پٹنہ: پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار کرائم کنٹرول ایکٹ (بی سی سی اے) کے تحت دو افراد کو ’سماج دشمن عناصر‘ قرار دینے اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرنے کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ نالندہ ضلع انتظامیہ نے مناسب تصدیق کے بغیر یہ کارروائی کی تھی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو دونوں درخواست گزاروں کو ایک ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کی ہدایت دی ہے۔
جسٹس راجیو رنجن پرساد اور جسٹس سنیل دت مشرا کی ڈویژن بنچ نے 11 ستمبر کو دیے گئے اپنے حکم میں مقدمے کی پیروی پر ہونے والے اخراجات کی تلافی کے لیے دونوں درخواست گزاروں کو 10،10 ہزار روپے اضافی دینے کا بھی حکم دیا۔ درخواست گزار ششی کمار عرف فکّن اور اجے سنگھ نے نالندہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کی اس سفارش کو چیلنج کیا تھا، جس کی بنیاد پر انہیں ’سماج دشمن عناصر‘ قرار دینے کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔
یہ سفارش 2025 کے اسمبلی انتخابات اور چھٹھ پوجا کے دوران راج گیر کے سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او) کی رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہیں فوجداری مقدمات میں جھوٹا پھنسایا گیا ہے اور وہ پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ایس ڈی پی او کی رپورٹ کی بنیاد پر نالندہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے دونوں کو ’سماج دشمن عناصر‘ قرار دینے کی سفارش کی، جس کے بعد ان کے خلاف بی سی سی اے مقدمہ نمبر 178/2025 اور 183/2025 درج کیے گئے۔ عدالت کے مطابق، مقدمات درج ہونے کے بعد نالندہ کے ضلع مجسٹریٹ نے 10 ستمبر 2025 کو دونوں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔
ڈویژن بنچ نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ نے یہ کہتے ہوئے کارروائی کی کہ درخواست گزار اپنے دفاع میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکے اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت سے علاقے میں امن و قانون کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ عدالت نے انتظامیہ کی کارروائی کو مناسب تصدیق کے بغیر کیا گیا قرار دیتے ہوئے متعلقہ احکامات منسوخ کر دیے۔