نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کو دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (ڈی یو ایس یو) کے حالیہ انتخابات کے نتائج کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج کردی۔ عرضی میں بڑے پیمانے پر انتخابی بے ضابطگیوں اور یونیورسٹی کے عہدیداروں، جن میں پروفیسر بھی شامل ہیں، کی جانب سے مبینہ طور پر جانبدارانہ انتخابی مہم چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ جسٹس سوربھ بنرجی نے عرضی خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس میں الزامات سے متعلق ضروری تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ عرضی گزار کی جانب سے پیش کی گئی تصاویر میں واقعات کی تاریخ اور وقت درج نہیں تھا۔
یہ حکم وجے شنکر مینا کی عرضی پر سنایا گیا، جنہوں نے نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کی جانب سے ڈی یو ایس یو صدر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑا تھا۔ جج نے کہا، ’’آپ اس طرح کی عرضیاں داخل نہیں کرسکتے۔ اس میں کوئی تفصیلات نہیں ہیں۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ عرضی گزار کے وکیل کی جانب سے پیش کی گئی تصاویر اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں کہ ان میں نظر آنے والے افراد دہلی یونیورسٹی کے عہدیدار تھے اور انتخابات کے دوران کسی امیدوار کے حق میں انتخابی مہم چلا رہے تھے۔
دہلی یونیورسٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تصاویر میں دکھائی دینے والے افراد کو عرضی میں فریق ہی نہیں بنایا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے وکیل نے یہ بھی بتایا کہ عرضی گزار نے صرف چار روز قبل یونیورسٹی حکام کو ایک نمائندگی دی ہے اور اس پر جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ عرضی میں صدر کے عہدے کے لیے اعلان کیے گئے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دینے اور ڈی یو ایس یو انتخابات سے متعلق ریکارڈ، بشمول ووٹوں کی گنتی کے ریکارڈ، طلب کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
عرضی گزار نے الزام لگایا تھا کہ کئی کالجوں کے پرنسپل، پروفیسر اور انتظامی یا تدریسی عملے کے ارکان نے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی حمایت یافتہ امیدواروں کے حق میں جانبدارانہ انتخابی مہم چلائی۔ عرضی میں ستیہ وتی کالج کے انتخابی افسران پر بھی اے بی وی پی امیدواروں کے حق میں جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے اور انتخابی مہم چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ عرضی گزار کا کہنا تھا کہ یہ اقدام انتخابی افسران پر عائد غیر جانب داری کی قانونی ذمہ داری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔