ٹرانس جینڈر حقوق کے قانون پر سپریم کورٹ کا مرکز سے جواب طلب

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 28-10-2026
ٹرانس جینڈر حقوق کے قانون پر سپریم کورٹ کا مرکز سے جواب طلب
ٹرانس جینڈر حقوق کے قانون پر سپریم کورٹ کا مرکز سے جواب طلب

 



نئی دہلی:سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ایک خواتین کی تنظیم کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ اس عرضی میں ٹرانس جینڈر حقوق سے متعلق قانون کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس قانون سے حیاتیاتی خواتین کو آئین اور قانون کے تحت حاصل مخصوص تحفظات اور مراعات متاثر ہو سکتی ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے اس عرضی پر مرکزی وزارت سماجی انصاف و تفویض اختیارات، وزارت قانون و انصاف اور وزارت صحت و خاندانی بہبود کو نوٹس جاری کیے۔

’ویمنز ڈیکلریشن انٹرنیشنل انڈیا‘ کی جانب سے دائر عرضی میں مقامی اداروں میں خواتین کے لیے ریزرویشن، جیلوں میں ٹرانس جینڈر افراد کو رکھنے کے انتظامات، خواتین کے کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت اور گرفتاری، تلاشی اور فوجداری تحقیقات کے دوران خواتین کو حاصل قانونی تحفظات جیسے معاملات اٹھائے گئے ہیں۔ اس عرضی کو ٹرانس جینڈر افراد (حقوق کے تحفظ) ترمیمی قانون، 2026 کی دفعات کو چیلنج کرنے والی دیگر عرضیوں کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ ان دفعات میں ٹرانس جینڈر شناخت کو تسلیم کرنے سے متعلق تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ عرضی گزار تنظیم کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل اکھل سبل نے کہا کہ یہ عرضی ایک خواتین کی تنظیم نے دائر کی ہے اور اس میں خواتین کے حقوق پر قانون کے ممکنہ اثرات کا معاملہ اٹھایا گیا ہے، اس لیے یہ ایک الگ نقطۂ نظر پیش کرتی ہے۔

سبل نے کہا، ’’ہماری تشویش ان آئینی اور قانونی مراعات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات سے متعلق ہے جو خاص طور پر حیاتیاتی خواتین کے لیے دستیاب ہیں۔ ان تحفظات کو برقرار رہنا چاہیے اور ان میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ ٹرانس جینڈر افراد کو بھی مساوی حقوق اور سہولتیں ملنی چاہئیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان حقوق کے استعمال سے حیاتیاتی خواتین کے لیے مخصوص تحفظات کی حدود متاثر ہو سکتی ہیں؟‘‘ بنچ نے کہا کہ قانون کی دفعات کی آئینی اور قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں میں ان معاملات پر پہلے ہی غور کیا جا رہا ہے۔

جسٹس باگچی نے خبردار کیا کہ اسی نوعیت کی مزید عرضیاں دائر کرنے سے عدالتی کارروائی میں تاخیر ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب پہلے سے زیر سماعت عرضیاں سماعت کے لیے تقریباً تیار ہیں۔ تاہم، سبل نے کہا کہ ان کی عرضی پہلے سے زیر سماعت عرضیوں کی محض تکرار نہیں ہے، بلکہ اس میں خواتین کے حقوق سے متعلق ایک الگ پہلو اٹھایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عرضی گزار کے دلائل میں وزن ہو سکتا ہے، لیکن یہ معاملہ پہلے ہی عدالت کے زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی عرضی سے جاری عدالتی کارروائی میں ایک الگ نقطۂ نظر سامنے آئے گا۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ حکومت متعلقہ عرضیوں کے سلسلے میں اپنا جواب تیار کر رہی ہے اور موجودہ عرضی میں اٹھائے گئے خدشات پر بھی اپنا موقف پیش کرے گی۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل نے صنفی شناخت اور جنس کی بنیاد پر مخصوص سہولتوں اور تحفظات تک رسائی سے متعلق سوالات اٹھائے۔ ان میں خواتین کے کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت، خواتین کی جیلوں میں رکھنے کے انتظامات، خواتین کے بیت الخلاؤں کے استعمال اور ان قانونی تحفظات کا ذکر کیا گیا جن کے تحت بعض حالات میں خواتین کی تلاشی خاتون پولیس اہلکار کے ذریعے لی جانی چاہیے یا ان کے بیانات خاتون پولیس افسر کو درج کرنے چاہئیں۔

انہوں نے ایک فرضی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کسی جرم کا ملزم خود کو خاتون بتاتا ہے تو غروب آفتاب کے بعد خواتین کی گرفتاری پر عائد پابندی اس پر کس طرح لاگو ہوگی۔ سالیسٹر جنرل نے کہا کہ معاملہ ٹرانس جینڈر شناخت اختیار کرنے کے حق کا نہیں، بلکہ اس شناخت کے ساتھ منسلک قانونی حقوق اور تحفظات کے اثرات کا ہے۔ سبل نے ایک بار پھر واضح کیا کہ عرضی گزار تنظیم ٹرانس جینڈر شناخت کے حق کی مخالفت نہیں کرتی۔ اس حق کا احترام کیا جانا چاہیے اور متعلقہ افراد کو مناسب سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ٹرانس جینڈر افراد کے لیے الگ ریزرویشن ہونا چاہیے یا انہیں پنچایتوں میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر دعویٰ کرنے کا اہل سمجھا جانا چاہیے۔