نئی دہلی: فضائی معیار کے انتظام سے متعلق کمیشن (سی اے کیو ایم) نے جمعہ کو دہلی اور قومی راجدھانی خطے (این سی آر) میں آلودگی سے نمٹنے کے لیے مرحلہ وار ردعمل کے منصوبے (گریپ) کے تحت تیسرے مرحلے کی پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ کمیشن کے مطابق، جمعرات کی شام 4 بجے دہلی میں ہوا کے معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) 382 ریکارڈ کیا گیا، جو ’’بہت خراب‘‘ زمرے میں آتا ہے۔
آئی آئی ٹی ایم پونے نے اپنے روزانہ کے بلیٹن میں کہا ہے کہ 6 نومبر کو فضائی معیار ’’بہت خراب‘‘ رہنے کا امکان ہے، جبکہ 7 سے 9 نومبر کے درمیان اس کے ’’شدید‘‘ زمرے میں پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس کے بعد کے 6 دنوں میں فضائی معیار ’’شدید‘‘ سے ’’بہت خراب‘‘ کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ گریپ ہنگامی اقدامات کا ایک مجموعہ ہے، جسے فضائی آلودگی ایک خاص سطح تک پہنچنے کے بعد صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے نافذ کیا جاتا ہے۔ گریپ کے تیسرے مرحلے کے تحت پورے این سی آر میں تعمیراتی اور انہدام کی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، تاکہ دھول اور دیگر ذرائع سے ہونے والی فضائی آلودگی کو روکا جا سکے۔
اس کے علاوہ دہلی حکومت اور قومی راجدھانی سے متصل ریاستوں کی حکومتوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ سرکاری محکموں، بلدیاتی اداروں اور نجی دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کو دفتر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے اور باقی ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی جائے۔ واضح رہے کہ گریپ کا پہلا مرحلہ (گریپ-1) اس وقت نافذ ہوتا ہے جب ہوا کے معیار کا اشاریہ 201 سے 300 کے درمیان ہو۔ دوسرا مرحلہ (گریپ-2) اے کیو آئی 301 سے 400 کے درمیان پہنچنے پر نافذ کیا جاتا ہے۔ تیسرا مرحلہ (گریپ-3) اے کیو آئی 401 سے 450 کے درمیان ہونے پر نافذ ہوتا ہے، جبکہ چوتھا مرحلہ (گریپ-4) اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب اے کیو آئی 450 سے تجاوز کر جائے۔