نئی دہلی: ہندوستانی حکومت نے بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ جاری احتجاج سے متعلق غیر قانونی مواد کے خلاف کارروائی کو ترجیح دیں۔ یہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت مجاز سرکاری اداروں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر کی جائے۔
اس معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق، وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (میتی) نے 8 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی۔ اس میں جاری احتجاج سے متعلق ایسی معلومات کی آن لائن تشہیر پر تشویش ظاہر کی گئی ہے جو غلط، گمراہ کن، توڑ مروڑ کر پیش کی گئی ہوں یا جنہیں اصل سیاق و سباق سے ہٹ کر پھیلایا جارہا ہو۔
وزارت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کا غیر قانونی مواد عوامی نظم و ضبط اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرسکتا ہے، امن و امان کے مسائل پیدا کرسکتا ہے اور تشدد کو ہوا دے سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے واقف ایک سرکاری ذرائع نے بتایا، ’’میتی نے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی مواد کی شناخت کریں اور مجاز سرکاری اداروں سے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر اس کے خلاف کارروائی کو ترجیح دیں۔‘‘
ایڈوائزری میں سوشل میڈیا کمپنیوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت یا دیگر مصنوعی طریقوں سے تیار کردہ مواد کی نشان دہی کریں، خصوصاً ایسے مواد کی جسے جاری واقعات کی عکاسی کے طور پر پیش کیا جارہا ہو۔
ذرائع کے مطابق، وزارت نے کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر مجاز سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ بروقت تعاون کریں، ضروری معلومات فراہم کریں اور قابلِ اطلاق قوانین کے مطابق مقررہ مدت کے اندر مطلوبہ مدد فراہم کریں۔ اس سلسلے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی قواعد، 2021 کی پابندی کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔