ڈیجیٹل دھوکہ دہی میں بینک کی لاپروائی سے نقصان ہونے پر متاثرین کو معاوضہ ملے: سپریم کورٹ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 29-10-2026
ڈیجیٹل دھوکہ دہی میں بینک کی لاپروائی سے نقصان ہونے پر متاثرین کو معاوضہ ملے: سپریم کورٹ
ڈیجیٹل دھوکہ دہی میں بینک کی لاپروائی سے نقصان ہونے پر متاثرین کو معاوضہ ملے: سپریم کورٹ

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے معاملات میں اگر کسی مالیاتی ادارے کی مناسب جانچ پڑتال میں ناکامی کی وجہ سے جرم ہوا ہو تو متاثرین کو کم از کم ان کی گنوائی ہوئی رقم کے برابر معاوضہ ملنا چاہیے۔ عدالت نے بینکوں کی جواب دہی طے کرنے اور دھوکہ دہی کی روک تھام کے لیے سخت ضابطے بنانے پر بھی زور دیا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ سائبر جرائم کے واقعات میں 50 فیصد کمی آنے کے باوجود اس سال اب تک لوگوں کو تقریباً 800 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ بنچ نے کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے مجوزہ ضابطہ جاتی نظام میں معاوضے، دھوکہ دہی کی روک تھام اور مالیاتی اداروں کی جواب دہی سے متعلق واضح دفعات ہونی چاہئیں۔ عدالت آر بی آئی کی جانب سے تجویز کردہ اپنے صارف کو جانیں (کے وائی سی) سے متعلق ترمیمی ہدایات 2026 کا پہلے جائزہ لے گی۔ ان ہدایات کو 30 نومبر تک باضابطہ طور پر جاری کرنے اور 31 دسمبر تک نافذ کرنے کی تجویز ہے۔

بنچ نے اپنے حکم میں کہا، ’’آر بی آئی کے مجوزہ ضابطہ جاتی اقدامات میں مالیاتی اداروں کے لیے یہ لازمی ہونا چاہیے کہ وہ ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ یا سائبر دھوکہ دہی کے متاثرین کو مناسب معاوضہ دیں۔ یہ معاوضہ صارف کی گنوائی ہوئی رقم سے کم نہیں ہونا چاہیے، بشرطیکہ یہ پایا جائے کہ دھوکہ دہی مالیاتی ادارے کی مناسب جانچ پڑتال میں ناکامی کی وجہ سے ہوئی۔‘‘ چیف جسٹس نے کہا کہ بینکوں کے خلاف سزا دینے کی دفعات ضروری ہیں، ورنہ وہ اپنے کام کرنے کے طریقے میں اصلاح نہیں کریں گے۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بینک کھاتوں کی نوعیت اور لین دین کے طریقے کی بنیاد پر انہیں الگ الگ زمروں میں کیوں نہیں بانٹ سکتے اور مشتبہ سرگرمیوں کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیوں نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کے پاس کھاتہ داروں کے لین دین کی مکمل تفصیلات ہوتی ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی شخص عام طور پر چھوٹی رقم کا لین دین کرتا ہے اور اچانک بڑی رقم بھیجنے کی کوشش کرتا ہے تو بینک کو مداخلت کرنی چاہیے۔ بنچ نے کہا کہ بینکوں کو ایسا نظام بنانا چاہیے جس کے تحت کھاتہ دار کے معمول کے لین دین سے مختلف کسی غیر معمولی لین دین کو کچھ وقت کے لیے روکا جا سکے، مشتبہ سرگرمیوں کے بارے میں خودکار طریقے سے اطلاع دی جا سکے اور ضرورت پڑنے پر کھاتہ دار سے براہ راست رابطہ کرکے لین دین کی تصدیق کی جا سکے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ کے ذریعے دھوکہ دہی کے ممکنہ شکار افراد کے کھاتوں میں مشتبہ اور بڑی رقم کی آمد و رفت ہونے پر قریبی پولیس تھانے کو خودکار طریقے سے اطلاع دی جانی چاہیے۔ اس سے پولیس بروقت کھاتہ دار سے رابطہ کر سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رقم کھاتے سے نکل جانے کے بعد تحقیقات کرنا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’واقعے کے بعد رپورٹ تیار کرنا محض جانچ پڑتال ہوگی۔ ہماری تشویش اس طرح کے جرائم کو روکنے کے بارے میں ہے۔‘‘ ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ سائبر دھوکہ دہی کا ایک طریقہ ہے جس میں جعل ساز خود کو پولیس یا کسی تفتیشی ایجنسی کا افسر بتا کر لوگوں کو گرفتاری کا خوف دلاتے ہیں اور ان سے رقم اینٹھ لیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی نے عدالت کو بتایا کہ آر بی آئی بینکوں اور ان کے ملازمین کی جواب دہی کے مختلف پہلوؤں پر غور کر رہا ہے۔ اس میں دھوکہ دہی کے معاملے میں ملازمین کی ملی بھگت ثابت ہونے پر ان کی انفرادی ذمہ داری طے کرنا اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی کرنا بھی شامل ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا، ’’ضابطوں میں جواب دہی کی گنجائش ہونی چاہیے، ورنہ ہم عدالتی حکم کے ذریعے اسے نافذ کریں گے۔‘‘ بنچ نے تمام مجاز مالیاتی اداروں کی فہرست بھی طلب کی تاکہ اس کے احکامات کا اطلاق پورے مالیاتی شعبے پر کیا جا سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہر بینک کو الگ سے مقدمے میں فریق بنائے بغیر بھی تمام مالیاتی اداروں پر لاگو ہونے والی ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں۔

بنچ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ایجنسیوں کو بھی ہدایت دی کہ وہ ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ کے معاملات میں درج ایف آئی آر اور تحقیقات کی تفصیلات فراہم کریں اور ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے تجاویز پیش کریں۔ اس دوران پیغام رسانی کے پلیٹ فارم واٹس ایپ کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ پلیٹ فارم اب تک 9,400 مشتبہ کھاتوں کے خلاف کارروائی کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی مشتبہ کھاتوں کی شناخت کرنے اور صارفین کو خبردار کرنے کے لیے سافٹ ویئر تیار کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ ’جعلی دستاویزات کے ذریعے ڈیجیٹل گرفتاری کے متاثرین‘ سے متعلق معاملے میں ازخود نوٹس لے کر سماعت کر رہی ہے۔