سپریم کورٹ نے حاملہ خاتون صحافی کو دھکا دینے کے الزام پر راہل گاندھی کو نوٹس جاری کیا

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 27-10-2026
سپریم کورٹ نے حاملہ خاتون صحافی کو دھکا دینے کے الزام پر راہل گاندھی کو نوٹس جاری کیا
سپریم کورٹ نے حاملہ خاتون صحافی کو دھکا دینے کے الزام پر راہل گاندھی کو نوٹس جاری کیا

 



نئی دہلی،: سپریم کورٹ نے منگل کے روز راہل گاندھی اور دیگر افراد کو ایک عرضی پر نوٹس جاری کیا، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ کی جانب مارچ کے دوران کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایک حاملہ خاتون صحافی کو دھکا دیا تھا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی کی بنچ کے سامنے اس عرضی کا ذکر کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے راہل گاندھی اور دیگر سے جواب طلب کیا۔

اس معاملے کو عدالت میں پیش کرنے والے سینئر وکیل گورو بھاٹیا نے بتایا کہ پہلے سے زیر التوا ایک عرضی میں یہ نئی درخواست داخل کی گئی ہے۔ گورو بھاٹیا نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے احاطے میں ایک خاتون صحافی کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ جواب دہندہ نمبر 4، یعنی راہل گاندھی نے اچانک خاتون صحافی کو گیٹ کی طرف اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ اپنا توازن کھو بیٹھیں اور گرنے لگیں۔ انہیں اپنے ہاتھوں کے سہارے خود کو سنبھالنا پڑا۔ عرضی کے مطابق، سکیورٹی اہلکاروں، صحافیوں اور عام لوگوں کی موجودگی میں یہ دھکا دیا گیا۔

خاتون صحافی کی بار بار درخواست کے باوجود ایسا کیا گیا، اس لیے اسے محض بھیڑ میں ہونے والی دھکا مکی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ زیر التوا عرضی میں دائر اس درخواست کے ذریعے عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ راہل گاندھی اور اس مبینہ حملے میں شامل دیگر تمام افراد کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جائے اور متاثرہ خاتون کو معاوضہ بھی دلایا جائے۔ گورو بھاٹیا نے اس سے پہلے 16 اکتوبر کو بھی عدالت سے اس معاملے پر غور کرنے کی اپیل کی تھی۔

اس وقت انہوں نے دلیل دی تھی کہ سپریم کورٹ کے احاطے میں راہل گاندھی نے ایک خاتون صحافی کو دھکا دیا تھا، جو 3 ماہ کی حاملہ تھیں اور انہیں اسپتال میں داخل کرانا پڑا تھا۔ واضح رہے کہ 12 اکتوبر کو راہل گاندھی اور حزب اختلاف کے کئی اہم رہنماؤں نے اپنے حامیوں کے ساتھ سپریم کورٹ کی طرف مارچ کیا تھا۔ یہ رہنما ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور بے ضابطگیوں کے الزامات کے سلسلے میں عدالت میں عرضی داخل کرنے جا رہے تھے۔