نئی دہلی: مرادآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) نے پاکبرا، مرادآباد میں واقع مصطفیٰ مسجد کے خلاف جاری کیا گیا وجہ بتاؤ نوٹس واپس لے لیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران اتھارٹی نے تسلیم کیا کہ یہ نوٹس واضح نہیں تھا۔ عدالت نے اس بیان کو ریکارڈ میں لیتے ہوئے عرضی نمٹا دی۔ یہ معاملہ مسجد کے متولی ذیشان احمد فرید کی جانب سے دائر کی گئی رٹ عرضی کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ انہوں نے ایم ڈی اے کی جانب سے 21 اگست کو اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 27(1) کے تحت جاری کیے گئے نوٹس کو چیلنج کیا تھا۔
جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس کنال روی سنگھ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے 28 ستمبر کو معاملے کی سماعت کی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل ایم سی چترویدی نے عدالت کو بتایا کہ سابقہ نوٹس مبہم ہونے کی وجہ سے واپس لے لیا گیا ہے اور قانون کے مطابق نیا نوٹس جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے اس بیان کو ریکارڈ میں لے لیا اور رٹ عرضی نمٹا دی۔ عرضی گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نوٹس میں معاملے سے متعلق کئی اہم قانونی اور دستاویزی پہلوؤں کو واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا۔ عرضی میں یہ بھی درخواست کی گئی تھی کہ قانونی طریقۂ کار پر عمل کیے بغیر مسجد کے خلاف کسی بھی طرح کی مسماری یا جبری کارروائی نہ کی جائے۔
مصطفیٰ مسجد سے متعلق قانونی کارروائی جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی رہنمائی میں کی جا رہی ہے۔ وکیل محمد طاہر حکیم، وکیل محمد نظام پاشا اور جمعیت علماء ہند گجرات کے جنرل سکریٹری پروفیسر نصیر احمد انصاری نے قانونی کارروائی کی تیاری اور پیروی میں حصہ لیا۔ مسجد کی جانب سے الہ آباد ہائی کورٹ میں سینئر وکیل ششی نندن اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈ آدتیہ پریہار پیش ہوئے۔ 24 ستمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران مقامی انتظامیہ نے بھی عدالت کو یقین دلایا تھا کہ عدالت کے حکم کے بغیر مسجد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
اس پیش رفت پر جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ سابقہ نوٹس واپس لیا جانا ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس معاملے میں قانونی عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری قانونی کوشش صرف ایک مسجد کے تحفظ تک محدود نہیں ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی ہے کہ کسی شہری یا مذہبی مقام کے خلاف کوئی بھی کارروائی قانونی طریقۂ کار اور عدالتی ہدایات کے مطابق ہی کی جائے۔‘‘ مولانا مدنی نے کہا کہ مذہبی مقامات سے متعلق معاملات میں خاص احتیاط اور حساسیت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ جمعیت علماء ہند نے کہا ہے کہ وہ مصطفیٰ مسجد سے متعلق کارروائی پر نظر رکھے گی اور ضرورت کے مطابق مناسب قانونی راستہ اختیار کرتی رہے گی۔