جالندھر: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کو پنجاب میں منشیات کے مسئلے کو لے کر عام آدمی پارٹی (آپ) کی قیادت والی حکومت پر سخت حملہ کیا اور الزام لگایا کہ حکومت نے ممنوعہ منشیات کے کاروبار کو کھلے عام چلنے دیا۔ اگلے سال کے آغاز میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے حمایت کی اپیل کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ ان کی پارٹی 31 دسمبر 2029 تک پنجاب کو ’’چِٹا‘‘ یعنی ہیروئن سے پاک کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اسمبلی انتخابات ’’نشہ مکت پنجاب‘‘ کے مسئلے پر لڑے گی۔ شاہ نے کہا، ’’کیا ’آپ‘ پنجاب کو نشے سے پاک کرسکتی ہے؟ صرف بی جے پی ہی پنجاب کو نشے سے پاک کرسکتی ہے۔‘
‘ بی جے پی کے سینئر رہنما نے یہاں پرگ پور میں پارٹی کی ’’نشہ مکت پنجاب یاترا‘‘ کے اختتام پر منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ یہ یاترا 18 ستمبر کو شروع ہوئی تھی۔ وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی قیادت والی ’آپ‘ حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے شاہ نے الزام لگایا کہ حکومت نے پنجاب میں ’’چِٹا‘‘ کا کاروبار کھلے عام چلنے دیا۔
پارٹی کے لیے عوام سے حمایت کی اپیل کرتے ہوئے شاہ نے کہا، ’’میں یہاں سے پنجاب کی ماؤں اور نوجوانوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ دسمبر 2029 سے پہلے ہم پنجاب کو چِٹے سے پاک کردیں گے۔‘‘ دوپہر میں جالندھر پہنچنے کے بعد وزیر داخلہ نے سری دیوی تالاب مندر میں پوجا کی۔ اس کے بعد انہوں نے منشیات کی لت سے متاثرہ کچھ خاندانوں سے ملاقات کی۔ شاہ نے کہا، ’’میں ان خاندانوں سے ملا جنہوں نے منشیات کی لت کی وجہ سے اپنے عزیزوں کو کھو دیا۔ دو بیٹوں کی تصویریں ہاتھ میں لیے ایک ماں نے کہا کہ منشیات کی لعنت ختم ہونی چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ خاتون نے انہیں بتایا کہ اس نے اس لعنت کی وجہ سے اپنے دونوں بیٹوں کو کھودیا، لیکن کسی دوسری ماں کو اس طرح کی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ ’آپ‘ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے شاہ نے کہا، ’’لیکن انہیں شرم محسوس نہیں ہورہی ہے۔‘‘ کسی کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ جو لوگ خود نشے میں رہتے ہیں اور سکھ گروؤں کی بے حرمتی کرتے ہیں، وہ پنجاب کو نشے سے پاک نہیں کرسکتے۔ ریلی سے خطاب سے قبل شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پنجابی میں ایک پوسٹ میں کہا کہ عام آدمی پارٹی حکومت کی خراب حکمرانی کی وجہ سے پنجاب منشیات کے ایک سنگین مسئلے سے دوچار ہے اور انہوں نے مان حکومت کو ’’تباہی‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے لوگ منشیات کے خلاف فیصلہ کن لڑائی لڑ رہے ہیں اور اس عمل میں ریاست کو متحد کررہے ہیں۔ ان کے مطابق بی جے پی کی یاترا پنجاب کے ہر گاؤں تک پہنچی، منشیات کے خلاف بیداری پیدا کی اور نوجوانوں کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا، ’’جب میں کہتا ہوں کہ ہم 31 دسمبر 2029 سے پہلے پنجاب کو نشے سے پاک کردیں گے تو (آپ کے سربراہ اروند) کیجریوال اور ان کی کمپنی میرے پیچھے کیا کہنے والی ہے؟ میں پنجاب کے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم نے پہلے جو کہا تھا، وہ کرکے دکھایا ہے۔‘‘
انہوں نے مرکز میں نریندر مودی حکومت کی جانب سے مختلف چیلنجوں، جیسے کشمیر میں دہشت گردی، شمال مشرق میں شورش اور نکسل ازم کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا، ’’ہم نے نکسل ازم کا خاتمہ کیا، ہم نے دہشت گردی ختم کی۔۔۔ ہمیں ایک موقع دیں، ہم پنجاب سے نشے کے خطرے کو ختم کردیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اب ’’چِٹا مکت پنجاب‘‘ کی باری ہے۔ شاہ نے کہا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو جیل بھیجا جائے گا اور زور دے کر کہا کہ پنجاب کی ماؤں سے بی جے پی کا یہ وعدہ ہے کہ دسمبر 2029 کے بعد ریاست میں نوجوانوں کو منشیات فراہم کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ انہوں نے لوگوں سے ’’نااہل‘‘ آپ حکومت کو ہٹانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’دو سال کے اندر ہم نشے کے خطرے کو ختم کردیں گے۔‘‘ شاہ نے کہا کہ جب تک ریاست کے نوجوانوں کو منشیات کی لت سے آزاد نہیں کرایا جاتا، پنجاب ترقی نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا، ’’یہ منشیات ہماری آنے والی نسلوں کو برباد کررہی ہیں۔ یہ نوجوانوں کی جان لے رہی ہیں۔ اس لیے پنجاب کے نوجوانوں کو نشے سے بچانے کے لیے ایسا سخت نظام صرف اور صرف نریندر مودی کی قیادت میں ہی بنایا جاسکتا ہے، کسی اور کے ذریعے نہیں۔‘‘ شاہ نے پنجاب کی معاشی صورت حال پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ’’پنجاب کی معاشی حالت بہت خراب ہے۔‘‘ ریلی میں بی جے پی کی پنجاب یونٹ کے صدر کیول سنگھ ڈھلوں، پارٹی رہنما ترون چُگ، سنیل جاکھڑ، اشونی شرما، وکرم جیت سنگھ ساہنی، من پریت بادل، اقبال سنگھ لال پورہ، پرنیت کور، وجے سانپلا، سندیپ پاٹھک، سوم پرکاش، منورنجن کالیا، منجندر سنگھ سرسا، روی نیت سنگھ بٹو، راگھو چڈھا، ہربھجن سنگھ اور اشوک مِتّل بھی موجود تھے۔
بی جے پی نے 18 ستمبر کو ’’بی جے پی دا نارا، نشا مکاؤنا سارا‘‘ یعنی ’’بی جے پی کا نعرہ، سارا نشہ ختم کرنا ہے‘‘ کے نعرے کے ساتھ ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ شروع کی تھی۔ منشیات کے خلاف یہ یاترا پنجاب کے تمام 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے تقریباً 4 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے منگل کو جالندھر پہنچی تھی۔ بی جے پی کے صدر نتن نوین نے 18 ستمبر کو پٹھان کوٹ کے ایکتا استھل سے ریاست گیر چار منشیات مخالف یاترا میں سے پہلی یاترا کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔ اس کے بعد گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کئی مرکزی وزرا، بی جے پی کی حکومت والی کچھ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے ان یاتراؤں میں حصہ لیا۔