وزارت داخلہ اور قانون نے ایف سی آر اے بل پر جے پی سی کو معلومات دیں

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 29-09-2026
وزارت داخلہ اور قانون نے ایف سی آر اے بل پر جے پی سی کو معلومات دیں
وزارت داخلہ اور قانون نے ایف سی آر اے بل پر جے پی سی کو معلومات دیں

 



نئی دہلی: وزارت داخلہ اور وزارت قانون و انصاف نے ’غیر ملکی عطیات (ضابطہ) ترمیمی بل، 2026‘ کا جائزہ لے رہی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو منگل کو بل کی دفعات کے بارے میں نکات کی بنیاد پر معلومات فراہم کیں۔ بل کی بعض دفعات کی حزب اختلاف کی جماعتوں اور عیسائی تنظیموں کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے۔ بل کی دفعات کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کرنے کے لیے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنجے جیسوال کی صدارت میں 31 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں وزارتوں کے افسران نے 2010 کے اصل قانون میں ترمیم لانے کی وجوہات کے بارے میں تفصیلی پیشکش کی۔

غیر ملکی عطیات حاصل کرنے والی تمام تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے لیے ایف سی آر اے کے تحت رجسٹریشن کرانا لازمی ہے اور وزارت داخلہ نوڈل اتھارٹی کے طور پر ان کی نگرانی کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے چیئرمین چلا سری نواسولو شیٹی، حکومت کے اعلیٰ قانونی افسران اور سینئر وکلا سمیت موضوع کے ماہرین کے بھی جے پی سی کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کا امکان ہے۔ یہ بل اسی سال 25 مارچ کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے مطالبے کے بعد 12 اگست کو اسے جے پی سی کے پاس بھیج دیا گیا تھا۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے بل کی بعض دفعات کو انتہائی قابل اعتراض قرار دیا تھا۔

کانگریس رہنما کے۔ سی۔ وینوگوپال، راشٹروادی کانگریس پارٹی (ایس پی) کی رہنما سپریا سولے، ڈی ایم کے سربراہ ایم۔ کے۔ اسٹالن، میزورم کے وزیر اعلیٰ لال دُہومہ، ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو اور میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونراڈ کے۔ سنگما سمیت کئی رہنماؤں نے اس معاملے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ حزب اختلاف کا الزام ہے کہ یہ قانون اقلیتوں اور عیسائی اداروں کی مالی معاونت کو متاثر کرے گا۔ بعض امریکی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل کو بھی ہندوستان نے مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون کسی مخصوص مذہب کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد غیر ملکی مالی معاونت میں شفافیت لانا ہے۔ بل کو ’’خطرناک‘‘ قرار دیے جانے کے حزب اختلاف کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ یہ قانون ان لوگوں کے لیے خطرناک ہے جو غیر ملکی رقم کا استعمال جبری مذہبی تبدیلی یا ذاتی مفاد کے لیے کرتے ہیں۔