نینی تال: اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے چندی گڑھ میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کی سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور دہلی کی ایک قانونی فرم سے وابستہ ان کے وکیل شوہر کی شادی ختم کرنے کے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے کہا کہ شوہر ذہنی اذیت اور ناروا سلوک کا الزام ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
چیف جسٹس منوج کمار گپتا اور جسٹس سبھاش اپادھیائے کی بنچ نے دہرادون فیملی کورٹ کے 5 اپریل 2024 کے طلاق کے حکم کو چیلنج کرنے والی بیوی کی پہلی اپیل خارج کر دی۔ ہائی کورٹ نے شوہر کو اپنی نابالغ بیٹی کی دیکھ بھال اور تعلیم کے لیے 70 لاکھ روپے ادا کرنے کی ہدایت بھی دی، جبکہ بیوی کو مستقل گزارہ الاؤنس کے طور پر 40 لاکھ روپے دینے کا حکم دیا۔ جوڑے کی شادی 3 مارچ 2014 کو ہوئی تھی اور ستمبر 2015 میں ان کی بیٹی پیدا ہوئی۔ دونوں اپریل 2016 سے الگ رہ رہے ہیں۔ نومبر 2016 میں شوہر نے ہندو میرج ایکٹ کے تحت ناروا سلوک اور ترکِ تعلق کی بنیاد پر طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔
فیملی کورٹ نے 2024 میں طلاق منظور کر لی، جس کے بعد بیوی نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے ان الزامات پر بھی غور کیا جن میں کہا گیا تھا کہ بیوی نے شوہر، اس کے والدین، رشتہ داروں، ساتھیوں اور اعلیٰ افسران کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔ یہ بھی الزام تھا کہ وہ شوہر پر کارپوریٹ وکالت چھوڑ کر چندی گڑھ منتقل ہونے کے لیے بار بار دباؤ ڈالتی تھیں، شوہر کے طبی معائنے پر زور دیتی تھیں اور شوہر و بیٹی کو اپنے ساس سسر سے دور رکھنے کی کوشش کرتی تھیں۔
شوہر نے خود گواہ کے طور پر پیش ہونے کے علاوہ اپنے والدین اور ایک وکیل کو بھی اپنے حق میں گواہ بنایا، جبکہ بیوی کی جانب سے صرف وہ خود گواہ کے طور پر پیش ہوئیں۔ بنچ نے بیوی کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ یہ الزامات محض نظریاتی اختلافات اور ازدواجی زندگی میں ہونے والے معمولی جھگڑوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ساتھیوں اور جاننے والوں کے سامنے بار بار توہین کیے جانے سے شریکِ حیات کی عزت اور ذہنی سکون پر سنگین اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب دونوں فریق قانونی پیشے سے وابستہ ہوں۔
بنچ نے قرار دیا کہ یہ رویہ عام ازدواجی اختلافات کی حد سے آگے بڑھ چکا تھا اور ذہنی اذیت کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریق 2016 سے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے الگ رہ رہے ہیں۔ فیملی کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں صلح کی کئی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ہائی کورٹ نے طلاق کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نابالغ بیٹی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اس کی ماں کو سونپ دی اور شوہر کے لیے بیٹی سے ملاقات کے حق کو بھی برقرار رکھا۔