نئی دہلی: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی ہفتہ کو نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا قومی دارالحکومت کا 78واں دورہ ہوگا۔ اس دوران ریاست کے کئی اہم مطالبات اور ترقیاتی منصوبے مرکز کی منظوری یا مالی مدد کے منتظر ہیں۔ ریونت ریڈی کے بار بار دہلی دوروں کو تلنگانہ میں سیاسی بحث کا موضوع بھی بنایا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں ان کے مرکز کی حکومت اور کانگریس قیادت کے ساتھ ہونے والے اجلاسوں کے نتائج پر سوال اٹھاتی رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے دہلی دوروں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد ریاست کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈ، منظوری اور ضروری کلیئرنس حاصل کرنا ہے۔
مارچ 2025 میں اپنے بار بار دہلی دوروں پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا تھا، ’’39 بار نہیں، میں 99 بار دہلی جاؤں گا۔‘‘ گزشتہ سال نومبر میں ان کا 56واں دہلی دورہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے دو سال مکمل ہونے سے بھی پہلے ہوا تھا۔ سرکاری طور پر یہ دورہ ایک پروگرام میں شرکت سے متعلق بتایا گیا تھا، تاہم رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے کانگریس میں تنظیمی تقرریوں اور ممکنہ کابینہ میں ردوبدل سے متعلق بھی ملاقاتیں کی تھیں۔ تازہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب تلنگانہ کے کئی بڑے منصوبے اور تجاویز مرکز کے فیصلے کی منتظر ہیں۔
جنوری 2026 کے ایک جائزے میں 12 محکموں سے متعلق 47 تجاویز کی نشاندہی کی گئی تھی، جو مرکزی حکومت کی منظوری یا مالی مدد کی منتظر تھیں۔ ان میں ریجنل رنگ روڈ، حیدرآباد میٹرو فیز-2، حیدرآباد-بندر پورٹ گرین فیلڈ ہائی وے، ریلوے منصوبے اور قومی شاہراہوں کی توسیع و بہتری کے منصوبے شامل تھے۔ حیدرآباد میٹرو فیز-2 ان اہم منصوبوں میں شامل ہے جنہیں ریاستی حکومت نے ریونت ریڈی کی مرکزی وزرا کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران اٹھایا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے حیدرآباد میٹرو کے 122.9 کلومیٹر توسیعی منصوبے کی تجویز دی ہے، جس کی متوقع لاگت 38,595 کروڑ روپے ہے۔ ریاست نے اس منصوبے کے لیے مرکز سے منظوری طلب کی ہے۔
ریاست حیدرآباد کے لیے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) کے قیام کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔ ریونت ریڈی تلنگانہ کے ارکان پارلیمنٹ سے مرکز کے سامنے اس مطالبے کو مؤثر طریقے سے اٹھانے کی اپیل کر چکے ہیں۔ آبپاشی کے شعبے میں تلنگانہ نے پالمورو-رنگاریڈی لفٹ اریگیشن اسکیم کو قومی منصوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم مرکز نے اگست میں کہا تھا کہ اس منصوبے کو قومی منصوبے کا درجہ دینے کی تجویز فی الحال زیر غور نہیں ہے۔ مرکز نے اس کی وجہ کرشنا ندی کے پانی کی تقسیم سے متعلق بین ریاستی مسائل کا حل نہ ہونا بتایا تھا۔ ریاست کے زیر التوا مطالبات میں رابطے اور صنعتی بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبے بھی شامل ہیں۔
تلنگانہ حیدرآباد-بندر پورٹ گرین فیلڈ ہائی وے، ریجنل رنگ روڈ سے متعلق منصوبوں اور حیدرآباد-بنگلورو ڈیفنس انڈسٹریل کوریڈور کے نوٹیفکیشن پر پیش رفت کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ ہوائی اڈوں کی ترقی بھی ریونت ریڈی کی مرکز کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں شامل رہی ہے۔ 2 ستمبر کو انہوں نے مرکزی وزیر شہری ہوابازی کے رام موہن نائیڈو سے ملاقات کرکے عادل آباد اور مامنور میں مجوزہ ہوائی اڈوں کے کام میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ مامنور ہوائی اڈے کے لیے زمین کے حصول کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔
وزرائے اعلیٰ کا مرکز سے متعلق معاملات پر بات چیت کے لیے دہلی آنا معمول کی بات ہے، تاہم ریونت ریڈی کے مسلسل دورے تلنگانہ میں سیاسی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) نے وزیر اعلیٰ کے دہلی دوروں پر تنقید کی ہے۔ 2025 میں بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے ریونت ریڈی کے سابقہ دہلی دوروں کے نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کے دوروں کی تعداد کا سابق وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ کے دوروں سے موازنہ کیا تھا۔ ان دوروں پر ہونے والے اخراجات کو لے کر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں، جن میں ہوائی سفر، رہائش، سکیورٹی اور سرکاری انتظامات پر آنے والے اخراجات شامل ہیں۔ ریونت ریڈی کے 78ویں دہلی دورے کے ساتھ اب توجہ اس بات پر رہے گی کہ تلنگانہ کے زیر التوا مطالبات میں کتنی پیش رفت ہوتی ہے اور مرکزی حکومت کے حکام کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔