کیا ہندوستان اسلامی دنیا کی فکری قیادت جاری رکھ سکتا ہے؟

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 30-10-2026
کیا ہندوستان اسلامی دنیا کی فکری قیادت جاری رکھ سکتا ہے؟
کیا ہندوستان اسلامی دنیا کی فکری قیادت جاری رکھ سکتا ہے؟

 



 

 

ثاقب سلیم

گزشتہ چار صدیوں میں اسلام کی تاریخ کو آگے بڑھانے میں برصغیر کے اسلامی علما نے جو کردار ادا کیا ہے، وہ عام طور پر پائے جانے والے تصورات کے برعکس ہے۔ مسلم مفکرین کی اس شاندار روایت کو دیکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستان آئندہ بھی اسلامی دنیا کی فکری قیادت کرسکتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستانی علما نے عرب دنیا کے فکری اثرات سے آزاد ہوکر اپنی علمی شناخت قائم کرنے اور روحانی خود اعتمادی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ہندوستان کے اسلامی علما، یعنی علمائے ہند، نے ایسا دینی فکری نظام تشکیل دیا جس کی جڑیں قرآن مجید میں پیوست تھیں، لیکن ساتھ ہی وہ ہندوستان کے مخصوص سماجی اور سیاسی حالات سے بھی ہم آہنگ تھا۔

اسی فکر نے عالمی مسلم برادری کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ اٹھارہویں صدی میں کئی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ مغلیہ سلطنت زوال پذیر ہوئی، یورپی نوآبادیاتی طاقتیں ابھرنے لگیں اور صنعتی انقلاب نے دنیا کی شکل بدلنا شروع کردی۔ ان حالات میں ہندوستانی اسلامی علما نے اپنے درمیان ایک بھرپور، کبھی اختلافات سے بھرپور، لیکن گہری علمی اہمیت رکھنے والی بحث و گفتگو کا سلسلہ شروع کیا، جس کے اثرات پوری مسلم امت پر مرتب ہوئے۔ یہ محض خشک علمی بحثیں نہیں تھیں، بلکہ ایک زندہ تہذیب کی وہ کوششیں تھیں جو اپنے عہد کے تقاضوں کا جواب دے رہی تھیں۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کو جنوبی ایشیا میں اسلامی فکر کی بنیاد رکھنے والی اہم شخصیات میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

awaz

اٹھارہویں صدی کے ابتدائی دور میں انہوں نے جس فکری روایت کی بنیاد رکھی، اس نے اگلی تین صدیوں میں عالم اسلام پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے تھے اور انہیں احساس تھا کہ اسلام کو خواص اور حکمران طبقے کی محفلوں سے نکل کر عام لوگوں کے دلوں تک پہنچنا ہوگا۔ شاہ ولی اللہ نے قرآن مجید کا فارسی میں ترجمہ کرکے اسلامی علم کو عام لوگوں تک پہنچانے کی ایک اہم کوشش کی۔ اس اقدام پر انہیں قدامت پسند علما کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے نتیجے میں ان لوگوں کے لیے بھی الہٰی ہدایت تک رسائی ممکن ہوئی جو عربی زبان نہیں سمجھتے تھے۔

وہ تطبیق، یعنی مختلف علمی و فکری روایتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے، کے قائل تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ فقہا کی قانونی و فقہی بصیرت کو صوفیا کی روحانی گہرائی کے ساتھ جوڑا جائے۔ علامہ اقبال نے شاہ ولی اللہ کی اہمیت کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا کہ ’’مسلم دنیا کی نبض شاہ ولی اللہ کی فکر سے دھڑکنے لگی۔‘‘ شاہ ولی اللہ کے نزدیک اسلامی تعلیمات محض مذہبی عقائد کا مجموعہ نہیں تھیں، بلکہ بقا اور زندگی کو سنوارنے کا ایک راستہ بھی تھیں۔ کارل مارکس سے تقریباً ایک صدی پہلے انہوں نے عدل و انصاف پر مبنی سماجی و معاشی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا خیال تھا کہ غربت اور عدم مساوات میں مبتلا معاشرہ حقیقی معنوں میں اسلامی نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے اسلامی قانون کا عقلی دفاع پیش کیا اور اسے محض چند غیر متغیر عقائد کے بجائے ایسا نظام قرار دیا جس کا مقصد پوری انسانیت کی اجتماعی فلاح و بہبود ہے۔ بعد میں ان کے بیٹوں اور پوتوں نے اس تحریک کو آگے بڑھایا اور قرآن مجید کا اردو میں ترجمہ کیا، جس سے اسلامی علم عام لوگوں کی زبان میں ان تک پہنچنے لگا۔ شاہ ولی اللہ نے فکر اور نظریے کی بنیاد فراہم کی، جبکہ دیوبند کے مکتب فکر نے ان اصولوں کو معاشرے میں نافذ کرنے کی کوشش کی۔ دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ان علما نے رکھی جنہوں نے 1857 کی جنگ آزادی میں حصہ لیا تھا۔ یہ ادارہ محض ایک دینی مدرسہ نہیں تھا، بلکہ تہذیبی اور سیاسی مزاحمت کا ایک اہم مرکز بھی تھا۔

مولانا محمد قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی، جنہوں نے 1857 میں برطانوی فوج کے خلاف مسلح جدوجہد میں حصہ لیا تھا، اس حقیقت کو سمجھ چکے تھے کہ ہندوستان پر انگریزوں کا اقتدار ایک زمینی حقیقت بن چکا ہے۔ اس بحران کے دور میں علما کے لیے ضروری تھا کہ وہ ہندوستان پر ہونے والے تہذیبی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف جدوجہد کی قیادت کریں۔ دارالعلوم دیوبند نے بنیادی دینی متون کی طرف واپسی پر زور دیا اور مذہب کے نام پر رائج سماجی برائیوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ اس کا تنظیمی ماڈل، یعنی مدارس کا نظام، وقت گزرنے کے ساتھ اپنی اہمیت اور افادیت ثابت کرتا رہا۔

اس ادارے نے سرکاری امداد لینے سے گریز کیا اور عوام کے چھوٹے چھوٹے عطیات، یعنی چندے، پر انحصار کیا۔ اس طرح ایک ایسا دینی نظام وجود میں آیا جو ریاستی مداخلت سے آزاد اور عوامی تعاون پر قائم تھا۔ 1866 میں قائم ہونے والے اس مدرسے سے اب دنیا بھر میں ہزاروں مدارس وابستہ ہیں۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں دیوبند کی خدمات اس کی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔

شیخ الہند مولانا محمود حسن کی قیادت میں چلنے والی تحریک ریشمی رومال اس بات کی مثال ہے کہ دیوبندی فکر کا تعلق ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد سے کس قدر گہرا تھا۔ بعد میں ان علما نے جمعیت علمائے ہند قائم کی، جس نے مہاتما گاندھی اور سبھاش چندر بوس کے ساتھ مل کر آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ دیوبندی نقطۂ نظر کے مطابق، دینی شناخت کا تحفظ نوآبادیاتی جبر کے خلاف جدوجہد سے الگ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جہاں دیوبند نے فکری اصلاح پر توجہ دی، وہیں بریلی کے امام احمد رضا خان نے ہندوستانی مسلمانوں کی روحانی شناخت، یعنی رسول اللہ حضرت محمد ﷺ سے ان کی گہری محبت، کے تحفظ کی کوشش کی۔

انیسویں صدی کے اواخر میں احمد رضا خان کی قیادت میں بریلوی تحریک، جسے اہل سنت و جماعت بھی کہا جاتا ہے، نے ان صوفیانہ روایات کا دفاع کیا جو صدیوں سے جنوبی ایشیا کے اسلام کی پہچان رہی تھیں۔ احمد رضا خان ایک ہمہ جہت عالم تھے، جنہوں نے علم ہیئت سے لے کر فقہ تک مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا۔ ان کی فکر کا مرکزی نکتہ عشق رسول ﷺ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ رسول اللہ ﷺ محض تاریخ کی ایک شخصیت نہیں، بلکہ ایک زندہ روحانی نسبت کا مرکز ہیں۔ بریلوی روایت میں میلاد النبی ﷺ کی محفلیں، اولیا اور پیروں سے عقیدت اور درگاہوں کی ثقافت ایسے اہم عناصر ہیں جنہوں نے اسلام کو مقامی تہذیب اور معاشرتی زندگی سے جوڑے رکھا۔

اس روایت نے مذہبی عقیدے کے جمالیاتی اور جذباتی پہلوؤں کو تحفظ فراہم کیا اور اس بات کو یقینی بنانے میں کردار ادا کیا کہ گنگا جمنی تہذیب اسلامی دائرے کے اندر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ رہے

۔ 1920 کی دہائی میں مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے محسوس کیا کہ دیہی علاقوں میں ایسے بہت سے مسلمان موجود ہیں جو محض نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ غربت اور تعلیم کی کمی نے انہیں اپنے مذہب کی حقیقی تعلیمات سے دور کردیا تھا۔ اس صورت حال کے جواب میں انہوں نے تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھی، جو جدید تاریخ کی کامیاب ترین عوامی مسلم تحریکوں میں سے ایک ہے۔ تبلیغی جماعت نے توجہ کا مرکز مدرسے کے علما سے بدل کر عام مسلمان کو بنایا۔ مولانا الیاس نے دین کی بنیادی تعلیمات کو چھ نکات میں سمیٹ کر عام آدمی کو بھی دین کا پیغام پہنچانے کے قابل بنایا۔ یہ ایک ایسی مساوات پسندانہ تبدیلی تھی جس میں مزدور اور تاجر ایک ہی فرش پر بیٹھتے، ایک ہی برتن میں کھانا کھاتے اور اللہ کی رضا کے لیے ایک ساتھ سفر کرتے تھے۔ اس تحریک کی ایک اہم فکری خدمت روزمرہ زندگی کے معمولات کو بھی دینی اہمیت دینا تھی۔

اس نے سکھایا کہ کھانا کھانے سے لے کر پڑوسی کو سلام کرنے تک، ہر عمل انسان کے دینی شعور اور کردار کا اظہار بن سکتا ہے۔ شدید فرقہ وارانہ کشیدگی کے دور میں اس تحریک نے سیاسی سرگرمیوں سے دور رہتے ہوئے مسلمانوں کی داخلی اخلاقی اصلاح پر توجہ دی۔ مولانا الیاس مسلمانوں سے کہتے تھے کہ وہ دوسروں کو مسلمان بنانے کی کوشش کرنے سے پہلے خود اچھے مسلمان بننے کی فکر کریں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے قوم پرستی، اشتراکیت اور سیکولرازم جیسے جدید نظریات کے چیلنج کا جواب اسلام کو ایک مکمل نظام، یعنی نظام زندگی، کے طور پر پیش کرکے دیا۔

ان کی قائم کردہ جماعت اسلامی نے تبلیغی جماعت کے برعکس یہ موقف اختیار کیا کہ اسلام محض مسلمانوں کی انفرادی زندگی کا معاملہ نہیں، بلکہ ریاست اور معاشرے کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل بھی ہے۔ مودودی کی فکر اپنے استدلال کے اعتبار سے انقلابی تھی۔ انہوں نے جدید دنیا کی زبان اور اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے حاکمیت الٰہی کا تصور پیش کیا۔ اگرچہ ان کے سیاسی نظریات پر آج بھی شدید بحث ہوتی ہے اور بعض لوگ ان کی فکر کو محض نظریاتی قرار دیتے ہیں، لیکن ان کی علمی و فکری خدمات کے اثرات دور دور تک پہنچے، یہاں تک کہ مصر میں بھی ان کی فکر سے اثر قبول کیا گیا۔

awaz

ہندوستانی علما کی خدمات کا ذکر اسماعیلی روایتوں، خصوصاً داؤدی بوہرہ اور آغا خانی برادریوں، کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ ان برادریوں نے یہ دکھایا کہ اسلامی فکر اپنی بنیادی شناخت برقرار رکھتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں کو بھی اپنا سکتی ہے۔ داؤدی بوہرہ برادری نے اپنے یکے بعد دیگرے آنے والے داعیوں کی قیادت میں فاطمی علمی روایت کو محفوظ رکھا ہے۔ تعلیم، ماحولیات اور تجارت پر ان کی توجہ نے انہیں ایک خوش حال، قانون کی پابندی کرنے والی اور اپنے مذہب سے گہری وابستگی رکھنے والی برادری کی مثال بنا دیا ہے۔ اسی طرح آغا خان کی قیادت میں آغا خانی برادری نے تکثیریت اور عقل و دانش پر مبنی مذہبی فکر کو فروغ دیا ہے۔ اس روایت نے یہ دکھایا کہ امامت روحانی اور مادی زندگی کے درمیان ایک پل بن سکتی ہے۔ اس میں اعلیٰ معیار کی تعلیم اور عالمی سطح پر انسانی فلاح و بہبود کے کاموں کو مذہبی ذمہ داری کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

آغا خان کے الفاظ میں، ’’قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا خدا کی نشانی ہے، اور سائنس و عقل کے ذریعے دنیا کا مطالعہ کرنا بذات خود عبادت ہے۔‘‘ گزشتہ 400 برسوں میں دنیا جس اسلام سے واقف ہوئی ہے، اس کی تشکیل میں بڑی حد تک ہندوستانی اسلامی علما کا کردار رہا ہے۔ تبلیغی جماعت آج بھی دنیا کی سب سے بڑی عوامی مسلم تحریکوں میں شمار ہوتی ہے، جبکہ دیوبند سے وابستہ ہزاروں مدارس یورپ، افریقہ، ایشیا اور امریکہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ بریلوی تحریک نے برصغیر اور اس سے باہر مسلمانوں کی مذہبی شناخت کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ شیعہ علما میں آیت اللہ خمینی کے اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا، جن کا تعلق لکھنؤ سے تھا۔ اسی طرح مودودی کی تعلیمات نے مصر اور دیگر مقامات پر اخوان المسلمون کے رہنماؤں کو بھی متاثر کیا۔

مختصر یہ کہ یہ تصور درست نہیں کہ اسلام کی تعریف صرف عرب کرتے ہیں یا روحانی اعتبار سے پوری مسلم دنیا کی قیادت انہی کے ہاتھ میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران ہندوستان نے اسلامی دنیا کی فکری تشکیل اور رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقے میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ حقیقی اسلام کو سمجھنے کے لیے ہندوستانی مسلمانوں کو صرف عرب دنیا کی مثالوں کی پیروی کرنی چاہیے، لیکن تاریخ میں اس تصور کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ملتی۔ ہندوستانی علما نے اسلام کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات کی تشریح کرنے کے اپنے مخصوص طریقے وضع کیے، جنہیں بعد میں عرب دنیا سمیت مختلف خطوں میں قبول کیا گیا اور ان سے اثرات اخذ کیے گئے۔

awaz

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان، جس نے اسلام کے عظیم مفکرین اور دانش وروں کو جنم دیا ہے، مستقبل میں بھی اس روایت کو جاری رکھ سکتا ہے؟ اور کیا ہم نوجوانوں کی ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو مستقبل میں فکری قیادت سنبھال کر مسلمانوں کو ایک مناسب اور مؤثر سمت دے سکے؟ فکری قیادت کا مقام حاصل کرنے کے لیے ایسے مفکرین کی پرورش اور تربیت ناگزیر ہے جو ایک نیا، وسیع تر اور جامع فکری بیانیہ پیش کر سکیں؛ ایسا بیانیہ جو مختلف نظریاتی و فکری نظاموں کو اپنے اندر سموئے، دوسرے افکار سے تصادم کے بجائے ان کے ساتھ ہم آہنگی اور مکالمے کی گنجائش پیدا کرے۔