ممبئی :میرا روڈ میں امن مارچ، ہندو مسلم اتحاد اور بھائی چارے کا مضبوط پیغام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
ممبئی :میرا روڈ میں امن مارچ، ہندو مسلم اتحاد اور بھائی چارے کا مضبوط پیغام
ممبئی :میرا روڈ میں امن مارچ، ہندو مسلم اتحاد اور بھائی چارے کا مضبوط پیغام

 



محمد اویس / ممبئی

میرا روڈ میں امن مارچ کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد معاشرے سے نفرت کا خاتمہ اور امن و بھائی چارے کے پیغام کو عام کرنا تھا۔ اس امن ریلی کا اہتمام معروف علما اور سماجی کارکنوں نے مشترکہ طور پر کیا۔ ریلی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیات اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔اس موقع پر ممبئی کی متعدد مذہبی و سماجی شخصیات اور رہنما موجود تھے جن میں بامبے کیتھولک سبھا کے صدر ڈولفی ڈی سوزا۔ فادر مائیکل۔ فادر گلبرٹ۔ اسکان مشن کے تپوون ہری اور جیون داس۔ مولانا فیاض باقری۔ میونسپل کارپوریٹر ایڈوکیٹ ثنا دیشمکھ۔ مہاراشٹر نونرمان سینا کے میرا بھائندر صدر سندیپ رانے۔ ونچت بہوجن اگھاڑی کے اقبال مہادک۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی میرا بھائندر کے غلام نبی فاروقی۔ سابق میونسپل کارپوریٹر میریلن ڈی سوزا اور جماعت اسلامی میرا روڈ کے صدر ڈاکٹر طارق شاہ سمیت مختلف تنظیموں کے ذمہ داران شامل تھے۔

یہ ریلی میرا روڈ کے سشتی کمپلیکس میں واقع سوریا شاپنگ سینٹر سے شروع ہوئی اور پونم کلسٹر ہاؤسنگ سوسائٹی۔ سینٹ زیویئرز اور سنگاپور پلازا سے گزرتے ہوئے میرا روڈ ریلوے اسٹیشن کے سامنے شہید کوستبھ رانے میموریل پر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی کے دوران شرکا نے ’’بھائی چارہ زندہ باد‘‘۔ ’’ہندو۔ مسلم۔ سکھ۔ عیسائی سب آپس میں بھائی بھائی‘‘ اور ’’فرقہ وارانہ ہم آہنگی زندہ باد‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مذہبی اختلافات کے باوجود تمام شہری ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام سے رہ سکتے ہیں۔

ریلی کے منتظم صادق باشا نے بتایا کہ اس مارچ کا اہتمام ’’میرا بھائندر فار پیس‘‘ کے بینر تلے کیا گیا ہے جس میں شہر کی تمام سماجی۔ سیاسی اور مذہبی تنظیموں کے ساتھ مختلف مذاہب کے رہنما اور کارکن شریک ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ شہر میں امن۔ سکون اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ایک بڑی شہری مہم کا آغاز ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچا ہے۔ بعض نفرت انگیز گروہوں نے شہر میں مذہبی اور سماجی بنیادوں پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ایسے واقعات بھی پیش آئے جن سے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہی حالات کے پیش نظر امن مارچ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

امن مارچ کے ایک اور منتظم سمیر واگلے نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایک ایسا مضبوط اور پُرامن شہر تعمیر کرنا ہے جہاں ہر شہری ایک دوسرے کا احترام کرے اور تمام مذاہب کے ماننے والے محبت اور بھائی چارے کے ساتھ زندگی گزاریں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو نفرت پھیلانے والوں کے جال میں پھنسنے کے بجائے باہمی احترام اور ہم آہنگی کو ترجیح دینی چاہیے۔ریلی میں شریک مسیحی مذہبی رہنما فادر گلبرٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مارچ کا حصہ بن کر بہت خوش ہیں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ امن کے لیے ایک ساتھ چل رہے ہیں۔ ان کے مطابق آج نہ صرف ہندستان بلکہ پوری دنیا کو امن کی ضرورت ہے۔ ایسا امن جس کے ذریعے بھائی چارے۔ محبت۔ دوستی اور خیر خواہی کا پیغام عام کیا جا سکے۔

اس موقع پر ایک ہندو مذہبی رہنما نے کہا کہ ہر شخص کو محبت اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ کسی کو یہ حکم دینے کا حق نہیں کہ وہ کیا کھائے اور کیا نہ کھائے یا اپنے تہوار کس طرح منائے۔ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مکمل نظم و ضبط کے ساتھ دوسروں کا خیال رکھتے ہوئے اپنے تہوار منائے اور ہر طرف محبت کا پیغام پھیلائے۔ انہوں نے امن مارچ کو شہر میں امن و سکون کے فروغ کی جانب ایک اچھا قدم قرار دیا۔اس ریلی میں شہر کے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ سماجی اور سیاسی کارکنوں۔ بچوں۔ بزرگوں۔ نوجوانوں۔ طلبہ اور خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے امن۔ مذہبی اتحاد اور بھائی چارے کے موضوع پر نظمیں اور گیت بھی پیش کیے۔ کئی افراد کے ہاتھوں میں پھولوں کے گلدستے تھے جبکہ دیگر شرکا نے بھائی چارے اور اتحاد کے پیغامات پر مشتمل بینر اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔آخر میں امن مارچ میرا روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک مختصر خطاب اور منتظمین کے اظہار تشکر کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس مارچ نے یہ پیغام دیا کہ باہمی احترام۔ محبت اور اتحاد کے ذریعے معاشرے میں نفرت کو کم کیا جا سکتا ہے اور مختلف مذاہب کے لوگ مل کر ایک پُرامن شہر کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔