نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2013 کے ایک عصمت دری کے معاملے میں صحافی ترون تیجپال کو سنائی گئی 10 سال کی سزا معطل کرنے سے جمعہ کو انکار کر دیا۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسنّا بی ورالے پر مشتمل بنچ نے تیجپال کی جانب سے سزا معطل کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران یہ حکم دیا۔ ترون تیجپال اور گوا حکومت کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد بنچ نے کہا کہ وہ سزا معطل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
ممبئی ہائی کورٹ نے 6 اگست کو ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو پلٹ دیا تھا، جس میں تقریباً 5 سال قبل ’تہلکہ‘ میگزین کے سابق مدیر ترون تیجپال کو بری کر دیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے انہیں عصمت دری کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 10 سال کی سخت قید کی سزا سنائی تھی۔
تیجپال کو 2013 میں گوا میں میگزین کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران ایک ہوٹل کی لفٹ میں اپنی ایک جونیئر خاتون ساتھی کے ساتھ عصمت دری کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سیاسی عداوت کا شکار ہوئے ہیں۔ ترون تیجپال نے 20 اگست کو ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔