نئی دہلی: دہلی میں ایک لڑکی نے ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ایک نوجوان سے رابطہ کیا اور اسے مکھرجی نگر کے ایک کیفے میں لے گئی، جہاں مبینہ طور پر اس سے 26 ہزار روپے کا بل زبردستی ادا کرایا گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں کیفے کے مالک سمیت 2 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی۔ گرفتار ملزمان کی شناخت کیفے مالک جاوید (38) اور انوج کمار (24) کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں اتر پردیش کے غازی آباد کے رہنے والے ہیں۔
پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ بہار کے مغربی چمپارن کے رہنے والے شکایت کنندہ زید احمد کی یکم نومبر کو ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے سانیا نامی لڑکی سے ملاقات ہوئی تھی۔ لڑکی نے اسے جی ٹی بی نگر میٹرو اسٹیشن کے قریب بلایا۔ بعد میں وہ نوجوان کو ہڈسن لین میں واقع ’بلیک پینتھر کیفے‘ لے گئی۔
شکایت کے مطابق، کیفے میں لڑکی نے کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ وہسکی بھی منگوائی۔ کچھ دیر بعد نوجوان کو تقریباً 26 ہزار روپے کا ہاتھ سے لکھا ہوا بل تھما دیا گیا۔ جب اس نے بل کی رقم پر سوال اٹھایا تو کیفے کے مالک اور عملے نے اس پر فوری ادائیگی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ نوجوان کو کیفے سے باہر جانے سے روک دیا گیا اور 3 سے 4 افراد نے دھمکی دے کر اسے رقم ادا کرنے پر مجبور کیا۔ پولیس افسر کے مطابق، نوجوان نے اپنے والد سے رابطہ کیا، جنہوں نے آن لائن رقم بھیجی۔ ادائیگی کے بعد ہی اسے کیفے سے جانے دیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ شکایت کی بنیاد پر یکم نومبر کو مکھرجی نگر پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق، اس معاملے میں سانیا عرف نکیتا کی تلاش جاری ہے اور یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ اس واردات میں دیگر افراد ملوث ہیں یا نہیں۔ گرفتار دونوں ملزمان کے خلاف پہلے کسی دوسرے مجرمانہ معاملے میں ملوث ہونے کا ریکارڈ نہیں ملا ہے۔