حیدرآباد: فارسی الفاظ کی ابتدا اور ارتقا کا مطالعہ صرف زبان کی تاریخ سمجھنے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے مختلف زبانوں، تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان صدیوں پرانے تعلقات کا بھی پتا چلتا ہے۔ زبانوں میں الفاظ کے لین دین، ثقافتی میل جول اور علمی و فکری تبادلے کی طویل روایت ان تعلقات کو سامنے لاتی ہے۔ یہ بات امریکہ کی یونیورسٹی آف منی سوٹا کے ڈاکٹر الیگزینڈر جباری نے کہی۔ وہ پیر کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو)، حیدرآباد میں شروع ہونے والی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
کانفرنس کا عنوان ’’نیٹ ورکس اینڈ اینٹینگلمنٹس: گلوبل ساؤتھ میں تہذیبوں کے درمیان علمی و فکری روابط کا جائزہ‘‘ ہے۔ یہ کانفرنس 2 سے 4 نومبر 2026 تک منعقد کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر جباری نے اپنے پہلے مکمل اجلاس میں ’’ابتدائی جدید ہندوستان میں فارسی قواعد‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فارسی الفاظ اور ان کی اصل و اشتقاق کے مطالعے سے فارسی، سنسکرت، ہندی، عربی، سریانی، قبطی اور عبرانی جیسی زبانوں کے درمیان موجود باہمی روابط کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے مغل دور کے ہندوستان میں فارسی علوم و ادب کی عالمی اور کثیرالثقافتی حیثیت پر بھی روشنی ڈالی۔ خاص طور پر انہوں نے سنسکرت اور فارسی کے درمیان علمی اور لسانی تبادلے کو نمایاں کیا۔ انہوں نے ہندوستان، سلطنت عثمانیہ اور چین میں فارسی قواعد کی روایت کے ارتقا پر گفتگو کی اور اردو جیسی ابھرتی ہوئی عوامی زبانوں کے ساتھ فارسی کے تعلقات کو بھی واضح کیا۔
کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت مانو کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کی۔ انہوں نے برطانوی مستشرق سر ولیم جونز کی خدمات کو یاد کیا، جنہوں نے فارسی اور ہندوستانی ادب کی کئی اہم تصانیف کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔ پروفیسر حسن نے دارا شکوہ کی مشہور تصنیف ’’مجمع البحرین‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر دارا شکوہ آج زندہ ہوتے تو ممکن ہے کہ وہ دو نہیں بلکہ کئی سمندروں کے سنگم پر لکھتے۔ اس تبصرے کے ذریعے انہوں نے دنیا کی مختلف تہذیبوں کے درمیان تنوع، مکالمے اور باہمی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ دارا شکوہ کے نظریات اور ان کی تصنیف کا ذکر کانفرنس کے وسیع تر مقصد سے بھی جڑا رہا۔
کانفرنس میں مختلف زبانوں، ادبی روایتوں اور ثقافتوں کے درمیان مشترکہ علمی و فکری ورثے کو سمجھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ افتتاحی اجلاس میں مانو کے رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد نے استقبالیہ خطاب کیا، جب کہ کانفرنس کے کنوینر پروفیسر سید امتیاز حسنین نے اس کے اغراض و مقاصد اور پروگرام کی تفصیلات پیش کیں۔ اس موقع پر ’’بک آف ابسٹریکٹس 2026‘‘ کا اجرا کیا گیا۔ اس کے ساتھ نومبر 2025 میں منعقدہ کانفرنس کی کارروائی پر مبنی کتاب بھی جاری کی گئی۔ گزشتہ کانفرنس کا موضوع ’’اردو، ہندی، عربی اور فارسی: لسانی، ادبی، ثقافتی اور علمی تبادلے کے درمیان تہذیبی ہم آہنگی‘‘ تھا۔ تقریب میں ڈاکٹر پیگی موہن، ڈاکٹر مختار احمد، پروفیسر پنچانن موہنتی اور پروفیسر سنگیتا بگّا گپتا کی تصانیف کا بھی اجرا کیا گیا۔
کانفرنس کی ڈائریکٹر پروفیسر گل افشاں حبیب نے اظہار تشکر کیا، جب کہ نظامت کے فرائض کانفرنس کے شریک کنوینر پروفیسر محمد عبدالصمد صدیقی نے انجام دیے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور میسور میں واقع مرکزی ہندوستانی زبانوں کے ادارے (سی آئی آئی ایل) کے علمی تعاون سے منعقد ہونے والی یہ بین الاقوامی کانفرنس گلوبل ساؤتھ کی تہذیبوں کے درمیان لسانی، ادبی اور ثقافتی تعلقات کو سمجھنے کے لیے مختلف ملکوں کے دانشوروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔ اس میں زبانوں کے تاریخی روابط اور خیالات کے تبادلے کے ذریعے تہذیبوں کے باہمی تعلق اور اشتراک کو سمجھنے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔