ترووننت پورم: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ہفتے کے روز کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما پنارائی وجین کی رہائش گاہ کے باہر سمن چسپاں کرکے انہیں سی ایم آر ایل سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے 23 اکتوبر کو حاضر ہونے کی ہدایت دی۔ ای ڈی نے ریاستی پولیس کی جانب سے حال ہی میں درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر معاملہ درج کرنے کے بعد جمعہ کو انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت سمن جاری کیا تھا۔ ہفتے کے روز کوچی سے آئے ای ڈی کے ایک افسر نے ترووننت پورم میں بیکری جنکشن کے قریب واقع وجین کی رہائش گاہ پر پہنچ کر مرکزی دروازے کے پاس سمن چسپاں کر دیا۔
حکام کے مطابق، یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا تاکہ وجین کو سمن ملنے کو یقینی بنایا جا سکے اور وہ ہدایت کے مطابق پوچھ گچھ کے لیے حاضر ہوں۔ افسران کے پہنچنے کے وقت وجین گھر پر موجود نہیں تھے۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کے سینئر رہنما وی شیون کٹی بعد میں وجین کی رہائش گاہ پہنچے اور وہاں کے عملے سے بات چیت کی۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ای ڈی کی کارروائی پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وجین پارٹی کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے کنور میں ہیں اور وہ فرار نہیں ہوئے ہیں۔ سابق وزیر تعلیم شیون کٹی نے کہا، ’’وہ یہاں سے الاپّوزھا اور پھر کنور گئے ہیں۔
دو روزہ اجلاس مکمل ہونے کے بعد وہ ترووننت پورم واپس آجائیں گے۔ اگر ای ڈی چاہتی تو انہیں براہِ راست بھی نوٹس دے سکتی تھی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ای ڈی کا ایک افسر سمن دینے کے لیے صبح سب سے پہلے اکیلا وجین کی رہائش گاہ پہنچا تھا، لیکن ان کی غیر موجودگی میں واپس لوٹ گیا۔ شیون کٹی کے مطابق، افسر بعد میں دوبارہ آیا اور اس نے گھر کے عملے سے سمن چسپاں کیے جانے کا گواہ بننے کو کہا، لیکن عملے نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ای ڈی کے افسر پولیس اہلکاروں کے ساتھ واپس آئے اور سمن چسپاں کر دیا۔ شیون کٹی نے کہا، ’’یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
اس سلسلے میں کوئی بھی کارروائی سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہی کی جانی چاہیے۔‘‘ انہوں نے سمن چسپاں کرنے کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عام طور پر ایسا اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی شخص کا پتا نہ چل رہا ہو۔ ان کے بقول، ’’سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ قائد حزب اختلاف جیسی شخصیت کے ساتھ اس طرح کا سلوک سراسر ناانصافی، غیر جمہوری اور انتہائی قابلِ مذمت ہے۔‘‘ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وجین پوچھ گچھ کے لیے حاضر ہوں گے، شیون کٹی نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ کرنا خود وجین کا اختیار ہے۔ کیرالہ کے محکمہ انسدادِ بدعنوانی اور نگرانی کے ادارے نے مبینہ سی ایم آر ایل رشوت معاملے میں 12 اکتوبر کو دو ایف آئی آر درج کی تھیں۔
ان میں وجین، ان کی بیٹی وینا ٹی، داماد پی اے محمد ریاض اور خاندان کے دیگر افراد کے نام شامل ہیں۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے 9 اکتوبر کو ادارے کو ہدایت دی تھی کہ وہ ای ڈی کی جانب سے کیرالہ پولیس کو سونپی گئی رپورٹ کی بنیاد پر معاملہ درج کرے۔ ای ڈی نے انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کے تحت اپنی تفتیش اور چھاپوں کے دوران جمع کیے گئے شواہد کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کی تھی۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ سی ایم آر ایل نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سے متعلق مشاورتی خدمات کی آڑ میں وجین کی بیٹی وینا کی کمپنی ’ایکسالاگک سولیوشنس‘ کو 2.78 کروڑ روپے کی فرضی ادائیگی کی۔ یہ کمپنی اب بند ہو چکی ہے۔ وجین نے ایف آئی آر درج کرنے سے متعلق کیرالہ ہائی کورٹ کے حکم کو جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔