دہرادون: اتراکھنڈ پولیس نے ریاستی کابینہ کی وزیر ریکھا آریہ کے شوہر گردھاری لال ساہو عرف پپو گردھاری کو اتر پردیش کے جھانسی سے گرفتار کر لیا ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز یہ اطلاع دی۔ ان پر جعل سازی اور ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے تحت سنگین الزامات ہیں۔ اس معاملے میں ایک دوسرے ملزم ستیندر ٹھاکر کو بھی ادھم سنگھ نگر ضلع کے کچھا کے قریب سے گرفتار کیا گیا ہے۔ دہرادون کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) پرمیندر ڈوبھال نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ملزمین کو عدالتی تحویل میں بھیجا جا رہا ہے۔
ڈوبھال نے کہا، ’’کابینہ وزیر ریکھا آریہ کی شکایت پر 15 اکتوبر کو گردھاری لال ساہو کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس میں جعل سازی اور ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے تحت سنگین الزامات شامل ہیں۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ 9 ارکان پر مشتمل اس ٹیم نے تحقیقات آگے بڑھاتے ہوئے دونوں اہم ملزمین گردھاری لال ساہو اور ستیندر ٹھاکر کو گرفتار کر لیا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور اگر کسی دوسرے شخص کا نام سامنے آتا ہے تو اس کے خلاف بھی مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ پولیس کے مطابق، گردھاری لال ساہو کو جمعہ کی شام جھانسی ضلع میں ایک نجی یونیورسٹی کے کیمپس کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔ وہ کچھ عرصے سے فرار تھے۔
ایس ایس پی ڈوبھال نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ساہو کے خلاف 44 سے زیادہ مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے بعض معاملات میں انہیں سزا بھی ہو چکی ہے، جب کہ دیگر مقدمات زیر التوا ہیں۔ ان کے خلاف ماضی میں بھی سنگین قانونی دفعات کے تحت الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ ایس ایس پی نے یہ بھی بتایا کہ پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریکھا آریہ کو ایک کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹانے اور ان کی جگہ ملزم ستیندر ٹھاکر کو ڈائریکٹر بنانے کے لیے جعلی دستاویزات اور جعل سازی کا سہارا لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر ہم ملزم کو آج عدالت میں پیش کرکے اس کی عدالتی تحویل کی درخواست کریں گے۔
ایک دوسرے شخص ستیندر ٹھاکر کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ جعل سازی کے ذریعے ریکھا آریہ کو کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا کر ایک سازش کے تحت ان کی جگہ ان کے بھتیجے کو ڈائریکٹر بنایا گیا تھا۔ اس کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان پر عائد دیگر الزامات بھی درست پائے گئے ہیں۔‘‘ اس سے پہلے اتراکھنڈ کی کابینہ وزیر ریکھا آریہ نے دہرادون کے کینٹ پولیس اسٹیشن میں اپنے شوہر گردھاری لال ساہو عرف پپو گردھاری کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اس میں تعزیرات ہند 1860 کی مختلف دفعات اور درج فہرست ذات و قبائل (انسداد مظالم) ایکٹ 1989 کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔
پولیس کو دی گئی شکایت میں ریکھا آریہ نے الزام لگایا تھا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ان کے شوہر کا رویہ ان کے تئیں بدل گیا تھا۔ اسی دوران انہیں معلوم ہوا کہ ان کے شوہر کے دوسری خواتین کے ساتھ مبینہ ناجائز تعلقات ہیں۔ جب انہوں نے ان تعلقات پر اعتراض کیا تو ان کے شوہر نے ابتدا میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے زبانی اور تحریری طور پر معافی مانگی، لیکن ان کے مطابق معافی مانگنے کے باوجود یہ سلسلہ جاری رہا۔ ریکھا آریہ نے الزام لگایا کہ ان تعلقات کی مخالفت کرنے پر گردھاری لال ساہو نے ان کے ساتھ مارپیٹ شروع کر دی، گالی گلوج کی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کئی مواقع پر ان کے شوہر نے سرکاری رہائش گاہ پر موجود ملازمین کے سامنے ذات سے متعلق توہین آمیز تبصرے کرکے انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کی۔ وزیر نے مزید الزام لگایا کہ انہیں معلوم ہوا کہ گردھاری لال ساہو نے جعلی دستخطوں اور فرضی دستاویزات کے ذریعے یہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں متعلقہ کمپنیوں کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے نہ تو ایسے کسی دستاویز پر دستخط کیے اور نہ ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔