھارے کے اسکولوں میں داخلے اور تعلیم جاری رکھنے کے قابل بنانے میں مدد فراہم کی جائے۔ دہلی کے جامعہ نگر میں کیے گئے ایک مقامی سروے سے بھی مسلمانوں میں تعلیم پر زیادہ سرمایہ کاری کے رجحان کا اشارہ ملا ہے۔

یہ تعمیری تبدیلیاں بھارتی جمہوریت کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ جمہوریت بالآخر معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان صحت مند مسابقت اور شرکت سے ہی مضبوط ہوتی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلامی فقہ کی تشکیل اور اس کا اطلاق جدید قومی ریاستوں کے وجود میں آنے سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ فقہ کی کلاسیکی کتابیں مسلم علما نے لکھیں، جنہیں اکثر حکمرانوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ ان کتابوں کی تدوین ایسے سماجی اور سیاسی حالات میں ہوئی جو آج کے حالات سے بہت مختلف تھے۔

awaz

سوال یہ ہے کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ فقہ کو غیر متغیر رہنا چاہیے اور اسے نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے؟ یا بدلتے ہوئے حالات بروقت اصلاح اور ازسرِنو تشریح کا تقاضا کرتے ہیں؟ بھارت میں قانونی معاملات بدستور اختلاف اور بحث کا ایک اہم موضوع ہیں۔ دنیا بھر میں اسلامی فقہ کا ایک نیا شعبہ سامنے آیا ہے، جسے فقہ الاقلیات، یعنی مسلم اقلیتوں کی فقہ کہا جاتا ہے۔ طہٰ جابر العلوانی جیسے علما اس نقطۂ نظر کے نمایاں حامیوں میں شامل رہے ہیں۔ سادہ الفاظ میں، اس نقطۂ نظر کا مقصد اسلامی اصولوں سے وابستگی برقرار رکھتے ہوئے اسلامی قانون کو جدید حالات کے تناظر میں سمجھنا اور اس کا اطلاق کرنا ہے۔ یہ صرف کلاسیکی تشریحات پر انحصار کرنے کے بجائے معاصر حالات اور نئے سوالات سے بھی بحث کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، جدید ریاست میں مسلمانوں کے غیر مسلم شہریوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟

awaz

فقہ کی بعض کلاسیکی تشریحات میں غیر مسلموں کو قانونی حیثیت کے اعتبار سے کم تر مقام دیا گیا تھا۔ معاصر نقطۂ نظر ایسی تفریق کو چیلنج کرتے ہیں۔ چونکہ جدید سیاسی نظام مساوی شہریت کے اصول پر قائم ہیں، اس لیے مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی قانونی نظاموں پر ازسرِنو غور کیا جا رہا ہے۔ تعددِ ازدواج کا معاملہ بھی اسی بحث کی ایک مثال ہے۔ فقہ الاقلیات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسلامی فقہ میں اس ملک کی قانونی اور سماجی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھا جا سکتا ہے جہاں مسلمان رہتے ہیں۔ اسی تناظر میں کئی مسلم اکثریتی ممالک نے تعددِ ازدواج پر پابندیاں عائد کی ہیں یا اسے ممنوع قرار دیا ہے، جبکہ بعض ممالک میں دوسری شادی کے لیے عدالتی یا انتظامی اجازت ضروری ہے۔ لہٰذا، میرا سوال سادہ ہے: مسلمان ہونے کے ناطے ہم بھی حالات کے مطابق تبدیلی، خود احتسابی اور نئے تناظر میں تشریح کو کیوں قبول نہیں کر سکتے؟ جمہوریت زندگی کے ہر شعبے میں شرکت کا تقاضا کرتی ہے۔

تبدیلی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ہمیں اپنے شخصی قوانین کو وقت کے تقاضوں کے مطابق سمجھنے اور ان میں مناسب اصلاح کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ تاریخ میں اسلامی علما بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فقہی تشریحات پر نظرثانی کرتے رہے ہیں، ہمیں بھی اس روایت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ جمہوریت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، پھر یہ برادری تک پھیلتی ہے اور بالآخر پورے ملک کا احاطہ کرتی ہے۔ برادری میں اعتماد کی کمی کی ایک وجہ ہمارے اپنے رویے بھی ہو سکتے ہیں۔ صرف بدلتا ہوا معاشرہ ہی تیزی سے بدلتی دنیا کے ساتھ قدم ملا سکتا ہے۔ تو پھر مسلمان اپنی جمہوری شرکت کو کس طرح وسیع اور مؤثر بنا سکتے ہیں؟ اس سوال کا ایک ممکنہ جواب اسلامی فقہ کے اصول مصلحتِ مرسلہ، یعنی عوامی فلاح و بہبود میں مل سکتا ہے۔

معاصر تناظر میں اسے آئینی بنیادوں پر شہری اخوت کے تصور کے طور پر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ نچلی سطح پر مختلف سماجی طبقات کے درمیان ایسے اتحاد قائم کیے جائیں جو بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے کام کریں، بالخصوص ان طبقات کے ساتھ جو معاشرے میں محرومی کا شکار ہیں۔ اس اصول کی جڑیں کلاسیکی اسلامی فقہ، بشمول فقہ حنفی، میں موجود ہیں۔ مختلف مسلم معاشروں میں اسی نوعیت کے تصورات کو جمہوری اور کثرت پسندانہ روابط کی نئی صورتیں پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

یہ تصور کثیرالمذاہب معاشروں میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جہاں مذہبی اور سماجی شناختوں سے بالاتر ہو کر تعمیری روابط قائم کرنا ضروری ہے۔ اسے سیاسی شرکت کے لیے وضع کیے گئے ’’احسان فریم ورک‘‘ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہاں احسان سے مراد مذہب یا نسلی شناخت سے قطع نظر سب کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کا عزم ہے۔ بھارتی تناظر میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان صرف اپنی مذہبی برادری کے محدود مفادات تک خود کو محدود نہ رکھیں، بلکہ محبت، انصاف اور اخوت جیسی آفاقی اقدار کی بنیاد پر پورے معاشرے اور ملک کی ترقی کے لیے کوشش کریں۔ یہ مذہبی اور اخلاقی نقطۂ نظر مسلم زندگی کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

awaz

یہ سماجی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اور جامع طریقے اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کا مقصد تاریخی تشریحات سے سختی کے ساتھ چمٹے رہنے کے بجائے انصاف اور اسلامی قانون کے وسیع تر مقاصد، یعنی مقاصدِ شریعت، کو پیش نظر رکھنا ہے۔ یہ نقطۂ نظر مذہبی معاملات، ماحولیاتی تحفظ، سماجی بہبود اور قومی تعمیر کے لیے ایک تعمیری فریم ورک فراہم کر سکتا ہے۔

اس کا وسیع تر مقصد مسلم معاشرتی زندگی کو آئینی اخلاقیات کے اصولوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ مسلمان نہ تو ہمیشہ کے لیے حاشیے پر رہنے پر مجبور ہیں اور نہ ہی اس صورت حال میں پھنسے ہوئے ہیں جسے بعض ناقدین جمہوری گھٹن قرار دیتے ہیں۔ بھارتی جمہوریت بھی دنیا کی دیگر جمہوریتوں کی طرح مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ بالآخر جمہوریت ایک مشترکہ مستقبل کی تشکیل کے لیے ہماری اجتماعی جدوجہد کا اظہار ہے۔ ایک برادری کی حیثیت سے ہمیں اس عمل میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

awaz

معاشرے میں موجود چیلنجز، مباحث اور داخلی فکری کشمکش دراصل بہتری کی خواہش کی علامتیں ہیں۔ اگر ہم اپنی موجودہ صورت حال سے مطمئن نہیں ہیں تو اس عدم اطمینان کو بہتر مستقبل کی جانب سفر کا محرک بنانا چاہیے۔ تاہم، اس سفر کا آغاز برادری کے اندر خود احتسابی سے ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم انتخابات کی رسمی کارروائی اور پارلیمان میں نمائندگی کے حصول سے آگے بڑھ کر جمہوریت میں مؤثر شرکت کر سکیں تو یہ بھارتی مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی ترقی میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہمیں دنیا بھر کے بہترین تجربات سے سیکھنا چاہیے اور نئے امکانات کو قبول کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جمہوری عمل میں تخلیقی شرکت کے امکانات تقریباً لامحدود ہیں، بشرطیکہ ہم واقعی انہیں تلاش کرنے کے لیے آمادہ ہوں۔