کوچی: کیرالہ ہائی کورٹ نے عصمت دری کی شکار 15 سالہ لڑکی کی والدہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے 30 ہفتے کے حمل کو طبی طریقے سے ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ جسٹس ہری شنکر وی مینن نے متاثرہ کی والدہ کی جانب سے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو اس عمل کے لیے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے یہ حکم لڑکی کے طبی معائنے کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر دیا۔
بورڈ نے رائے دی کہ حمل ختم کرنا ہی سب سے مناسب راستہ ہے، کیونکہ حمل جاری رہنے سے جنسی زیادتی کا شکار نابالغ لڑکی کی ذہنی صحت پر سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔ میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حمل کی مدت 30 ہفتوں سے زیادہ ہو چکی ہے، اس لیے بچے کے زندہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اگر کسی سنگین طبی مسئلے یا پیدائش سے پہلے یا بعد میں کوئی پیچیدگی پیدا نہیں ہوتی تو بچے کے زندہ رہنے کا امکان 95 فیصد سے زیادہ ہے۔
بورڈ نے یہ بھی بتایا کہ نومولود کو تقریباً دو ماہ تک نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) میں رکھنا پڑ سکتا ہے۔ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ متاثرہ لڑکی اور اس کی والدہ سے تحریری رضامندی لینے کے بعد ہی یہ طبی عمل شروع کیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ اگر بچہ زندہ رہتا ہے تو ریاستی حکومت اس کی مناسب دیکھ بھال اور معیاری طبی سہولت یقینی بنائے گی۔ اگر میڈیکل بورڈ کے خدشے کے مطابق بچے میں صحت سے متعلق کوئی پیچیدگی پیدا ہوتی ہے تو حکومت اسے بروقت ضروری طبی امداد فراہم کرے گی۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ اگر بچہ زندہ نہ رہ سکے تو ریاستی حکومت جنین کے ٹشوز اور خون کے نمونے ڈی این اے جانچ اور ’میپنگ‘ یعنی ڈی این اے ساخت کی شناخت اور موازنہ جیسے فرانزک شواہد کے لیے محفوظ رکھے، کیونکہ اس جنسی زیادتی کے سلسلے میں پہلے ہی ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔