نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں مرکزی حکومت، دہلی حکومت اور پولیس کو جولائی میں جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (کاجپا) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات یقینی بنانے کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی تھی۔ یہ احتجاج قومی اہلیت و داخلہ ٹیسٹ (نیٹ) کے سوالیہ پرچے افشا ہونے کے خلاف کیا گیا تھا۔
احتجاج کے اختتام پر اس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اس درخواست کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا جس میں یہ اعلان کرنے کی مانگ کی گئی تھی کہ پولیس بھی عدلیہ کی طرح قانون و انتظام برقرار رکھنے اور جرائم کی تحقیقات کرنے میں خود مختار ہے اور اس کے کام میں اس وقت تک مداخلت نہیں کی جانی چاہیے، جب تک اس کی کارروائی قانون کے خلاف نہ ہو۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں درج ایف آئی آر کی تحقیقات سے متعلق درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ درخواست میں مرکزی حکومت، پولیس کمشنر، دہلی حکومت، کاجپا کے احتجاج سے متعلق معاملے میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے والے شیلندر منی ترپاٹھی اور کاجپا کے رہنما ابھیجیت دپکے کو فریق بنایا گیا تھا۔
درخواست گزار ایل رام ناتھن کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل میتھیوز نیدومپارا نے ایسے معاملات میں مفاد عامہ کی عرضیوں کے ذریعے عدالتی مداخلت کی ضرورت اور جواز پر سوال اٹھایا، جہاں متاثرہ فریق خود عدالت سے رجوع نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ عدالت میں اس طرح پہنچتے ہیں، جیسے وہ ان کی ذاتی ملکیت ہو۔
ان دلائل پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے بعض ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 142 کے استعمال کے عدالتی فیصلے کا دفاع کیا۔ بنچ نے کہا، ’’اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ہم ہمیشہ سو فیصد درست حکم ہی جاری کریں۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں آرٹیکل 142 کا استعمال کرکے ایف آئی آر منسوخ نہیں کرنی چاہیے تھی۔ براہ کرم سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ نوجوان طلبہ ہیں۔‘‘ عدالت نے مزید کہا، ’’ہمیں ان کے والدین اور ان کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔ ہم نہیں چاہتے کہ انہیں عدالت سے رجوع کرنا پڑے۔ آپ نے ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ سے متعلق ہمارے حکم کو نہیں دیکھا ہے۔‘‘
چیف جسٹس نے ہماچل پردیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کچھ رہنماؤں نے دھرنا دیا تھا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’لیکن جب کووڈ آیا تو ملک کے لوگ اس طرح کے بحران کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس لیے لوگوں نے اپنے حالات کے مطابق ردعمل ظاہر کیا۔ ہائی کورٹ نے ایف آئی آر منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا، لیکن ہم نے انہیں منسوخ کرنے کی اجازت دی، کیونکہ وہ عادی مجرم نہیں ہیں۔‘
‘ بنچ نے کہا کہ درخواست میں آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت ایف آئی آر منسوخ کرنے کے عدالتی حکم پر نظرثانی کی مانگ کی گئی تھی۔ درخواست میں یہ اعلان کرنے کی بھی اپیل کی گئی تھی کہ قانون و انتظام برقرار رکھنے، جرائم کی تحقیقات کرنے اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے معاملے میں پولیس کو بھی آزادانہ اختیارات حاصل ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انصاف فراہم کرنے کے معاملے میں عدلیہ خود مختار ہے۔
درخواست گزار کا موقف تھا کہ جس طرح انتظامیہ عدالتی کاموں میں مداخلت نہیں کر سکتی، اسی طرح پولیس کے مقررہ دائرۂ اختیار میں بھی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم، اگر پولیس قانون کے خلاف یا بدنیتی سے کام کرتی ہے تو اس کے خلاف عدالتی مداخلت کی جا سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں حقائق سے متعلق متنازع سوالات پر عدالتی فیصلے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔