قانون کی تعلیم پر بی سی آئی کے اختیار کی جانچ کرے گا سپریم کورٹ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 23-09-2026
قانون کی تعلیم پر بی سی آئی کے اختیار کی جانچ کرے گا سپریم کورٹ
قانون کی تعلیم پر بی سی آئی کے اختیار کی جانچ کرے گا سپریم کورٹ

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا کہ وہ اس بات کی جانچ کرے گا کہ آیا بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کو قانون کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کو کنٹرول اور ریگولیٹ کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایک ریگولیٹر کے طور پر بی سی آئی کا قانونی کردار اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی شخص کو وکالت کا لائسنس دیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ قانون کی تعلیم کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بی سی آئی کو ماہر ادارہ کیسے مانا جا سکتا ہے، جبکہ تعلیمی معاملات کے لیے قانون کے ماہرین اور ماہرِ تعلیم زیادہ موزوں ہو سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے زبانی طور پر کہا، ’’بی سی آئی قانون کے کالجوں کو کیسے ریگولیٹ کر سکتا ہے؟ یہی اصل سوال ہے۔ اس کا قانونی کردار تب شروع ہوتا ہے جب کسی شخص کو لائسنس مل جاتا ہے۔ اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا قانون کے کالجوں کو ریگولیٹ کیا جا سکتا ہے؟ ہم اس بات کی جانچ کرنا چاہیں گے کہ آیا بی سی آئی کو قانون کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کو کنٹرول اور ریگولیٹ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔‘‘ انہوں نے مزید سوال کیا، ’’قانون کی تعلیم کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بی سی آئی ماہر ادارہ کیسے ہے؟ وہ قانونی تعلیم کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ قانون کے کئی ممتاز ماہرین اور ماہرِ تعلیم موجود ہیں۔

آپ عام رہنما اصول طے کر سکتے ہیں کہ کورس چار یا پانچ سال کا ہونا چاہیے، لیکن آپ مکمل کنٹرول نہیں کر سکتے۔‘‘ سپریم کورٹ ’بی سی آئی۔ پرل فرسٹ ٹرسٹ‘ کے کام کاج اور ٹرسٹ کی جانب سے قانون کے کالج قائم کیے جانے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ بنچ نے درخواستوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے بی سی آئی سے دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار گریش متل کی جانب سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ بی سی آئی نے 2016 میں ایک قرارداد منظور کرکے پرانے ٹرسٹ کو ختم کر دیا تھا اور اس کی رقم ایک نئے ٹرسٹ کو منتقل کر دی تھی۔ انہوں نے 2020 میں ’بار کونسل آف انڈیا ٹرسٹ فار پروموشن آف ایجوکیشن، لیگل اینڈ پروفیشنل ریفارمز اینڈ امپروومنٹ اِن ریسرچ‘ کے قیام کا بھی ذکر کیا۔

بھوشن نے الزام لگایا کہ ٹرسٹ کی دستاویز میں 11 مینیجنگ ٹرسٹیوں کو بی سی آئی میں ان کی رکنیت کی مدت سے الگ ’’اصل اور مستقل ٹرسٹی‘‘ بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں ٹرسٹ نے گوا اور آندھرا پردیش میں ایک ایک قانون کا کالج قائم کیا۔ بی سی آئی کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے کہا کہ بار ادارے نے ایک قرارداد منظور کی ہے، جس کے تحت کوئی بھی شخص تاحیات ٹرسٹی نہیں ہوگا اور ٹرسٹیوں کی مدت بی سی آئی میں ان کی رکنیت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گی۔ سپریم کورٹ نے اس سے پہلے تبصرہ کیا تھا کہ بی سی آئی کے صدر منن کمار مشرا کا عہدہ صرف ’’عارضی‘‘ یعنی پروٹیم ہے، جب تک نئے تشکیل دیے گئے بار ادارے کے ذریعے عہدیداروں کا انتخاب نہیں کر لیا جاتا۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ بی سی آئی بھارت کے اٹارنی جنرل اور سالیسٹر جنرل سے مشورے کے بعد ہی کوئی پالیسی فیصلہ کرے۔ اس سے قبل وکیل یوگمایا ایم جی نے ایک درخواست دائر کرکے منن کمار مشرا کے طویل عرصے تک بی سی آئی کے صدر بنے رہنے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی درخواست کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ مشرا پہلی مرتبہ 2012 تک بی سی آئی کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

اس میں دعویٰ کیا گیا کہ اگرچہ انہوں نے 2014 میں کچھ عرصے کے لیے عہدہ چھوڑ دیا تھا، لیکن اسی سال نومبر میں دوبارہ صدر بن گئے اور اس کے بعد سے عہدے پر برقرار ہیں۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی سی آئی کے ضابطے 12(2) کے تحت صدر اور نائب صدر کی مدت دو سال ہوتی ہے یا رکنیت ختم ہونے تک، جو بھی پہلے ہو۔ درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جج یا کسی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے۔ درخواست میں 21 اپریل 2025 کو جاری اس گزٹ نوٹیفکیشن کو بھی چیلنج کیا گیا ہے، جس کے ذریعے مشرا کی مدتِ کار 2030 تک بڑھائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔