بجلی خریداری معاہدے پر وجین نے وزیر اعلیٰ سے جواب طلب کرلیا، متعلقہ فائلیں عام کرنے کا مطالبہ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 07-11-2026
بجلی خریداری معاہدے پر وجین نے وزیر اعلیٰ سے جواب طلب کرلیا، متعلقہ فائلیں عام کرنے کا مطالبہ
بجلی خریداری معاہدے پر وجین نے وزیر اعلیٰ سے جواب طلب کرلیا، متعلقہ فائلیں عام کرنے کا مطالبہ

 



ترواننت پورم،: کیرالہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پنرائی وجین نے ہفتہ کے روز وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیشن پر جی این اے پلیٹ فارم کے ساتھ بجلی کی خریداری کے متنازع معاہدے کے معاملے میں گمراہ کن بیانات دینے کا الزام عائد کیا اور مطالبہ کیا کہ اس معاہدے سے متعلق تمام فائلیں اور دستاویزات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔ وجین نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعلیٰ اس معاہدے کے حوالے سے لگائے گئے سنگین الزامات کا واضح جواب دینے کے بجائے ان سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت اس معاملے سے متعلق تمام فائلیں اور خط و کتابت عام کرنے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ کیرالہ اسٹیٹ الیکٹریسٹی بورڈ (کے ایس ای بی) نے ہماچل پردیش سے بجلی خریدنے کی تجویز کا تکنیکی اور مالی جائزہ لیا تھا اور اپنی سفارشات حکومت کو پیش کی تھیں۔ ان کے مطابق، سرکاری سطح پر ہونے والی بات چیت کے بعد متعلقہ محکمے کے وزیر نے بھی ہماچل پردیش سے بجلی خریدنے کی تجویز کی حمایت کی تھی۔ وجین نے سوال کیا کہ جب بجلی بورڈ نے اعتراضات اٹھائے تھے اور محکمے کے وزیر نے اپنی رائے بھی پیش کردی تھی تو وزیر اعلیٰ نے جی این اے انرجی کی تجویز قبول کرنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا؟

جی این اے انرجی ایک ڈیجیٹل ’اوور دی کاؤنٹر‘ (او ٹی سی) پلیٹ فارم ہے، جو بجلی خریدنے اور فروخت کرنے کے خواہش مند فریقوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ وجین نے یہ بھی پوچھا کہ کیا بجلی بورڈ نے حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ جی این اے کی تجویز سے بھاری مالی نقصان ہوسکتا ہے؟ کیا چیف انجینئر نے اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ بھی تیار کی تھی؟ انہوں نے سوال کیا، ’’اگر وزیر اعلیٰ کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے تو متعلقہ فائل اور حکومت کو موصول ہونے والا خط مکمل طور پر عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا؟‘‘ وجین نے حکومت سے یہ وضاحت بھی طلب کی کہ کیا ریاستی بجلی ریگولیٹری کمیشن نے کہا تھا کہ یکم نومبر 2026 سے 31 مارچ 2027 تک کے عرصے میں مہنگی شرحوں پر بجلی خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔