این جی ٹی نے مائیکرو پلاسٹک پر یکساں طریقۂ کار تیار کرنے کے لیے سی پی سی بی کو 8 ہفتے کی مہلت دی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 07-11-2026
این جی ٹی نے مائیکرو پلاسٹک پر یکساں طریقۂ کار تیار کرنے کے لیے سی پی سی بی کو 8 ہفتے کی مہلت دی
این جی ٹی نے مائیکرو پلاسٹک پر یکساں طریقۂ کار تیار کرنے کے لیے سی پی سی بی کو 8 ہفتے کی مہلت دی

 



نئی دہلی: نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کو 8 ہفتے کا مزید وقت دیا ہے۔ اس دوران بورڈ کو پانی، مٹی، ہوا، سلج (کیچڑ) اور بایوٹا (جانداروں) سمیت مختلف ماحولیاتی ذرائع میں مائیکرو پلاسٹک کے نمونے لینے، انہیں تیار کرنے اور ان کی شناخت کے لیے یکساں طریقۂ کار تیار کرنے کی پیش رفت پر رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔ ہندوستانی نمک اور چینی کے برانڈز میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی اور انسانی خون میں مائیکرو پلاسٹک پائے جانے کی خبروں کے بعد شروع ہوئی کارروائی پر غور کرتے ہوئے ٹریبونل نے سی پی سی بی کی جانب سے مزید وقت دینے کی درخواست منظور کرلی۔

اب اس معاملے کی اگلی سماعت 4 فروری 2027 کو ہوگی۔ این جی ٹی کے چیئرمین جسٹس پرکاش سریواستو اور ماہر رکن ڈاکٹر افروز احمد پر مشتمل بنچ نے 13 اکتوبر 2026 کی سی پی سی بی رپورٹ کا جائزہ لیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک مشترکہ کمیٹی مائیکرو پلاسٹک کی شناخت اور تجزیے کے لیے ملک گیر جامع طریقۂ کار تیار کرنے کی سمت میں اقدامات کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، کمیٹی پانی، مٹی، تلچھٹ، ہوا، سلج اور بایوٹا میں مائیکرو پلاسٹک کے نمونے لینے، نمونوں کی تیاری اور تجزیے کے لیے مخصوص اور یکساں طریقۂ کار تیار کر رہی ہے۔ کمیٹی نے 9 ستمبر 2026 کو اپنی چھٹی میٹنگ کی، جس میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مجوزہ طریقۂ کار تیار کرنے کے عمل کو آگے بڑھایا گیا۔ سی پی سی بی نے ٹریبونل کو بتایا کہ ملک گیر جامع طریقۂ کار تیار کرنے کے لیے مختلف ماحولیاتی ذرائع کے لحاظ سے اسے معیاری بنانا اور مختلف لیبارٹریوں کے ذریعے اس کی توثیق کرنا ضروری ہوگا، اس کے بعد ہی اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کی سفارش کی جاسکے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) نے ماحول میں مائیکرو پلاسٹک کے تجزیے کے اصول طے کرنے والا معیار IS 18998:2025 منظور کرلیا ہے، لیکن یہ معیار صرف رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ اس میں مختلف ماحولیاتی ذرائع کے لیے نمونے لینے، نمونے تیار کرنے اور تجزیے کے تفصیلی اور مخصوص طریقے بیان نہیں کیے گئے ہیں۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے مختلف اداروں نے مخصوص شعبوں کے لیے طریقۂ کار تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف پیٹرو کیمیکلز انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (سی آئی پی ای ٹی) کو میٹھے پانی اور مٹی میں مائیکرو پلاسٹک کے نمونے لینے، نمونے تیار کرنے اور شناخت کے لیے طریقۂ کار تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ نیشنل سینٹر فار سسٹین ایبل کوسٹل مینجمنٹ (این سی ایس سی ایم) سمندری پانی، ساحلی تلچھٹ، سلج اور بایوٹا سے متعلق طریقۂ کار پر کام کرے گا، جبکہ سی ایس آئی آر-نیشنل انوائرنمنٹل انجینئرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایس آئی آر-نیری) ہوا میں مائیکرو پلاسٹک کی شناخت کے لیے طریقۂ کار تیار کرے گا۔

متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی تجاویز اور مجوزہ طریقۂ کار مشترکہ کمیٹی کے سامنے پیش کریں، تاکہ ان پر غور کیا جاسکے، انہیں بہتر بنایا جاسکے اور ان کی توثیق کی جاسکے۔ ان مطالعات کے اخراجات سی پی سی بی کے زیر انتظام این جی ٹی ای سی فنڈ سے پورے کیے جانے کی تجویز ہے۔ اس کے بعد سائنسی، تکنیکی اور مالیاتی جائزہ کمیٹی ان تجاویز کا جائزہ لے گی، جس کی بنیاد پر مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت کام سونپا جائے گا۔ سی پی سی بی نے بتایا ہے کہ مخصوص اور یکساں طریقۂ کار تیار کرنے اور انہیں حتمی شکل دینے میں تقریباً 12 ماہ لگ سکتے ہیں۔

اس کے بعد ان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا، انہیں مزید بہتر بنایا جائے گا، معیاری شکل دی جائے گی اور مختلف لیبارٹریوں کے درمیان ان کی توثیق کی جائے گی۔ یہ پوری کارروائی 13 اگست 2024 کو شائع ہونے والی ایک خبر سے شروع ہوئی، جس کا عنوان تھا، "مطالعے میں انکشاف: ہندوستان کے تمام نمک اور چینی کے برانڈز میں مائیکرو پلاسٹک موجود ہیں"۔ اس کے ساتھ 2022 کی ایک نیوز رپورٹ سے متعلق کارروائی بھی شامل ہے، جس میں انسانی خون میں مائیکرو پلاسٹک پائے جانے کی بات کہی گئی تھی۔