این آئی اے عدالت نے علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کی ضمانت مسترد کردی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 07-10-2026
این آئی اے عدالت نے علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کی ضمانت مسترد کردی
این آئی اے عدالت نے علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کی ضمانت مسترد کردی

 



جموں: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جموں واقع خصوصی عدالت نے 1996 میں درج تشدد کے ایک معاملے میں علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔ یہ معاملہ 1996 میں درج ایک ایف آئی آر سے متعلق ہے، جس میں سری نگر میں ایک شخص کی آخری رسومات کے دوران تشدد، پتھراؤ اور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

خصوصی جج پریم ساگر نے ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے پر درخواست پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ ٹھوس بنیادوں پر یہ خدشہ موجود ہے کہ رہائی کی صورت میں شاہ ایسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں جن سے قومی سلامتی اور امن و امان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تہتر سالہ شبیر احمد شاہ کو این آئی اے نے اپریل میں سری نگر کے ناز کراسنگ پر ایک دہشت گرد کی آخری رسومات کے دوران ہجوم کی جانب سے کیے گئے تشدد اور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ سے متعلق تقریباً تین دہائی پرانے دہشت گردی کے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ ان کی گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی تھی جب دہشت گردی کی مالی معاونت سمیت این آئی اے کے دیگر معاملات میں تقریباً سات سال جیل میں رہنے کے بعد انہیں حال ہی میں ضمانت ملی تھی۔

منگل کو ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران این آئی اے کی خصوصی عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں چار افراد کو پہلے ہی محفوظ گواہ قرار دیا جا چکا ہے اور ملزم کے خلاف الزامات ابھی طے کیے جانے ہیں۔ جج نے اپنے 23 صفحات پر مشتمل حکم نامے میں کہا کہ عدالت اس حقیقت سے واقف ہے کہ ملزم کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون (یو اے پی اے) کی صرف دفعہ 13 لگائی گئی ہے، جو قانون کے باب 3 میں شامل ہے اور جس پر دفعہ 43-ڈی(5) کی پابندیاں لاگو نہیں ہوتیں۔ دفعہ 43-ڈی(5) کے تحت ضمانت پر پابندی صرف قانون کے باب 4 اور 6 کے تحت قابل سزا جرائم پر لاگو ہوتی ہے۔

تاہم جج نے کہا کہ یو اے پی اے کے ہر معاملے کے سنگین نتائج ہوتے ہیں، اس لیے الزامات کی نوعیت، ملزم کے کردار کی اہمیت، محفوظ گواہوں کی موجودگی، انہیں ڈرانے دھمکانے کے خطرے اور نیٹ ورک کو دوبارہ فعال کیے جانے کے امکان سمیت دیگر پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کی جانچ کی جانی چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ شبیر احمد شاہ صرف اس بنیاد پر ضمانت کا دعویٰ نہیں کر سکتے کہ بعض شریک ملزمان کو رہا کیا جا چکا ہے۔