کشمیر میں دیوالی : کمہاروں نے تیار کیے 40 ہزار دیے، روایتی ہنر کو نئی زندگی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 07-11-2026
کشمیر میں دیوالی :  کمہاروں نے تیار کیے 40 ہزار دیے، روایتی ہنر کو نئی زندگی
کشمیر میں دیوالی : کمہاروں نے تیار کیے 40 ہزار دیے، روایتی ہنر کو نئی زندگی

 



سری نگر: جموں و کشمیر کے سری نگر میں دیوالی سے قبل مقامی کمہاروں نے تقریباً 40 ہزار مٹی کے دیے تیار کیے ہیں۔ اس کوشش کے ذریعے نہ صرف تہوار کی بڑھتی ہوئی مانگ پوری کی جا رہی ہے بلکہ کشمیر میں مٹی کے برتن بنانے کے روایتی ہنر کو دوبارہ زندہ کرنے اور مقامی کاریگروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔اس پہل کی قیادت مقامی کمہار کر رہے ہیں جن میں نوجوان کاروباری محمد عمر بھی شامل ہیں۔ وہ اے ایس پاٹر ورکشاپ کے مالک ہیں۔ ان کی کوششوں سے کشمیر میں دیے بنانے کا کام دوبارہ فروغ پا رہا ہے۔ اس سے پہلے وادی میں دیوالی کے لیے مٹی کے دیے بیرونی علاقوں سے منگوائے جاتے تھے۔

 محمد عمر نے بتایا کہ ان کی ورکشاپ نے 2020-21 میں پہلی مرتبہ دیے بنانے کا کام شروع کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ دیے تیار نہیں کرتے تھے لیکن جب روایتی چراغوں کے آرڈر ملنے لگے تو انہوں نے بھی یہ کام شروع کر دیا۔ ابتدا میں آرڈر کم تھے لیکن وقت کے ساتھ ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔محمد عمر کے مطابق گزشتہ سال ان کی ورکشاپ نے تقریباً 25 ہزار دیے فروخت کیے تھے جبکہ اس سال بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے تقریباً 40 ہزار دیے تیار کیے گئے ہیں۔ اب تک 12 ہزار دیے فروخت ہو چکے ہیں اور انہیں امید ہے کہ دیوالی تک باقی دیے بھی فروخت ہو جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے تیار کردہ دیوں کی مانگ صرف سری نگر یا آس پاس کے علاقوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے بھی آرڈر موصول ہو رہے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب گاہوں نے ان کے کاروبار کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔محمد عمر نے کہا کہ فیس بک اور انسٹاگرام پر مصنوعات کی تشہیر کے بعد انہیں بڑی تعداد میں آرڈر ملنے لگے۔ بعض اوقات صرف ان ذرائع سے 200، 300 اور 400 تک دیوں کے آرڈر موصول ہوتے ہیں۔ اب ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ آن لائن ان سے رابطہ کر رہے ہیں۔

ورکشاپ میں مختلف ڈیزائن اور سائز کے دیے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں چھوٹے دیے، اسٹینڈ والے چراغ اور ایسے بڑے آرائشی نمونے بھی شامل ہیں جن میں چار سے پانچ دیے ایک ساتھ لگائے جاتے ہیں۔ گاہکوں کی پسند اور ضرورت کے مطابق تین سے چار مختلف اقسام کے دیے بنائے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے علاوہ جموں میں بھی ان کی مصنوعات بھیجی جاتی ہیں۔تاہم بڑھتی ہوئی مانگ کے باوجود کمہاروں کو خام مال کی کمی کا سامنا ہے۔ محمد عمر نے بتایا کہ کشمیر میں مٹی کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے جس سے اس روایتی پیشے کے مستقبل کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق پہلے وہ مٹی کے کلہڑ بنانے کے لیے بارہمولہ سے مٹی منگواتے تھے لیکن اب وہاں سے مطلوبہ مقدار میں مٹی حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو آئندہ سال کے آرڈر پورے کرنا بھی دشوار ہو جائے گا۔محمد عمر نے مقامی عوامی نمائندوں اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ کمہاروں کو مٹی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اس شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے کاریگروں کو بنیادی خام مال فراہم کرنا ہوگا۔

دیوالی کی تیاریوں نے مقامی کمہار خانوں میں بھی نئی رونق پیدا کر دی ہے۔ کاریگر روایتی چاک پر مٹی کو مختلف شکلوں میں ڈھال رہے ہیں اور تیار شدہ دیوں کی بڑی تعداد فروخت کے لیے سجائی جا رہی ہے۔ اس طرح تہوار کی موسمی مانگ مقامی دست کاری کو برقرار رکھنے اور کاریگروں کی آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔محمد عمر نے بتایا کہ مٹی کے برتن بنانا ہی ان کی ورکشاپ کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی ان کا ذریعہ معاش ہے اور وہ مٹی کے کام سے ہی اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ دیوالی تک تیار کیے گئے تمام 40 ہزار دیے فروخت ہو جائیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب کشمیر کے دوسرے کاریگروں نے بھی دیے بنانے کا کام شروع کر دیا ہے جبکہ پہلے تاجروں اور خریداروں کو وادی سے باہر سے آنے والے دیوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔