نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو مغربی بنگال حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں سے ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کی اس عرضی پر جواب داخل کرنے کو کہا، جس میں انہوں نے اپنے پارلیمانی حلقے کرشن نگر کے دورے کے دوران مناسب سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ عدالت موئترا کی اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ نادیہ ضلع انتظامیہ کے افسران نے انہیں سرکٹ ہاؤس سے باہر نکلنے پر مجبور کیا، حالاں کہ ریاستی حکومت کی ملکیت والی اس عمارت میں ان کے لیے ایک کمرہ پہلے سے مختص کیا گیا تھا۔
جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے ریاستی حکومت اور مرکز کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وہ عرضی پر جواب داخل کریں گے۔ بنچ نے کہا، ’’ہم صرف اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے یکم ستمبر کا خط دیکھا ہے؟ اگر کوئی رکن پارلیمنٹ سرکٹ ہاؤس آتا ہے تو کیا اس کے لیے تین دن پہلے اطلاع دینا ضروری ہے؟‘‘ تشار مہتا نے بنچ سے درخواست کی کہ فی الحال عرضی پر نوٹس جاری نہ کیا جائے اور کہا کہ وہ اس معاملے میں جواب داخل کریں گے۔ عدالت نے جواب ایک ہفتے کے اندر داخل کرنے کی ہدایت دی، جس کے بعد عرضی گزار بھی ایک ہفتے کے اندر اپنا جواب داخل کر سکتی ہیں۔
بنچ نے کہا کہ اس کے بعد معاملے کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے عدالت میں مہوا موئترا کی جانب سے پیروی کی۔ موئترا نے 14 اگست کی رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکٹ ہاؤس کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے اور ان کے وہاں سے جانے سے انکار کرنے کے بعد ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ کرشن نگر سے رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر نادیہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر انہیں سرکٹ ہاؤس خالی کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش میں مداخلت کی درخواست بھی کی تھی۔ انہیں ریاستی حکومت کی ملکیت والے اس سرکٹ ہاؤس میں ابتدائی طور پر ایک کمرہ الاٹ کیا گیا تھا۔