بہار کو سیلاب سے نجات کے لیے واٹر مینجمنٹ، دریاؤں کی ڈریجنگ اور واٹر گرڈ ضروری: گڈکری

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 01-10-2026
بہار کو سیلاب سے نجات کے لیے واٹر مینجمنٹ، دریاؤں کی ڈریجنگ اور واٹر گرڈ ضروری: گڈکری
بہار کو سیلاب سے نجات کے لیے واٹر مینجمنٹ، دریاؤں کی ڈریجنگ اور واٹر گرڈ ضروری: گڈکری

 



پٹنہ: مرکزی وزیر نتن گڈکری نے جمعرات کو بہار کو سیلاب کی مشکل سے نجات دلانے کے لیے جامع آبی انتظام، دریاؤں کی ڈریجنگ، حفاظتی دیواروں کی تعمیر اور واٹر گرڈ تیار کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے پٹنہ میں منعقدہ ’بہار انویسٹر سمٹ 2026: دی ایمرجنگ انویسٹمنٹ ڈیسٹینیشن آف انڈیا‘ کے افتتاح کے بعد اپنے خطاب میں یہ بات کہی۔ گڈکری نے کہا کہ بہار میں سیلاب کے مسئلے کے حل کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نئی اور مؤثر پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے۔ مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے تو اس مسئلے کا کم لاگت میں حل نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’جس طرح قومی شاہراہوں کا گرڈ اور بجلی کا گرڈ ہے، اسی طرح واٹر گرڈ نظام نافذ کرنے اور ایک دریائی بیسن سے دوسرے بیسن تک پانی منتقل کرنے سے ریاست میں اضافی پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔‘‘ مرکزی وزیر نے سیلاب کے خطرے کو کم کرنے کے لیے دریاؤں کی کم لاگت یا مفت ڈریجنگ پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے بھارتی قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے آئی) کے افسران سے بات کی ہے۔ ہم مفت ڈریجنگ کرنے اور اس سے نکلنے والی گاد کو ہٹانے کے لیے تیار ہیں۔

اس گاد کو شاہراہوں کی تعمیر میں مواد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر بہار حکومت ایسی پالیسی کو منظوری دیتی ہے تو میں یقین دلاتا ہوں کہ کم لاگت میں سیلاب کے مسئلے کا مؤثر حل نکالا جا سکتا ہے۔‘‘ گڈکری نے کہا کہ بندھوں اور حفاظتی دیواروں کی تعمیر کے ساتھ گہرے آبی راستے تیار کرنے سے آبی نقل و حمل کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس سے نقل و حمل کی لاگت کم ہوگی اور صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہم تین میٹر گہرا آبی راستہ بناتے ہیں تو وارانسی سے بنگلہ دیش کے ڈھاکہ تک 3 ہزار ٹن گنجائش والی بارج لے جائی جا سکتی ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش جانے والا ہندوستانی کنٹینر جواہر لال نہرو پورٹ (جے این پی ٹی) اور کولمبو کے راستے جاتا ہے۔

مجوزہ راستے سے لاجسٹکس کی لاگت میں کافی کمی آئے گی۔ اگر آپ صنعت، تجارت اور کاروبار کو بڑھانا چاہتے ہیں تو لاجسٹکس کی لاگت کم کرنا ہوگی۔‘‘ گڈکری نے اپنے دورِ کار میں نیپال میں کوسی ندی پر ڈیم کے منصوبے کی تکمیل نہ ہو پانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ زمین کے حصول اور دیگر وجوہات کی وجہ سے یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا، حالاں کہ اس کے مکمل ہونے سے بہار میں سیلاب کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا تھا۔ اپنے خطاب میں گڈکری نے ’کچرے سے دولت‘ یعنی ویسٹ ٹو ویلتھ کے تصور پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ علم، جدت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کچرے کو معاشی قدر میں تبدیل کرنا ترقی کا مستقبل ہے۔ ملک میں گاد سے پانی کی صفائی اور نامیاتی کچرے سے بایو سی این جی بنانے جیسے کئی منصوبوں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹھوس اور مائع کچرے کے انتظام کی معیشت اکیلے پانچ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ گڈکری نے بہار میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے کیے جا رہے سرمایہ کاری کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں شاہراہوں کی تعمیر کے لیے 3 لاکھ 85 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں مکمل ہو چکے، زیر تعمیر اور مجوزہ منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے سفر کا وقت نمایاں طور پر کم کرنے اور اقتصادی رابطے کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔