نئی دہلی: سابق چیف الیکشن کمشنر او پی راوت نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو ایسا نظام قرار دیا ہے جس سے ووٹروں میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی ووٹر رجسٹریشن فارم-6 میں کی گئی تبدیلی ’’بالکل غلط اور غیر قانونی‘‘ ہے۔ ایک اور سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے سوال اٹھایا کہ اگر ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا عمل ہی قانونی طور پر درست نہیں تھا تو اس کے ذریعے تیار کی گئی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر انتخابات کیسے کرائے جا سکتے ہیں۔
انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ان کی اطلاع کے بغیر جاری کیے گئے بعض فیصلوں اور احکامات پر بار بار اعتراضات کیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں الیکشن کمشنروں نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ ووٹروں کے رجسٹریشن، نام حذف کرنے، فارم-6 میں تبدیلی اور ووٹر لسٹ کے ڈیٹا بیس پر کنٹرول کو مرکزی سطح پر مرکوز کرنے سمیت مختلف معاملات پر اعتراض درج کیا۔ 2018 میں چیف الیکشن کمشنر رہ چکے او پی راوت نے ’پی ٹی آئی ویڈیو‘ سے کہا، ’’یہ افسوس ناک صورت حال ہے۔
الیکشن کمیشن میں شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو۔ میں بھی وہاں رہا ہوں، لیکن میں نے دیکھا ہے کہ فیصلے ہمیشہ اتفاق رائے سے کیے جاتے تھے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ایس آئی آر کے ذریعے ایک ایسا نظام کھڑا ہوگیا ہے جو اب خود ووٹروں میں خوف پیدا کر رہا ہے۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ ہماری جمہوریت کے لیے یہ انتہائی افسوس ناک صورت حال ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق، وویک جوشی نے مئی میں درج اپنے اعتراض میں کہا تھا کہ ایس آئی آر کے لیے جاری کیے گئے احکامات کے ذریعے فارم-6 میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق ’’قانونی طور پر قابل عمل‘‘ راستہ یہی ہوگا کہ متعلقہ قواعد میں ترمیم کے لیے حکومت کو تجویز بھیجی جائے۔
سکھبیر سنگھ سندھو نے بھی اس موقف سے اتفاق کیا تھا۔ تاہم بعد میں آن لائن فارم-6 میں نئے ووٹر کے طور پر درخواست دینے والوں کو ایس آئی آر سے جوڑنے والا ایک اعلان شامل کردیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اگست میں سندھو نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی ’’غیر مجاز اور غیر قانونی‘‘ ہے اور اسے فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔ او پی راوت نے کہا، ’’الیکشن کمشنروں نے جو کہا ہے کہ فارم-6 میں غلط طریقے سے ترمیم کی گئی، قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ان کی رائے نہیں لی گئی اور کوئی میٹنگ بھی نہیں ہوئی—یہ بہت سنگین الزامات ہیں۔ جس طرح فارم-6 میں ترمیم کی گئی ہے، وہ غلط ہے۔ یہ پوری طرح غیر قانونی ہے۔‘‘ 2010 سے 2012 تک چیف الیکشن کمشنر رہنے والے ایس وائی قریشی نے ’پی ٹی آئی ویڈیو‘ سے کہا کہ وویک جوشی کا کہنا تھا کہ اگر فارم میں کوئی اضافہ کرنا تھا تو اس کے لیے قواعد میں ترمیم کی جانی چاہیے تھی۔
قریشی نے کہا، ’’اگر ووٹر لسٹ کی نظرثانی کا پورا عمل ہی غیر قانونی رہا ہے تو آپ غیر قانونی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر انتخابات نہیں کرا سکتے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر غلطیاں ہوئی ہیں تو ایس آئی آر سے پہلے موجود ووٹر لسٹ کو بحال کرنے کا قانونی راستہ موجود ہے۔ قریشی نے کہا، ’’اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو ہمیشہ پہلے والی صورت حال بحال کرنے کا قانونی راستہ موجود ہوتا ہے، یعنی ابتدائی حالت میں واپس جایا جاسکتا ہے، جون 2025 کی صورت حال میں واپس جایا جاسکتا ہے۔ اگر وہ 2002 کی فہرست پر واپس جاسکتے ہیں تو 2025 کی صورت حال پر واپس کیوں نہیں جاسکتے؟‘‘
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر رپورٹ کے مطابق دو الیکشن کمشنر اہم فیصلوں سے متفق نہیں تھے تو ایس آئی آر کرانے کا فیصلہ آخر کس نے کیا۔ قریشی نے کہا، ’’اگر یہ کمشنروں کا فیصلہ نہیں تھا تو یہ کس کا فیصلہ تھا؟‘‘ انہوں نے کہا، ’’آپ ہندوستان کی جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ نہیں کرسکتے۔ یہ کوئی کھلونا نہیں ہے۔ یہ کھیلنے کی چیز نہیں ہے۔‘‘ ان کے مطابق ’’غیر قانونی کارروائیاں‘‘ قابل قبول نہیں ہیں۔ او پی راوت نے ووٹر لسٹ کے ڈیٹا بیس پر کنٹرول کو مبینہ طور پر مرکزی سطح پر مرکوز کیے جانے پر بھی سخت اعتراض کیا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر سافٹ ویئر اس طرح بنایا گیا ہے کہ علاقائی افسر کسی تبدیلی کو ضروری سمجھتے ہوں، لیکن وہ بے بس ہوں کیونکہ سافٹ ویئر انہیں تبدیلی کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتا، تو یہ پوری طرح غیر قانونی اور غلط ہے۔‘‘ راوت نے مزید کہا، ’’کسی کو بھی تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے اور یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ ہم سافٹ ویئر بنائیں گے اور سافٹ ویئر جو کہے گا، وہی کرنا ہوگا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور ایسا کبھی ہونا بھی نہیں چاہیے۔‘‘ راوت کے مطابق ان واقعات سے ایس آئی آر پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کے درمیان الیکشن کمیشن پر عوام کے اعتماد کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جس ادارے پر لوگوں نے اعتماد کیا ہے اور جس نے ہمیشہ آزاد، منصفانہ اور قابل اعتماد انتخابات کرائے ہیں، اس پر ان کا اعتماد پوری طرح ٹوٹتا جارہا ہے۔‘‘ تاہم راوت نے یہ بھی کہا کہ آئینی ادارے کے ارکان کی حیثیت سے دونوں الیکشن کمشنروں کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان کارروائیوں کو روکیں جنہیں وہ نامناسب سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ سوال بھی اٹھے گا کہ وہ 10 ماہ تک خاموش کیوں رہے۔ انہوں نے پہلے یہ مسئلہ کیوں نہیں اٹھایا؟ وہ بھی ایک آئینی ادارے کے عہدیدار ہیں۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ ایک بھی غلطی نہ ہونے دیں۔‘‘ سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے سامنے آنے والے اختلافات یا اپنے اعتراضات کے بارے میں اب تک عوامی طور پر کچھ نہیں کہا ہے۔