نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو ایک مفادِ عامہ کی درخواست پر مرکزی حکومت، قومی انسانی حقوق کمیشن اور تمام ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کیا ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ کئی ریاستوں میں انسانی حقوق کمیشن (ایس ایچ آر سی) عملے کی کمی کا شکار ہیں، غیر فعال ہیں یا ان کے اعلیٰ عہدے خالی پڑے ہیں۔ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے وکیل سشری اگنی ہوتری کے ذریعے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ریٹائرڈ ججوں کی انجمن کی جانب سے دائر درخواست کا نوٹس لیتے ہوئے جواب طلب کیا۔
درخواست میں عدالت سے ریاستی حکومتوں کو ہدایت دینے کی اپیل کی گئی ہے کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے قانون، 1993 کی دفعہ 21 اور ’’ڈی کے باسو بنام مغربی بنگال حکومت‘‘ مقدمے میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق ریاستی انسانی حقوق کمیشنوں کے چیئرمین اور ارکان کے خالی عہدے مقررہ مدت میں پُر کریں۔ یہ درخواست 21 ستمبر کو دائر کی گئی تھی۔
درخواست میں کہا گیا ہے، ’’سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ وہ حکم یا ہدایت جاری کرکے مدعا علیہ نمبر 3 سے 30 تک کو اپنے متعلقہ ریاستی انسانی حقوق کمیشنوں میں چیئرمین اور ارکان کے تمام موجودہ خالی عہدے فوری طور پر پُر کرنے کی ہدایت دے۔ یہ تقرریاں انسانی حقوق کے تحفظ کے قانون، 1993 کی دفعہ 21 اور ’ڈی کے باسو بنام مغربی بنگال حکومت‘ مقدمے میں اس عدالت کی ہدایات کی سختی سے پابندی کرتے ہوئے اور عدالت کی مقرر کردہ مدت کے اندر کی جائیں۔‘‘ درخواست میں خاص طور پر الزام لگایا گیا ہے کہ آندھرا پردیش، اروناچل پردیش اور جھارکھنڈ کے ریاستی انسانی حقوق کمیشن اس وقت غیر فعال ہیں۔
درخواست گزار نے ان کمیشنوں کی فوری تشکیل نو کی ہدایت دینے کی اپیل کی ہے، جس میں چیئرمین، ارکان اور سکریٹریوں کی تقرری بھی شامل ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور میگھالیہ کے ریاستی انسانی حقوق کمیشن طویل عرصے سے قائم مقام چیئرمینوں کے ذریعے کام کر رہے ہیں۔
انجمن نے ان عہدوں پر مقررہ مدت کے اندر مستقل تقرریاں کرنے کی درخواست کی ہے۔ درخواست میں تمام ریاستی حکومتوں کو ریاستی انسانی حقوق کمیشنوں کو قانون کے تحت ضروری انتظامی، تفتیشی اور تکنیکی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت دینے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ اس میں مناسب سکریٹریٹ کے ساتھ پولیس اور تفتیشی عملہ فراہم کرنا بھی شامل ہے۔