ہاتھیوں کی منتقلی میں عجلت پر سپریم کورٹ کو تشویش

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 05-11-2026
ہاتھیوں کی منتقلی میں عجلت پر سپریم کورٹ کو تشویش
ہاتھیوں کی منتقلی میں عجلت پر سپریم کورٹ کو تشویش

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو ہاتھیوں کو ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقل کرنے میں مبینہ عجلت پر تشویش ظاہر کی۔ ان میں ایک ایسا ہاتھی بھی شامل ہے جسے محض 9 دن میں تقریباً 3,000 کلومیٹر دور چنئی پہنچا دیا گیا تھا۔ ہاتھیوں کی منتقلی کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار کو چیلنج کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’پیپل فار کیٹل اِن انڈیا‘ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی بنچ نے کہا کہ اس طرح کی تمام منتقلیوں میں قانونی دفعات اور عدالت کی جانب سے پہلے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے۔

درخواست گزار تنظیم کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل میناکشی اروڑہ نے کہا کہ ہاتھیوں کی ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقلی کو منظم کرنے والے ماحولیاتی قوانین کے تحت تصدیق، منظوری اور غور و خوض کے کئی مراحل طے کیے گئے ہیں۔ اس پورے عمل میں عام طور پر کم از کم 50 دن لگتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ معاملے میں ہاتھی کی منتقلی کی درخواست 4 ستمبر کو دی گئی تھی، جب کہ 9 ستمبر تک ہاتھی تقریباً 3,000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے چنئی پہنچا دیا گیا تھا۔ میناکشی اروڑہ نے کہا کہ اتنے کم وقت میں ضابطوں کے تحت مقرر تمام تصدیقی اور قانونی کارروائیاں مکمل کرنا ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ نے حکام کو صرف زیر التوا درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی تھی، نہ کہ کسی مقررہ مدت کے اندر ہاتھی کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ وکیل نے عبوری راحت کی درخواست کرتے ہوئے دلیل دی کہ جس عجلت میں منظوری دی گئی، اس سے قانونی ضابطوں پر عمل درآمد کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم بنچ نے کہا کہ متعلقہ تمام ہاتھیوں کو پہلے ہی منتقل کیا جا چکا ہے اور اشارہ دیا کہ اس مرحلے پر انہیں واپس بھیجنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے ہاتھیوں سے متعلق معاملات میں سپریم کورٹ کی سابقہ مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’اگر یہ کارروائی عجلت میں کی گئی تھی اور ہمیں اس بارے میں بتایا گیا ہوتا تو ہم اسے روک دیتے۔‘‘ جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ عدالت مسلسل ہاتھیوں کی شناخت اور ملکیت کی تصدیق کے ساتھ ساتھ ان کی نقل و حمل اور دیکھ بھال کے مناسب ضابطے بنانے پر زور دیتی رہی ہے۔

اپنی سابقہ ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ عدالت 2021 سے ہی اس معاملے پر تشویش ظاہر کرتی رہی ہے اور اس نے جنگلی ہاتھیوں کو پکڑنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ سینئر وکیل نے درخواست واپس لینے کی اجازت طلب کی اور ساتھ ہی جاری کارروائی میں مناسب درخواست داخل کرنے کی چھوٹ دینے کی بھی اپیل کی۔ اس کے بعد بنچ نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔