ترقی کا مقصد سب کی فلاح ہو، عدم مساوات کم سے کم ہو: موہن بھاگوت

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 29-09-2026
ترقی کا مقصد سب کی فلاح ہو، عدم مساوات کم سے کم ہو: موہن بھاگوت
ترقی کا مقصد سب کی فلاح ہو، عدم مساوات کم سے کم ہو: موہن بھاگوت

 



یوتمل (مہاراشٹر): راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے منگل کو کہا کہ ترقی کے مرکز میں معاشرے کے آخری فرد کی فلاح ہونی چاہیے اور ترقی کی بلند ترین اور نچلی ترین سطح کے درمیان فرق کو ممکن حد تک کم رکھا جانا چاہیے۔ پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی کے موقع پر منعقد ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ ’انتودے‘ کا بنیادی مطلب یہ یقینی بنانا ہے کہ معاشرے کا آخری فرد بھی زیادہ سے زیادہ خوشحال اور مطمئن ہو۔

بھاگوت نے کہا، ’’ملک خوشحال ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کا آخری فرد بھی خوشحال ہو، اسی کو انتودے کہا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ترقی کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ ہر شخص ایک ہی سطح تک پہنچ جائے، لیکن عدم مساوات کو کم سے کم ضرور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ اتنے بڑے معاشرے میں سبھی لوگ ترقی کی ایک ہی سطح پر نہیں پہنچ سکتے۔ یہ بات درست بھی ہے، لیکن ترقی کی نچلی ترین اور بلند ترین سطح کے درمیان فرق ممکن حد تک کم ہونا چاہیے۔‘

‘ جن سنگھ کے مرحوم رہنما پنڈت دین دیال اپادھیائے کے نظریات کا ذکر کرتے ہوئے سنگھ سربراہ نے کہا کہ وہ ترقی کی اس تعریف کو قبول نہیں کرتے تھے جس میں ’’زیادہ سے زیادہ لوگوں کی زیادہ سے زیادہ بھلائی‘‘ کی بات کی جاتی ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ دین دیال اپادھیائے کا ماننا تھا کہ ترقی ایسی ہونی چاہیے جس سے سب کی فلاح ہو۔ بھاگوت نے مہاتما گاندھی کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت معاشرے کے سب سے نچلے درجے پر کھڑے شخص کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’جب بھی آپ زندگی میں کچھ سوچیں تو معاشرے کے آخری سرے پر کھڑے شخص کے بارے میں سوچیں۔ خود سے پوچھیں کہ جو میں کر رہا ہوں، کیا اس کا لوگوں کی زندگی پر مثبت اثر پڑے گا؟ اگر ایسا ہے تو اسے کریں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ترقی ایسی ہونی چاہیے جس سے خوراک، کپڑے اور مکان جیسی بنیادی ضروریات پوری ہوں، ساتھ ہی سبھی لوگوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر ہوں۔ انہوں نے لوگوں کے عزت کے ساتھ رہنے اور دوسروں کا احترام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

بھاگوت نے کہا کہ فطرت کی قیمت پر ترقی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ترقی کے ساتھ ماحولیات کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ زراعت اور کسانوں کی فلاح کے حوالے سے بھاگوت نے نامیاتی کھیتی، مخلوط کاشت، مویشی پالنے اور بیج و کھاد کے معاملے میں خود کفالت کو فروغ دینے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کسان قرض کے جال میں نہ پھنسیں اور زیادہ خود کفیل بنیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ترقی کو آگے بڑھانا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

سنگھ سربراہ نے دین دیال اپادھیائے کے سادہ طرز زندگی اور عوامی خدمت کے تئیں ان کی وابستگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کا فلسفہ اس تصور پر مبنی ہے کہ ترقی کے دائرے میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور، پرندے اور فطرت بھی شامل ہونے چاہئیں۔ بھاگوت نے کہا کہ پنڈت دین دیال اپادھیائے کا ’ایکاتم انسان واد‘ کا نظریہ کوئی نیا تصور نہیں ہے، بلکہ یہ گزشتہ نسلوں کے لوگوں کی اپنائی ہوئی طرز زندگی سے ہی نکلا ہے اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے اسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔