دہلی میں جلد بڑھ سکتا ہے درجہ حرارت، محکمہ موسمیات کی پیش گوئی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 28-09-2026
دہلی میں جلد بڑھ سکتا ہے درجہ حرارت، محکمہ موسمیات کی پیش گوئی
دہلی میں جلد بڑھ سکتا ہے درجہ حرارت، محکمہ موسمیات کی پیش گوئی

 



نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی میں خوشگوار موسم کا موجودہ سلسلہ جلد ختم ہونے کا امکان ہے، کیونکہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہوسکتا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق یکم اکتوبر سے دہلی کے بیشتر علاقوں میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ڈی نے پیر کو جاری اپنی روزانہ کی پیش گوئی میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دہلی کے کچھ علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے نمایاں طور پر، یعنی 5.1 ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ کم رہا۔

کئی علاقوں میں یہ معمول سے 3.1 سے 5 ڈگری سیلسیس کم، جبکہ دہلی کے باقی حصوں میں 1.6 سے 3 ڈگری سیلسیس کم ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح کچھ علاقوں میں کم سے کم درجہ حرارت معمول سے 3.1 سے 5 ڈگری سیلسیس کم رہا، جبکہ دہلی کے باقی علاقوں میں یہ معمول کے مطابق رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یکم اکتوبر سے صورتحال بدل سکتی ہے۔ اس دوران دہلی کے بیشتر علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سیلسیس اور کم سے کم درجہ حرارت 23 سے 25 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں مغربی ہواؤں کے ایک نظام اور بالائی فضا میں بننے والی گردابی گردش کے اثر سے درجہ حرارت میں کمی آئی ہے۔ یہ گردابی گردش شمال مغربی اتر پردیش اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں موجود ہے۔ دونوں موسمی نظام عام طور پر بارش سے وابستہ ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں کمی آتی ہے۔ آئی ایم ڈی نے بتایا کہ شمال مغربی ہندوستان میں ان موسمی نظاموں کے اثر سے 28 اور 29 ستمبر کو مشرقی راجستھان، ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی، پنجاب اور مغربی اتر پردیش میں بعض مقامات پر بارش کے ساتھ گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کا امکان ہے۔

مشرقی اتر پردیش میں 28 سے 30 ستمبر تک جبکہ مغربی راجستھان میں 28 ستمبر کو بھی بارش ہوسکتی ہے۔ جنوب مغربی مانسون، جو جون سے ستمبر تک رہتا ہے، 23 ستمبر کو دہلی سے واپس جا چکا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا نظام اور بالائی فضا کی گردابی گردش ختم ہونے کے بعد درجہ حرارت میں اضافہ متوقع ہے۔ خط استوا کے قریب بحرالکاہل میں موجود ایل نینو کی صورتحال بھی گرمی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ ایل نینو، ایل نینو سدرن آسکیلیشن (ای این ایس او) کے تین مراحل میں سے ایک ہے۔ یہ ایک موسمیاتی رجحان ہے جس میں بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصے میں سمندری درجہ حرارت میں تبدیلی کے ساتھ فضا میں بھی اتار چڑھاؤ ہوتا ہے۔

ایل نینو عام طور پر عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے وابستہ ہے، جبکہ اس کے برعکس مرحلے ’لا نینا‘ کا تعلق عموماً ٹھنڈک سے ہوتا ہے۔ ای این ایس او کی ایک غیر جانب دار حالت بھی ہوتی ہے۔ عالمی موسمیاتی اداروں، بشمول عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او)، نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں سال جون میں پیدا ہونے والی ایل نینو کی موجودہ صورتحال آنے والے مہینوں میں شدت اختیار کرکے ’’بہت مضبوط صورتحال‘‘ اختیار کرسکتی ہے اور فروری 2027 تک برقرار رہ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان میں دسمبر سے فروری تک رہنے والے موسم سرما کے مہینوں میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہ سکتا ہے۔