اردو اپنی شناخت برقرار رکھے تو زندگی کے کسی بھی میدان میں ماند نہیں پڑتی: سید عین الحسن

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 24-09-2026
اردو اپنی شناخت برقرار رکھے تو زندگی کے کسی بھی میدان میں ماند نہیں پڑتی: سید عین الحسن
اردو اپنی شناخت برقرار رکھے تو زندگی کے کسی بھی میدان میں ماند نہیں پڑتی: سید عین الحسن

 



حیدرآباد/نئی دہلی: ’’قومی اردو کونسل اور مانو کا امتزاج فطری امتزاج ہے۔ زبان اگر اپنی شناخت باقی رکھتی ہے تو یہ زندگی کے کسی بھی میدان میں ماند نہیں پڑتی۔ زبان اپنا راستہ خود بناتی ہے، جس کا خوب صورت سلسلہ شاعری سے شروع ہوتا ہے۔‘‘

یہ بات مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو)، حیدرآباد کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے سی پی ڈی یو ایم ٹی آڈیٹوریم، مانو، حیدرآباد میں منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کہی۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے اشتراک سے ’’اردو اور دیگر ہندوستانی زبانیں: لسانی، ادبی و ثقافتی روابط‘‘ کے عنوان سے دو روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار کے پہلے روز افتتاحی اجلاس کے علاوہ تین تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں ماہرینِ زبان و ادب نے مختلف موضوعات پر اپنے مقالات پیش کیے۔

زبان اپنی شناخت کے ساتھ اپنا راستہ خود بناتی ہے

افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر سید عین الحسن نے قومی اردو کونسل اور مانو کے باہمی اشتراک کو فطری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اداروں کی کوششوں میں زبان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی زبان کی بقا اور اس کی معنویت اس کی شناخت سے وابستہ ہے۔ اگر زبان اپنی شناخت کو برقرار رکھتی ہے تو زندگی کے کسی بھی میدان میں اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ زبان اپنے لیے راستہ خود بناتی ہے اور اس کا ایک خوب صورت سلسلہ شاعری سے شروع ہوتا ہے۔

ان کے مطابق زبان صرف بولے جانے کے ذریعے ہی اپنا اثر قائم نہیں کرتی بلکہ خاموشی کے ساتھ بھی انسانی احساسات اور معاشرے پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ انہوں نے اردو زبان سے پیدا ہونے والی مختلف کیفیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اردو میں یہ کیفیات دوسری زبانوں کے ساتھ اختلاط اور میل جول کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہیں۔

پروفیسر سید عین الحسن کے صدارتی خطاب نے سیمینار کے بنیادی موضوع کو ایک وسیع تناظر فراہم کیا، جس میں اردو کو ہندوستان کی مختلف زبانوں، تہذیبوں اور ثقافتی روایتوں کے ساتھ باہمی ربط کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی۔

موضوع وسیع اور متنوع ہے: پروفیسر اشتیاق احمد

افتتاحی اجلاس میں مہمانِ اعزازی پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد، رجسٹرار، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد نے بھی اظہار خیال کیا۔انہوں نے سیمینار کے موضوع کو وسیع اور متنوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اردو اور دیگر ہندوستانی زبانیں: لسانی، ادبی و ثقافتی روابط‘‘ ایسا موضوع ہے جس پر کافی علمی اور بامعنی گفتگو کی جاسکتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیمینار میں شریک ماہرین اپنے مقالات کے ذریعے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بہتر انداز میں روشنی ڈالیں گے اور اردو و دیگر ہندوستانی زبانوں کے باہمی تعلق کو علمی بنیادوں پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

اردو کے ذریعے ہندوستان کی تکثیریت کو سمجھنے کی کوشش

افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد شمس اقبال، ڈائرکٹر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی نے سیمینار کے موضوع کی معنویت پر تفصیلی گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ یہ سیمینار ایسی جگہ منعقد ہورہا ہے جو اردو کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اردو زبان کی تعلیم، تحقیق اور فروغ کے حوالے سے ایک اہم ادارہ ہے اور قومی اردو کونسل کے ساتھ اس کا اشتراک سیمینار کے موضوع کے اعتبار سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ قومی اردو کونسل نے زبان کے حوالے سے جو سیمینار منعقد کیے ہیں یا کررہی ہے، ان میں یہ کوشش مسلسل رہی ہے کہ زبان کے ذریعے ہندوستان کی تکثیریت پر بھرپور گفتگو کی جائے۔ اس کے ساتھ زبان کی خوب صورتی اور اس کی مختلف خصوصیات کو بھی اجاگر کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ اسی مقصد کے تحت قومی اردو کونسل نے گزشتہ ڈھائی برسوں میں دو عالمی کانفرنسوں کے علاوہ ملک کے مختلف خطوں میں اردو اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے تہذیبی، ثقافتی اور لسانی پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیمینار اور پینل ڈسکشن منعقد کیے ہیں۔ موجودہ سیمینار بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

اردو کے مزاج میں ہندوستانیت شامل ہے

ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے کہا کہ اردو کے مزاج میں ہندوستانیت شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کو دوسری ہندوستانی زبانوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے سے ہندوستان کے تکثیری معاشرے کی ایک حقیقی تصویر سامنے آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ زبانیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہ کر ترقی نہیں کرتیں بلکہ ان کے درمیان مسلسل رابطہ، اختلاط اور تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ اردو کی تشکیل اور ارتقا بھی ہندوستان کے مختلف لسانی اور تہذیبی ماحول سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور قومی اردو کونسل مل کر مستقبل کے ہندوستان کی تعمیر میں اردو کے ذریعے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق ’وکست بھارت 2047‘ کے وژن کو عملی طور پر مضبوط بنانے میں زبان اور اس سے وابستہ علمی و ثقافتی اداروں کا کردار کلیدی ہوسکتا ہے۔

سیمینار کے مقاصد پر پروفیسر گلفشاں حبیب کی گفتگو

استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر گلفشاں حبیب، ڈین، اسکول آف لینگویجز، لنگوسٹکس اینڈ انڈولوجی، مانو، حیدرآباد نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا۔انہوں نے دو روزہ سیمینار کے اغراض و مقاصد پر بھی روشنی ڈالی اور اس امید کا اظہار کیا کہ مختلف ماہرین کی شرکت اور مقالات کے ذریعے اردو اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے درمیان موجود لسانی، ادبی اور ثقافتی رشتوں کے مختلف پہلو نمایاں ہوں گے۔

اردو کی تشکیل میں ہندوستانی زبانوں کا کردار

سیمینار کے کلیدی خطبے میں پروفیسر محمد نسیم الدین فریس، سابق ڈین، اسکول آف لینگویجز، لنگوسٹکس اینڈ انڈولوجی، مانو، حیدرآباد نے اردو کی لسانی، ادبی اور تہذیبی روایت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے اردو کی تشکیل و ارتقا کے تاریخی پس منظر اور اس کی عملی جہتوں کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ زبانوں کے باہمی اختلاط سے اخذ و قبول کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور اس کے گہرے اثرات ایک دوسرے پر مرتب ہوتے ہیں۔پروفیسر محمد نسیم الدین فریس نے کہا کہ سنسکرت اور تَدبھَو کے بغیر اردو کے جملے لکھنا محال ہے، کیونکہ اردو کا بنیادی ڈھانچہ ہند آریائی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اردو نے ہندوستان کے مختلف علاقوں کی بولیوں سے بھی بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ان کے مطابق اردو ایک انتہائی سیال زبان رہی ہے اور یہی اس کی ایک بڑی خصوصیت ہے۔ ہندوستان کے مختلف لسانی اور تہذیبی ماحول سے مسلسل رابطے نے اردو کے ذخیرۂ الفاظ، محاورات، کہاوتوں اور تلمیحات کو وسعت دی۔انہوں نے کہا کہ اردو کی بہت سی کہاوتیں، محاورے اور تلمیحات ہندوستانی تہذیب کی بہترین نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں نے اردو کی مختلف شعری اصناف سے اس کی متعدد مثالیں بھی پیش کیں۔

پروفیسر فریس نے اس موقع پر ترجمے کی اہمیت اور کردار پر بھی گفتگو کی اور بتایا کہ مختلف زبانوں کے درمیان ادبی اور فکری رابطے قائم کرنے میں ترجمہ ایک اہم ذریعہ ہے۔افتتاحی اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک)، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔افتتاحی اجلاس کی نظامت کے فرائض پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی، ڈائرکٹر، سی پی ڈی یو ایم ٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد نے انجام دیے۔

پہلے تکنیکی اجلاس میں لسانی و ادبی موضوعات پر مقالات

سیمینار کے پہلے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر رحمت یوسف زئی اور پروفیسر رشبھ دیو شرما نے کی۔اس اجلاس میں پروفیسر شہاب ظفر اعظمی، پروفیسر محمد جہانگیر وارثی، پروفیسر نکہت جہاں، پروفیسر مشتاق عالم قادری اور جناب وقار قادری نے اپنے مقالات پیش کیے۔مقررین نے اردو اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے باہمی روابط کے مختلف پہلوؤں پر اپنے تحقیقی اور علمی خیالات پیش کیے۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض محترمہ نہاں رباب نے انجام دیے۔

دوسرے تکنیکی اجلاس میں مختلف لسانی روابط پر گفتگو

دوسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر محمد جہانگیر وارثی اور پروفیسر سید سجاد حسین نے کی۔اس اجلاس میں پروفیسر سید محمود کاظمی، پروفیسر احمد خان، جناب مکرم نیاز، ڈاکٹر طلحہ عرفان اور ڈاکٹر رمیشہ قمر نے اپنے مقالات پیش کیے۔مقررین نے اردو اور ہندوستان کی دیگر زبانوں کے درمیان موجود لسانی، ادبی اور ثقافتی روابط کے مختلف پہلوؤں کو اپنے اپنے تحقیقی موضوعات کے حوالے سے پیش کیا۔ اس تکنیکی اجلاس کی نظامت کے فرائض جناب محمد فرقان عالم نے انجام دیے۔

تیسرے تکنیکی اجلاس میں بھی تحقیقی مقالات پیش کیے گئے

تیسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر صدیقی محمود اور پروفیسر وبھا شرما نے کی۔اس اجلاس میں پروفیسر عزیز بانو، پروفیسر سید شجاعت علی، پروفیسر فیروز عالم اور ڈاکٹر صابر علی سیوانی نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔اجلاس میں اردو کے ساتھ دیگر ہندوستانی زبانوں کے ادبی اور ثقافتی رشتوں کے مختلف پہلوؤں پر علمی گفتگو ہوئی۔ اس تکنیکی اجلاس کی نظامت کے فرائض محترمہ عصمت فاطمہ نے انجام دیے۔

’’رستم و سہراب‘‘ کی پیش کش

سیمینار کے پہلے روز علمی اور تحقیقی اجلاسوں کے علاوہ ثقافتی پروگرام بھی پیش کیا گیا۔ اختتام پر مانو ڈراما کلب کی ٹیم نے معروف داستان ’’رستم و سہراب‘‘ کے عنوان سے ڈراما پیش کیا، جس نے سیمینار کے علمی ماحول میں ایک ثقافتی رنگ بھی شامل کیا۔دو روزہ قومی سیمینار کا بنیادی موضوع اردو اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے درمیان موجود ان لسانی، ادبی اور ثقافتی روابط کو علمی سطح پر سامنے لانا ہے، جنہوں نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی اور لسانی روایت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔