دہرادون: اتراکھنڈ کے میڈیکل کالجوں میں فرضی مجاہدِ آزادی کے زیر کفالت ہونے کا سرٹیفکیٹ استعمال کرکے ایم بی بی ایس میں داخلہ دلانے کے معاملے میں پولیس نے ایک امیدوار کے والد سمیت دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے منگل کو یہ اطلاع دی۔ دہرادون کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) پرمیندر سنگھ ڈوبھال نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار افراد کی شناخت اتر پردیش کے میرٹھ کے رہنے والے روپیش پنڈت (30) اور اتراکھنڈ کے ہری دوار ضلع کے لکسر کے رہنے والے اروند کمار کے طور پر ہوئی ہے۔
اروند کمار ان امیدواروں میں سے ایک کے والد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر مختلف امیدواروں کی جانب سے ’اپنی سرکار‘ پورٹل پر مجاہدینِ آزادی کے زیر کفالت افراد کے سرٹیفکیٹ کے لیے آن لائن درخواستیں دی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں 13 ستمبر کو دہرادون کے رائے پور اور کلیمنٹ ٹاؤن تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔ تفتیش کے دوران درخواستوں کے ساتھ جمع کرائے گئے دستاویزات جعلی پائے گئے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس ایس پی ڈوبھال نے پولیس سپرنٹنڈنٹ (دیہی) جیا بلونی کی قیادت میں خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔ ایس آئی ٹی نے معاملے میں مبینہ طور پر شامل افراد کے دستاویزات اپنے قبضے میں لے کر جانچ شروع کی۔
تفتیش کے دوران تمام امیدواروں کے دستاویزات میں درج پتے غلط پائے گئے۔ اس کے بعد ایس آئی ٹی نے متعلقہ تعلیمی اداروں سے وابستہ ریکارڈ کی جانچ کی اور امیدواروں کے اصل پتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ڈوبھال نے بتایا کہ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر ایس آئی ٹی نے روپیش پنڈت اور اروند کمار کو پوچھ گچھ کے لیے رائے پور تھانے بلایا، جہاں بعد میں دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق روپیش پنڈت گزشتہ پانچ سال سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ’ایجوکیشن کنسلٹنسی‘ کا کام کر رہا تھا۔ وہ میرٹھ میں ’میکوڈو پاٹھ شالا‘ کے نام سے ایک کمپنی چلا رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کمپنی کے ذریعے بھارت کی مختلف نجی یونیورسٹیوں اور بیرون ملک ایم بی بی ایس، بی ٹیک، بی سی اے، بی بی اے اور بی کام جیسے کورسز میں کمیشن کی بنیاد پر داخلے دلائے جاتے تھے۔
تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ اروند کمار نے اپنی بیٹی پری اور دو دیگر جاننے والوں کے بچوں کے داخلے کے لیے روپیش سے رابطہ کیا تھا۔ ایس ایس پی ڈوبھال کے مطابق ہر داخلے کے لیے 45 لاکھ روپے میں معاملہ طے ہوا تھا۔ اس میں سے 20،20 لاکھ روپے پیشگی رقم کے طور پر لیے گئے تھے، جبکہ باقی رقم ایم بی بی ایس میں داخلہ ہونے اور کلاسیں شروع ہونے کے بعد ادا کرنے کی بات طے ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق اس کے بعد روپیش نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر تینوں امیدواروں کے لیے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر فرضی مجاہدِ آزادی کے زیر کفالت ہونے کے سرٹیفکیٹ تیار کروائے، جن کے ذریعے انہیں میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس میں داخلہ دلانے کی کوشش کی گئی۔