
گریس مبشّر
مسلم معاشرے میں قدامت پسند آوازوں کو غیر معمولی طور پر نمایاں کرنے والے نظام کو چیلنج کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک صحت مند معاشرے کے لیے صرف ایسے ادارے کافی نہیں جو روایات کو محفوظ رکھیں، بلکہ ایسے پلیٹ فارم بھی ضروری ہیں جو بحث و مباحثے، اصلاح اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ تخلیقی انداز میں ہم آہنگ ہونے کی حوصلہ افزائی کریں۔
برطانوی نوآبادیاتی نظام میں لوگوں کو اجتماعی برادریوں اور شناختوں کی بنیاد پر منظم کرنے کی جو روایت قائم ہوئی تھی، وہ آزاد ہندوستان میں بھی جاری رہی۔ جمہوریہ کے آئینی نظام میں سیاسی سرگرمیوں، قانونی کارروائیوں اور سماجی تحریکوں کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کو برادریوں کے مفادات کے تحفظ اور حکومت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کا جائز طریقہ سمجھا جانے لگا۔
_(1).gif)
نوآبادیاتی دور میں قائم ہونے والی بہت سی تنظیمیں سیکولر ہندوستان میں بھی سرگرم رہیں، جب کہ وقت کے ساتھ نئی تنظیمیں بھی وجود میں آئیں۔ آزادی کے بعد مسلمانوں کی براہ راست سیاسی صف بندی نسبتاً محدود ہونے کے باعث، بہت سی مسلم تنظیموں نے اپنی توجہ مذہبی، سماجی، تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں پر مرکوز کر دی۔
خصوصاً مذہبی تنظیموں نے سماجی خدمت کے کاموں کے ذریعے لوگوں کا اعتماد حاصل کیا اور اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط بنایا۔ ان میں سے بہت سی تنظیمیں آج بھی تعلیم، خیرات اور سماجی بہبود کے شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ 1972 میں قائم کیا گیا۔ اس کا مقصد مختلف مسلم تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا تاکہ ان قوانین کا تحفظ کیا جا سکے جنہیں مسلمان اپنے عائلی قوانین سمجھتے تھے اور جنہیں وہ ممکنہ خطرات سے دوچار خیال کرتے تھے۔

دوسری طرف مسلمانوں نے واضح طور پر سیکولر اور اصلاح پسند نظریات کی بنیاد پر بھی تنظیمیں قائم کیں۔ مسلم ستیہ شودھک منڈل اور انڈین سیکولر سوسائٹی کی قیادت حمید دلوائی نے کی، جب کہ سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرازم کی بنیاد اصغر علی انجینئر نے رکھی۔ یہ فہرست مکمل نہیں ہے، بلکہ اس کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں۔
اس مختصر تاریخی جائزے سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں نے مختلف مذہبی، سماجی، سیاسی اور فکری نظریات کی نمائندگی کرنے والی تنظیمیں قائم کی ہیں اور انہیں چلایا ہے۔
ہندوستان میں مسلم تنظیموں کی تاریخ نوآبادیاتی دور کے بنگال تک جاتی ہے۔ کلکتہ کی انجمنِ اسلامی 1855 میں قائم ہوئی تھی۔ یہ ان ابتدائی تنظیموں میں سے ایک تھی جنہوں نے بنگال میں مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ اور انہیں آگے بڑھانے کے لیے برطانوی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کی کوشش کی۔
سر سید احمد خان نے 1863 میں محمڈن لٹریری سوسائٹی قائم کی، جس کا مقصد مسلمانوں میں جدید تعلیم اور فکری سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔ سید امیر علی نے 1877 میں کلکتہ میں سینٹرل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن قائم کی، جس نے مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی ترقی کے لیے کام کیا۔
.png)
دیوبند کا مدرسہ جاتی نظام انیسویں صدی کے آخری حصے میں ایک منظم ادارہ جاتی شکل میں سامنے آیا اور بعد میں پورے برصغیر میں پھیل گیا۔ وقت کے ساتھ دوسری اہم تنظیمیں بھی قائم ہوئیں۔ ان میں 1894 میں قائم ہونے والی ندوۃ العلماء، 1906 میں قائم ہونے والی آل انڈیا مسلم لیگ اور 1929 میں ابھرنے والی احرار تحریک شامل ہیں۔
جنوبی ہندوستان میں 1921 میں قائم ہونے والی کیرالہ ندوۃ المجاہدین اور 1926 میں قائم ہونے والی سمستھا کیرالہ جمعیۃ العلماء جیسی تنظیمیں بااثر بنیں۔ 1919 میں قائم ہونے والی جمعیۃ علمائے ہند نے بھی نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف جدوجہد میں ہندوستانی مسلمانوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کیا مسلم تنظیمیں آئینی اخلاقیات کے خلاف ہیں؟
عصر حاضر کے ہندوستان میں مسلم تنظیموں کا تجزیہ کرتے ہوئے اس تاریخی پس منظر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ سماجی، سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کا منظم ہونا نہ تو بذاتِ خود نقصان دہ ہے اور نہ ہی اسے قابلِ اعتراض سمجھا جانا چاہیے۔
جمہوریت میں شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے عقائد، مفادات اور خواہشات کے مطابق تنظیمیں بنائیں۔ اس کے باوجود مسلم تنظیموں کے بارے میں کئی خدشات پائے جاتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں یہ مفروضہ ہے کہ مسلمان سیاسی طور پر متحد ہو کر ایک ہی سمت میں ووٹ دیتے ہیں۔
کئی مطالعات نے اس انتخابی مفروضے کو چیلنج کیا ہے۔ ان کے مطابق دوسرے شہریوں کی طرح مسلمان بھی مختلف عوامل کو سامنے رکھ کر سیاسی فیصلے کرتے ہیں۔ ان عوامل میں روزگار، ترقی، حکمرانی، شناخت اور سیکولر اقدار جیسے معاملات شامل ہیں۔ ایک اور عام الزام یہ ہے کہ مسلم تنظیمیں یکساں نظریات رکھتی ہیں اور علیحدگی پسندی کی حامی ہیں، کیونکہ وہ مسلم پرسنل لا اور اقلیتی حقوق کا دفاع کرتی ہیں۔
.png)
یہ الزام بھی حقیقت کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ شاہ بانو مقدمے اور دوسرے کئی معاملات پر ہونے والی بحثوں سے ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان رائے کے تنوع کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود قدامت پسند آوازوں کو اکثر ضرورت سے زیادہ توجہ ملتی ہے، جب کہ مسلم معاشرے کے اندر موجود معتدل، اصلاح پسند اور سیکولر آوازیں نسبتاً غیر نمایاں رہ جاتی ہیں۔اس کی ایک وجہ بعض قدامت پسند حلقوں کے وسیع تنظیمی نیٹ ورک اور انہیں حاصل سیاسی سرپرستی ہے۔ اس کے ساتھ ذرائع ابلاغ کا وہ رجحان بھی اہم ہے جس کے تحت سب سے زیادہ متنازع آوازوں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً زیادہ متوازن اور باریک بینی سے بات کرنے والی آوازیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔
اگر مسلم معاشرے میں موجود مختلف آرا کو سامنے لانا اور انہیں عوامی سطح پر مناسب جگہ دینا ہے تو قدامت پسند آوازوں کو غیر معمولی طور پر نمایاں کرنے والے اس نظام کو چیلنج کرنا ہوگا۔
مذہبی تنظیمیں اور نمائندگی کا بحران
مسلم تنظیموں کے بارے میں ایک اور شبہ یہ پایا جاتا ہے کہ مسلمان اپنے حلقوں کے اندر تو مضبوط سماجی رابطے رکھتے ہیں، لیکن ان کی فلاحی خدمات غیر مسلموں تک نہیں پہنچتیں۔
اس طرح کے تصورات بعض اوقات فرقہ وارانہ بداعتمادی کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے مسلم تنظیموں کو اپنی فلاحی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور ان کی تشہیر میں خاص احتیاط برتنی چاہیے۔
مثال کے طور پر کیرالہ میں متعدد مسلم تنظیموں کی جانب سے فراہم کی جانے والی طبی اور فلاحی خدمات کو اس لیے سراہا گیا ہے کہ ان سے مذہب کی تفریق کے بغیر ضرورت مند افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اپنے تجربے کی بنیاد پر میں اس عمومی الزام کی تردید کر سکتا ہوں کہ مسلم تنظیمیں لازماً غیر مسلموں کو الگ رکھتی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بداعتمادی کا ماحول بعض اوقات غیر مسلموں کو مسلم اداروں کی خدمات سے فائدہ اٹھانے میں ہچکچاہٹ کا شکار بنا دیتا ہے۔
ہندوستان میں مذہب کی معاشیات پر سریا ایئر کی تحقیق ان صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے مفید بصیرت فراہم کرتی ہے۔
.png)
اب ہم ان اہم مذہبی تنظیموں کی طرف آتے ہیں جن میں جماعت اسلامی ہند، جمعیۃ علمائے ہند، ندوۃ العلماء اور سمستھا کیرالہ جمعیۃ العلماء شامل ہیں۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مختلف مسلم تنظیموں کے درمیان رابطے اور تعاون کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ ان اداروں پر ہونے والی ہر تنقید کو اسلاموفوبیا قرار دے کر مسترد کرنے کے بجائے زیادہ مفید طریقہ یہ ہوگا کہ ان کی کامیابیوں اور خامیوں، دونوں کا جائزہ لیا جائے اور مستقبل کی راہ متعین کرنے کی کوشش کی جائے۔
وقت کے ساتھ ان مذہبی تنظیموں نے مذہب اور مسلم معاشرتی زندگی سے متعلق معاملات میں خاصا اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے۔ مدارس اور دوسرے علمی مراکز کے وسیع نیٹ ورک پر ان کے اثرات نے انہیں مذہبی مباحث اور نظریات کی تشکیل میں اہم مقام عطا کیا ہے۔
یہ صورتِ حال لازماً منفی نہیں ہے۔ مذہبی رہنمائی اور بنیادی دینی تعلیم فراہم کرنے میں ان کی خدمات کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر سمستھا کیرالہ جمعیۃ العلماء نے مکاتب کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے، جس کے ذریعے کیرالہ میں مسلمانوں کی کئی نسلوں کو بنیادی دینی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔لیکن اسی کے ساتھ ان میں سے بعض اداروں نے معاشرے کے مختلف معاملات پر بھی اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے۔ ان معاملات میں شادی، طلاق، تنازعات کا حل اور فلاحی سرگرمیاں شامل ہیں۔
کسی بھی معاشرے کی خواہشات اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے منظم کوششیں ضروری ہوتی ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ادارہ جاتی اختیار بدلتے ہوئے سماجی حالات کے مطابق مذہب کی تشریح اور تفہیم کی راہ میں رکاوٹ بننے لگتا ہے۔
ان میں سے بہت سی تنظیمیں موروثی روایات میں گہری جڑیں رکھتی ہیں اور اپنے مقاصد کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں دشواری محسوس کرتی رہی ہیں۔ مسلم مذہبی اور سماجی زندگی کی خامیوں کو دور کرنے کی کوششوں کی اکثر مخالفت کی جاتی ہے۔ بعض اوقات اس کی وجہ قائم شدہ اداروں کے کمزور ہونے کا حقیقی خوف ہوتا ہے، جب کہ بعض اوقات تنظیمی قیادت اور اثر و رسوخ کھونے کا اندیشہ اس کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے۔حالیہ برسوں میں ہونے والی قانونی تبدیلیوں کی مخالفت کا سرسری جائزہ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض اداروں کا ردعمل متعلقہ مذہبی اور فقہی پہلوؤں پر سنجیدہ غور و فکر کے بجائے سیاسی مصلحتوں سے زیادہ متاثر رہا ہے۔
مذہبی زندگی میں روایت کی اپنی اہمیت ہے، لیکن ادارے ہمیشہ تبدیلی کی مخالفت نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو ہی لے لیجیے۔ مجوزہ تبدیلیوں پر صرف ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے وہ اس بات پر بھی سرگرمی سے غور کیوں نہیں کرتا کہ مسلم عائلی قوانین کی عصر حاضر کے فقہی مباحث کی روشنی میں نئی تشریح کیسے کی جا سکتی ہے؟ اس سلسلے میں دوسرے مسلم اکثریتی ملکوں کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ تنظیمیں سیاسی سرپرستی پر انحصار کرنے کے بجائے فکری مباحث اور باہمی مکالمے کے لیے کھلے پلیٹ فارم کیوں نہیں بن سکتیں؟
ہندوستان میں مذہب اکثر انفرادی عقیدے اور عبادت تک محدود رہنے کے بجائے پوری برادری کا اجتماعی معاملہ بن جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ملک کا سماجی ڈھانچا ہے، جہاں شناختیں اکثر برادریوں کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہیں۔ایسے ماحول میں اصلاح پسند خیالات کو اجتماعی شناخت کے لیے خطرہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک تضاد کی صورت میں سامنے آتا ہے: معاشرہ مادی اعتبار سے ترقی کر سکتا ہے، لیکن سماجی اور فکری سطح پر آگے بڑھنے میں دشواری محسوس کر سکتا ہے۔
مسلمانوں کے بہت سے مسائل ان تنظیموں کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔ مدارس کی اصلاح کا طویل عرصے سے زیرِ التوا معاملہ اس کی ایک مثال ہے، جہاں ادارہ جاتی مزاحمت نے تبدیلی کی رفتار سست کر دی ہے۔جن ڈھانچوں کو قیادت فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، وہ بعض حالات میں اسی معاشرے کے لیے بوجھ بن سکتے ہیں جس کی خدمت کے لیے انہیں وجود میں لایا گیا تھا۔
جب تک مذہبی تنظیمیں عصر حاضر کے مسلمانوں کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق مثبت اور تخلیقی اقدامات کرنے سے ہچکچاتی رہیں گی، ان کا ادارہ جاتی اختیار بڑھتے ہوئے بوجھ کی طرح محسوس ہوگا۔ اس کے برعکس اگر اس اختیار کو تعمیری انداز میں استعمال کیا جائے تو اس کے نتائج تبدیلی لانے والے ثابت ہو سکتے ہیں۔
مسلمانوں کو اس دلیل کے تحت محدود نہیں کیا جانا چاہیے کہ کسی ادارے کا تحفظ کرنا گویا ایمان کا تحفظ کرنا ہے۔ مسلم خواتین، خصوصاً، ان اداروں میں اکثر حاشیے پر رہی ہیں جہاں مذہبی قیادت کا غلبہ مردوں کے ہاتھ میں ہے۔ ان تنظیموں میں پائی جانے والی مسلسل پدرشاہی پورے مسلم معاشرے کی ترقی کی صلاحیت کو کمزور کر سکتی ہے۔
وقف کا مسئلہ: ادارہ جاتی تخلیقی صلاحیت کا امتحان
وقف کی جائیدادوں کے مسئلے پر غور کیجیے۔ یہ جائیدادیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور معاشرے کے ان بڑے وسائل میں شامل ہیں جن سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔
.png)
آخر ایسا کیوں ہوا؟
اس کی آسان ترین وضاحت سیاسی اور انتظامی سستی ہے۔ لیکن ہندوستان بھر میں وقف کی بڑی جائیدادوں کا جائزہ لینے کے بعد میں یہ کہوں گا کہ اس مسئلے کی گہری وجہ فقہی اور ادارہ جاتی سطح پر نئے حل تلاش کرنے میں ناکامی بھی ہے۔
وقف کی بہت سی جائیدادیں ایسے مستحقین اور سماجی مقاصد کے لیے وقف کی گئی تھیں جو اب اپنی اصل شکل میں موجود نہیں ہیں۔ اس کے باوجود ان اوقاف کو بدلتے ہوئے حالات اور موجودہ ضروریات کے مطابق استعمال کرنے کے لیے درکار قانونی اور فقہی طریقۂ کار ابھی تک پوری طرح ترقی نہیں کر سکا ہے۔
مسلم قانون کے محافظ اور اس کی تشریح کرنے والے اداروں کی حیثیت سے مذہبی تنظیموں کا اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ہو سکتا ہے۔ لیکن نئے اور تخلیقی فقہی حل پیش کرنے میں ان کی ناکامی نے اس قیمتی اجتماعی وسیلے کے مسلسل غیر مؤثر استعمال میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
وقف کا مسئلہ ایک بڑا سبق دیتا ہے: مذہبی ادارے صرف موروثی قانونی مؤقف کا دفاع کرنے تک محدود نہیں رہ سکتے، بلکہ انہیں ایسے فکری وسائل بھی تیار کرنے ہوں گے جن کے ذریعے ان روایات کو بدلتے ہوئے حالات میں بامعنی اور کارآمد بنایا جا سکے۔
حالیہ برسوں میں ایک اور تشویشناک رجحان بعض مسلم تنظیموں کی جانب سے اپنے خول میں سمٹنے کی حوصلہ افزائی ہے۔ مسلمانوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بجائے کچھ ادارے تیزی سے ردعمل پر مبنی رویہ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔اس کا غیر ارادی نتیجہ بداعتمادی میں اضافے اور اس احساسِ بیگانگی کے مزید گہرا ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے جسے روکنا ان تنظیموں کا مقصد ہوتا ہے۔
آگے کا راستہ
اسلامی اور مسلم سماجی تنظیمیں مسلم معاشرے اور پورے ملک، دونوں کے لیے باعثِ خیر ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے سماجی زندگی کو منظم کرنے، تعلیم فراہم کرنے، مذہبی علم کو محفوظ رکھنے اور معاشرے کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن اگر یہ تنظیمیں اپنے دائرے میں سمٹتی رہیں اور عصر حاضر کے مسلمانوں کی خواہشات اور ضروریات پر توجہ نہ دیں تو ان کی اہمیت اور افادیت کم ہونے کا خطرہ ہے۔
مذہب کے ساتھ فرد کے ذاتی تعلق کو ادارہ جاتی ڈھانچوں کے ذریعے محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کے بجائے ان ڈھانچوں کو زیادہ فکری آزادی، سماجی اصلاح، عوامی فلاح اور وسیع تر معاشرے کے ساتھ تعمیری تعلقات کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ مذہبی تنظیموں کو فرسودہ قانونی مفروضوں سے آگے بڑھنا، نئی سوچ کی حوصلہ افزائی کرنا اور بحث و مباحثے کے لیے خود کو زیادہ کھلا بنانا ہوگا۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نئے طریقے وضع کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ان کے سامنے اصل انتخاب روایت کے تحفظ اور جدیدیت کو قبول کرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں ہے۔ اصل چیلنج یہ ثابت کرنا ہے کہ ایک زندہ مذہبی روایت میں بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کا تخلیقی انداز میں جواب دینے کی فکری صلاحیت موجود ہے۔
حکومتوں، انتظامیہ اور شہری سماج کو اس تبدیلی کی حوصلہ افزائی اور حمایت کرنی چاہیے۔ یہ کام مذہبی تنظیموں کو اپنے کنٹرول میں لے کر نہیں، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرکے کیا جانا چاہیے جس میں وہ کھل کر مکالمہ کر سکیں، اپنی اصلاح کر سکیں اور ہندوستان کی جمہوری اور سماجی ترقی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں۔