جہاں قانون خاموش ہو، وہاں آئین کو عدلیہ کی رہنمائی کرنی چاہیے: چیف جسٹس

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 30-10-2026
جہاں قانون خاموش ہو، وہاں آئین کو عدلیہ کی رہنمائی کرنی چاہیے: چیف جسٹس
جہاں قانون خاموش ہو، وہاں آئین کو عدلیہ کی رہنمائی کرنی چاہیے: چیف جسٹس

 



نئی دہلی: ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے جمعہ کو کہا کہ جہاں قانون خاموش ہو، وہاں آئین کو عدلیہ کی رہنمائی کرنی چاہیے، کیونکہ آئین میں وقار، آزادی اور مساوات کی جو ضمانت دی گئی ہے، وہ ٹیکنالوجی کی تبدیلیوں کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کے سامنے اب ایسے سوالات آ رہے ہیں جن کے بارے میں ایک دہائی پہلے سوچنا بھی مشکل تھا۔ ان میں یہ سوالات بھی شامل ہیں کہ کیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ مواد کو کاپی رائٹ کا تحفظ دیا جا سکتا ہے؟ ڈیپ فیک کے معاملے میں قانون کو کیا موقف اختیار کرنا چاہیے؟ اور ٹیکنالوجی کو اس طرح کیسے فروغ دیا جائے کہ اس سے افراد کے حقوق کو نقصان نہ پہنچے؟

انہوں نے کہا، ’’ایسے سوالات کے جواب قانون کی کتابوں میں آسانی سے نہیں ملتے۔ جہاں قانون خاموش ہوتا ہے، وہاں آئین ہی ہماری رہنمائی کرتا ہے۔‘‘ دہلی ہائی کورٹ کے قیام کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا، ’’وقار، آزادی اور مساوات کی آئینی ضمانت ٹیکنالوجی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی اور ہر نئے سوال کا جواب اسی نقطہ نظر سے دیا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس آئینی وعدے پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ بدلتی ہوئی دنیا اور نئے چیلنجوں کا مؤثر طریقے سے سامنا کر سکتا ہے۔

ایسا کرتے ہوئے اسے اس شخص کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے جس کے تحفظ کے لیے اس عدالت کا قیام عمل میں آیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا دہلی ہائی کورٹ کے ساتھ ہمیشہ سے ایک خاص تعلق رہا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ دونوں عدالتیں ایک دوسرے کے پڑوس میں واقع ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ دیگر ہائی کورٹس کے مقابلے دہلی ہائی کورٹ سپریم کورٹ کے مقدمات کے بوجھ کو کافی حد تک کم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کئی بار جب ہمارے سامنے کوئی مقدمہ آتا ہے تو ہم وکلا کو یاد دلاتے ہیں کہ دہلی ہائی کورٹ قریب ہی ہے اور ممکن ہے کہ ان کے مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ میں ہونے سے پہلے ہی انہیں وہاں سے راحت مل جائے۔‘

‘ سپریم کورٹ کے جج جسٹس وکرم ناتھ نے اپنے خطاب میں قانون کی ترقی اور گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران ادارہ جاتی سطح پر دہلی ہائی کورٹ کی توسیع میں اس کے کردار کی تعریف کی۔ جسٹس ناتھ نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کے جج بعض اوقات ’’سپریم کورٹ کے ججوں سے بھی زیادہ طاقتور‘‘ نظر آتے ہیں۔ چیف جسٹس نے 1966 میں دہلی ہائی کورٹ کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی آبادی کے ساتھ مقدمات کی تعداد میں بھی فطری طور پر اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح اس عدالت میں وکلا اور مقدمات لڑنے والے افراد کی تعداد بھی بڑھی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’یہ عدالت کبھی صرف چار ججوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی، لیکن آج ایک ایسے ادارے کی شکل اختیار کر چکی ہے جو کئی طرح کے اور انتہائی پیچیدہ تنازعات کو حل کرتا ہے۔‘‘ تقریب میں سپریم کورٹ کے دیگر ججوں، دہلی ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے اور ہائی کورٹ کے موجودہ اور سابق ججوں نے بھی شرکت کی۔