نئی دہلی: مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ آسام کے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) سے باہر کیے گئے تقریباً 19 لاکھ افراد کو مستردی کی پرچیاں جاری کرنے کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا ہے، کیونکہ حتمی این آر سی کو اب تک باضابطہ طور پر نوٹیفائی نہیں کیا گیا ہے۔ اگست 2019 میں جاری کی گئی ’حتمی نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز‘ کے مطابق 19.07 لاکھ درخواست گزاروں کے نام فہرست سے باہر کر دیے گئے تھے، جبکہ 3.11 کروڑ درخواست گزاروں کے نام این آر سی میں شامل کیے گئے تھے۔
سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے حلف نامے میں بھارت کے رجسٹرار جنرل نے کہا ہے کہ ریاستی این آر سی کوآرڈینیٹر اب بھی این آر سی کے اعداد و شمار کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک ’سکیورٹی سسٹم‘ تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار اب تک رجسٹرار جنرل کو سونپے نہیں گئے ہیں اور انہیں یہ اعداد و شمار موصول ہونے کے بعد ہی حتمی این آر سی کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کیا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اس سے قبل ریاستی این آر سی کوآرڈینیٹر کو حتمی فہرست سے باہر کیے گئے افراد کو مستردی کی پرچیاں جاری کرنے کے لیے ایک نظام تیار کرنے کی ہدایت دی تھی، تاکہ وہ اپنے نام خارج کیے جانے کے فیصلے کو متعلقہ ٹریبونل میں چیلنج کر سکیں۔ اس کے بعد ریاستی این آر سی کوآرڈینیٹر نے اکتوبر 2020 میں بھارت کے رجسٹرار جنرل (آر جی آئی) کو بتایا تھا کہ مستردی کی پرچیاں اسی وقت جاری کی جا سکتی ہیں، جب آر جی آئی حتمی این آر سی کو نوٹیفائی کر دیں
آسام حکومت کی جانب سے اپنا جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت مانگے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت 6 نومبر تک ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ آسام اسٹیٹ جمعیت علمائے ہند، آل آسام مائنارٹی اسٹوڈنٹس یونین، جمعیت علمائے ہند اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی۔ ان درخواستوں میں این آر سی سے باہر کیے گئے افراد کو مستردی کی پرچیاں اور حتمی فہرست میں شامل افراد کو این آر سی کارڈ جاری کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔