کالی کٹ | عبد الکریم امجدی
کیرالہ کی معروف اور بااثر دینی و روحانی شخصیت اور جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ کے صدر اعلیٰ سید علی بافقیہ تنگل کو آج ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں ان کے آبائی قبرستان کوئلانڈی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ گرانڈ مفتی آف انڈیا شیخ ابوبکر احمد نے پڑھائی۔
تدفین کے موقع پر ریاست بھر سے تعلق رکھنے والی ملی، سماجی اور سیاسی شخصیات کے علاوہ علما، مشائخ، سادات اور عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ان میں ریاستی وزیر زراعت پی صدیق، رکن پارلیمنٹ شافی پرمبری، کرناٹک کے وزیر صحت یو ٹی عبدالقادر اور مقامی رکن اسمبلی بھی شامل تھے۔
اس موقع پر اپنے تعزیتی پیغام میں شیخ ابوبکر احمد نے مرحوم کی دینی اور علمی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ سید علی بافقیہ تنگل کے انتقال سے دینی، علمی اور روحانی دنیا کو بڑا نقصان پہنچا ہے جس کی تلافی آسان نہیں۔ ان کی شخصیت میں خاندانی شرافت، علمی وقار، روحانی عظمت، متانت اور اخلاص کا حسین امتزاج تھا۔
شیخ ابوبکر احمد نے کہا کہ مرحوم نے اپنی طویل زندگی کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ حقیقی عظمت منصب اور شہرت میں نہیں بلکہ دین سے وفاداری، علم کی خدمت، ملت کی خیر خواہی اور اپنی ذمہ داریوں کو اخلاص کے ساتھ نبھانے میں ہے۔
دعوت و اصلاح اور علمی رہنمائی کے لیے زندگی وقف کردی
ڈاکٹر عبدالحکیم ازہری نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی دعوت و اصلاح اور ملت کی علمی و فکری رہنمائی کے لیے وقف کر دی تھی۔ ان کا علم و فضل، اخلاص و للہیت، تقویٰ و پرہیزگاری، اعلیٰ اخلاق اور دینی و ملی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے اور ان کے علمی و روحانی نقوش ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔
ڈاکٹر ازہری نے بتایا کہ مرحوم تقریباً 50 برس تک اپنے محلے کی مسجد کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ وہ 35 برس سے جمعیۃ العلما کے نائب صدر اور کیرالہ کے معلمین کی تمام تنظیموں کے سرپرست اعلیٰ بھی تھے۔
انہوں نے کہا کہ سید علی بافقیہ تنگل کی وفات محض ایک بزرگ عالمِ دین اور روحانی پیشوا کی رحلت نہیں بلکہ علم و تقویٰ، دینی قیادت اور روحانی وقار کے ایک تابندہ باب کا اختتام ہے۔
اہم شخصیات اور ہزاروں عقیدت مندوں کی شرکت
تدفین کے موقع پر سید ابراہیم خلیل البخاری، سی محمد فیضی، مولانا عبدالرحمن، ڈاکٹر عبدالحکیم ازہری اور ڈاکٹر ایڈوکیٹ حسین ثقافی سمیت متعدد اہم شخصیات موجود تھیں۔ اس کے علاوہ مرحوم کے معتقدین، احباب اور ہزاروں سوگواروں نے شرکت کرکے انہیں آخری سلام پیش کیا۔