نیویارک: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ ہندوستان اور چین کے تعلقات گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں اب بہتر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات بحال ہونے کی سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق سرحد سے متعلق زیر التوا معاملات بتدریج حل ہونے کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بھی معمول کی طرف واپس آ رہے ہیں۔جے شنکر نے پیر کو نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک نشست میں ہندوستان چین تعلقات میں حالیہ پیش رفت پر گفتگو کی۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری چینی صدر شی جن پنگ کے حالیہ ہندوستان دورے کے بعد دیکھی گئی ہے۔ شی جن پنگ نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان آئے تھے۔
گزشتہ چند برسوں کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ اگر 2025 کے مقابلے میں آج کے تعلقات کو دیکھا جائے تو صورتحال بہتر ہے اور 2024 کے مقابلے میں یہ بہتری مزید نمایاں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ تبدیلی کوئی بنیادی ساختی تبدیلی نہیں بلکہ 2020 میں سرحدی کشیدگی کے بعد تعلقات میں آنے والی شدید خرابی کے بعد معمول کی جانب واپسی کا عمل ہے۔
2020 کی سرحدی کشیدگی سے تعلقات متاثر ہوئے
وزیر خارجہ نے کہا کہ 2020 کے واقعات اور طویل سرحدی تعطل نے دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید متاثر کیا تھا۔ ان کے مطابق جب سرحد پر صورتحال مستحکم ہوئی تو تعلقات میں بہتری آنا فطری تھا۔انہوں نے بتایا کہ طویل تعطل کے دوران نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان معمول کے تمام رابطے تقریباً رک گئے تھے۔ سرکاری سطح پر رابطوں کے ساتھ ویزوں کا اجرا اور براہ راست پروازیں بھی متاثر ہوئی تھیں جبکہ تجارت جاری رہی۔
جے شنکر نے کہا کہ سرحدی تعطل ختم ہونے کے بعد انتظامی اور سفارتی رابطوں کی بحالی بھی فطری عمل تھا اور اسی کے ساتھ تعلقات میں بہتری شروع ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان مسلسل چین کو یہ پیغام دیتا رہا کہ سرحد پر جاری کشیدگی دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں اور اس سے بیرونی فریقوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ کسی ایسے مسئلے میں خود کو الجھائے نہ رکھا جائے جس سے دوسروں کو فائدہ پہنچتا ہو۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ چینی انتظامیہ کو اس نقطہ نظر کو سمجھنے میں وقت لگا تاہم طویل سرحدی تعطل کا حل دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ ان کے مطابق تعلقات میں بہتری ہندوستان کی پوزیشن کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
سرحد معمول پر آئے گی تو تعلقات بھی معمول پر آئیں گے
جے شنکر نے کہا کہ چین کے ساتھ کشیدگی کم ہونے سے عالمی سطح پر ہندوستان کی سفارتی پوزیشن بھی مضبوط ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان کو کسی ایک تعلق یا مسئلے پر اس حد تک توجہ مرکوز نہیں کرنی چاہیے کہ اس سے اس کے اپنے مفادات متاثر ہونے لگیں۔انہوں نے ہندوستان اور چین کے درمیان موجودہ سوچ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایک بنیادی اصول پر متفق ہیں کہ سرحد کی صورتحال ہی تعلقات کی صورتحال طے کرتی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ سرحد پر کشیدگی برقرار رکھتے ہوئے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ دونوں ممالک کے تعلقات معمول کے مطابق رہیں گے۔ ان کے مطابق جیسے جیسے سرحدی صورتحال معمول کی طرف آتی ہے ویسے ویسے دو طرفہ تعلقات بھی معمول کی طرف بڑھتے ہیں اور اس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوتا ہے۔دنیا میں کثیر قطبی نظام کی طرف پیش رفت
ہندوستانی نژاد امریکی برادری کے نمایاں افراد کی موجودگی میں جے شنکر نے عالمی صورتحال میں ہونے والی وسیع تبدیلیوں پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نظام واضح طور پر زیادہ کثیر قطبی سمت میں منتقل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر عالمی نظام کو استحکام دینے اور اس کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرنے والی بڑی طاقت کے اتحادوں میں کمزوری اور اکیلے آگے بڑھنے کا رجحان عالمی سطح پر تزویراتی فیصلوں کو متاثر کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی حالیہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ جب دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتیں آپس میں بات چیت کرتی ہیں تو بعض معاملات میں ان کے درمیان اتفاق ہوسکتا ہے لیکن مجموعی طور پر ان کے تعلقات مسابقتی نوعیت کے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دنیا کے دیگر ممالک کے حوالے سے اتفاق رائے کی بھی ایک حد ہے اور باقی ممالک آج ایک مختلف امریکہ اور امریکہ چین تعلقات کے بدلتے ہوئے منظرنامے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جے شنکر کے مطابق عالمی تبدیلیوں کے پیش نظر مختلف ممالک آزادانہ انتظامات کر رہے ہیں اور اپنے لیے زیادہ موزوں راستے تلاش کر رہے ہیں۔ حکومتیں یہ دیکھ رہی ہیں کہ خطرات کو کیسے کم کیا جائے اور تعلقات کو کس طرح متنوع بنایا جائے۔ ساتھ ہی نئے شراکت دار تلاش کیے جا رہے ہیں اور موجودہ شراکت داریوں سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے طریقے بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے موجودہ عالمی صورتحال کو چیلنجنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک مسلسل اپنے مفادات کا جائزہ لے رہے ہیں اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر رہے ہیں۔ یہ رجحانات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران ہونے والی مختلف گفتگو میں بھی نمایاں رہے۔